پرائیویٹ میڈیا کا گلا گھوٹنے کے بعد سرکاری پی ٹی وی بھی برائے فروخت، پاکستان کا مقدمہ کون لڑے گا؟

شیئر کریں:

حکومت نے سرکاری ٹی وی چینل پاکستان ٹیلی ویژن کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پی ٹی وی کی نجکاری کےلیے روڈ میپ تیار کرلیا گیا ہے اور نجکاری کی تجویز پر کام شروع ہوچکا ہے۔
کابینہ کی نجکاری کمیٹی تجاویز کا جائزہ لے گی اور نجکاری بورڈ ابتدائی تجاویز تیار کرے گا۔
پی ٹی وی کی زمینیں، آلات اور مشینری کی تفصیلات اکٹھی کی جائیں گی۔
جون 2021 تک پی ٹی وی کے اثاثوں کی تفصیلات جمع ہوں گی۔

چیئرمین اور ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا

پی ٹی وی کی پرائیوٹائزیشن تحریک انصاف حکومت کی طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے.
تحریک انصاف حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح نااہل لوگوں کو پی ٹی وی میں ملازمتیں دے کر نوازا.
ان لوگوں نے پاکستان کا غلط نقشتہ تک قومی چینل پر چلایا.
پس پردہ پالیسی کے تحت عمران خان نے حکومت میں آتے ہی میڈیا کو کمزور کرنا شروع کردیا
جس میڈیا کے کندھوں پر بیٹھ کر عمران خان مقبولیت کی بلندوں پر پہنچے تحریک انصاف نے اسی میڈیا کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا.

پی ٹی وی پر کشمیر کا غلط نقشہ نشر، 5 اعلی عہدیداروں برطرف کرنے کی سفارش

تحریک انصاف حکومت نے میڈیا مالکان سے مل کر صحافی دشمن پالیسیاں ترتیب دیں.
غیراعلانیہ سینسر شپ کے ذریعے مرضی خبریں چلوائی گئیں اور اپنے خلاف خبروں کو روکا گیا.
گزشتہ دوسال میں ریاست پاکستان کی پالیسیز کی وجہ سے ہزاروں صحافی اور میڈیا سے وآبستہ لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دو بیٹھے.

چیئرمین اور ایم ڈی پی ٹی وی کب تک عہدے پر رہیں گے؟

ففتھ جنریشن وار کا نام لے کر عوام کو جذباتی کرنے والی ریاست نے اسی جنگ کے اہم ہتھیار نیوز میڈیا کو انتہائی کمزور کردیا.
ملکی میڈیا کو کمزور کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت اپنے میڈیا پر پاکستان کے خلاف بھرپور زہر اگل رہا ہے لیکن پاکستانی میڈیا اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ بین الاقوامی امور پر بھرپور طریقے سے آواز اٹھانا تو دو یہ ملکی مسائل کو بھی اجاگر نہیں کر رہا ہے.

ففتھ جنریشن وار فیئر پاکستان پر مسلط کرنے کی سازشیں

میڈیا ریاست کا اہم ستون ہوتا ہے. اسے ریاست کے کان ، آنکھ اور زبان بھی کہا جاتا ہے.
پاکستان میں نہ سعودی عرب کی بادشاہت ہےاور نہ ہی چین کی کیمونیزم جو میڈیا کو کمزور کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں.
اگر ملکی میڈیا کو مزید کمزور کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا تقصان ریاست پاکستان کو ہی ہوگا.


شیئر کریں: