حکومتی اداروں اور کارپوریشنز نے حکومت سے بھی زیادہ قرض سمیٹ لیا

شیئر کریں:

حکومتی اداروں اور کارپوریشنوں نے نئے قرضے لینے میں حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سوا دو سال میں قرضے 62 فیصد بڑھ گئے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2020 کے اختتام تک سرکاری اداروں اور کارپوریشنز کے قرضوں کا
مجموعی حجم 22 کھرب 70 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
27 ماہ میں سرکاری اداروں اور کارپوریشنوں نے مجموعی طور پر 877 ارب روپے کے نئے قرضے لیے۔
جون 2018 کے اختتام پر ان کے قرضوں کا حجم 13 کھرب 93 ارب روپے تھا۔

تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کے قرضوں میں 15 ہزار ارب روپے کا اضافہ کردیا

ستائیس ماہ کے دوران ان اداروں کے اندرونی قرضے 410 ارب 40 کروڑ روپے کے اضافے سے 14 کھرب
78 ارب 60 کروڑ روپے اور بیرونی قرضے 466 ارب 70 کروڑ روپے کے اضافے سے 7 کھرب 91 ارب 30
کروڑ روپے ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران بڑی کارپوریشنوں کے قرضوں میں تو اضافہ نہیں ہوا لیکن نسبتا چھوٹے ادارون
اور کارپوریشنوں نے قرض کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔

چار بڑے اداروں واپڈا، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل اور او جی ڈی سی کے مجموعی اندرونی قرضوں میں
اس دوران اضافے کی بجائے 65 ارب روپے کی کمی رکارڈ کی گئی۔
لیکن دوسرے حکومتی اداروں اور کارپوریشنوں نے مجموعی طور پر 475 ارب روپے کے نئے قرضے لے لیے۔


شیئر کریں: