فیض آباد دھرنا ایک بار پھر تحریک لبیک کی شرائط پر ہی ختم ہوا

شیئر کریں:

رپورٹ ایم اے چوہان

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے لیے دیا جانے والا
فیض آباد دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔

تحریک لبیک نے دو روز سے راولپنڈی اور جی ٹی روڈ سے اسلام آباد کو ملانے والی شاہراہ پر دھرنا دیا ہوا تھا۔
خبر والے نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ بعض شرائط و یقین دہانیوں کے ساتھ دھرنا اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

تحریک لبیک کا فیض آباد دھرنے کے جلد خاتمے کا امکان

کچھ ایسا ہی ہوا ہے تحریک لبیک کے مطالبات مان لیے گئے جس کے بعد رات گئے علامہ خادم
حسین رضوی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اس سے پہلے وفاقی حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ نے تحریک لبیک کے رہنماؤں سے مزاکرات
کیے اور چار نکاتی معاہدہ کیا۔
گو کہ علامہ خادم حسین رضوی سے وفاقی وزیر مزہبی نور الحق قادری مزاکرات کر چکے تھے۔

چار نکاتی معاہدہ ہے کیا؟

حکومت فرانس کے سفیر کو دو سے تین ماہ کے عرصہ کے اندر پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی کے
ذریعے ملک بدر کرے گی۔
حکومت اپنا سفیر فرانس میں تعینات نہیں کرے گی۔
فرانس کی مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائی کاٹ کیا جائے گا۔
گرفتار شدہ اسیران ناموس رسالت صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کو فی الفور رہا کیا جائے گا۔
بعد میں موجودہ مارچ کے حوالہ سے کوئی مقدمہ بھی قائم نہیں کیا جائے گا۔

اس معاہدہ میں توڑ پھوڑ اور پولیس اہل کار جو زخمی ہوئے ان کا کوئی زکر نہیں کیا گیا۔
اس چار نکاتی معاہدہ پر وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیر رٹائرڈ سید اعجاز شاہ، وفاقی وزیر مزہبی
امور پیر نورالحق قادری، کمشنر اسلام آباد عامر احمد اور تحریک لبیک کے رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں۔

معاہدہ کے بعد فیض آباد سے تمام لوگ پرامن طور پر منتشر ہو گئے اور اس طرح ایک بار پھر سے
تحریک لبیک کی شرائط پر معاہدہ ہوا۔

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے اتوار کو لیاقت باغ راولپنڈی سے
اسلام آباد تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔

اتوار کی شام تک مری روڈ میدان جنگ بنا رہا تھا پتھراؤ اور شیلنگ کے باوجود پنڈی سے ریلی
فیض آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

ہزاروں کی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں کی تعیناتی بھی لبیک تحریک کی ریلی نہ رک سکی۔
اس عمل نے بھی لوگوں کے زہنوں میں پہلے کی طرح اس بار کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
پاور گیم کے چکر میں کسی کا کچھ نہیں جاتا لیکن اسلام آباد اور پنڈی کے شہریوں زندگی
ضرور اجیرن ہو جاتی ہے۔


شیئر کریں: