مسلک اور فرقے کی بنیاد پر الیکشن لڑنے والوں کو نااہل قرار دے دیا جائے گا

Cm Gilgit Baltistan
شیئر کریں:

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے اپنے آفس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب
کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی مسلک اور فرقے کی بنیاد پر الیکشن لڑانے کی اجازت ہر گز نہیں دی۔

اگر کسی نے بھی اس طرح کی سیاست کی تو پھر اس کا سخت ایکشن لیتے ہوئے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے اسلام آباد میں اپنی مصروفیت سے متعلق بتایا کہ انتخابات کے حوالے سے سینٹ کی
قائمہ کمیٹی کو بریفنگ، ایم ڈی پرنٹنگ پریس سے ملاقات اور بیلٹ پیپرز کی منظوری دینی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بیلٹ پیپرز کی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔
سیکیورٹی کے لئے تین افسر اور 15 پولیس کے جوان ساتھ لے کر گیا اسلام آباد واپسی پر
کار حادثہ پیش آیا اور مجھے معمولی زخمی بھی آئے۔
انتخابات سے متعلق انہوں نے بتایا صاف شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کا انعقاد یقینی بنانے کےلئے تمام
ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔
ہم اس وقت جنگی حالات میں کام کررہے ہیں ہمارے کام پر تنقید کی جارہی ہے تعریف کوئی نہیں کرتا۔
چوبیس حلقوں کے آر اوز کو ہدایت کی ہے کہ 24 گھنٹے دفاتر کو کھلا رکھا جائے۔
کل آل پارٹیز کانفرنس بھی طلب کی ہے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنے اپنے مشورے دیں۔
الیکشن رولز کی خلاف ورزی پر 121 نوتس جاری کئے ہیں جن میں سے پی پی کو 41 اور ن لیگ کو جاری کیے۔

پی ٹی آئی کو 30 جے یو آئی کو 3 پی ایل کیو کو 6 اسلامی تحریک کو 5 اور 18 آزاد امیدواروں کو بھی
نوٹس جاری کئے گئے۔

ماحول خراب کرنے سے بہتر ہے سیاسی رہنما واپس چلے جائیں۔
دھاندلی کے الزمات ٹرمپ بھی لگاتے ہیں الزامات اور مخالفت سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا۔
وزیراعظم کے دورے کے دوران الیکشن ایکٹ کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔
پولنگ اسٹیشنز کے قیام کے متعلق انہوں نے کہا صوبے بھر میں اب تک ٹوٹل 1234 پولنگ اسٹیشن
قائم کئے گئے ہیں۔

415 پولینگ اسٹیشن انتہائی حساس اور 339 کو حساس قرار دیا گیا ہے ضروت پڑنے پر مذید پولنگ
اسٹیشن قائم کئے جائیں گے۔


شیئر کریں: