عمران خان کے بیانیے نے مسلم ممالک کو فرانس مخالف پلیٹ فارم دے دیا

شیئر کریں:

تحریر عقیل کریم ڈھیڈھی

نبی *کریم صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہمیں اپنی جان، ماں باپ، اولاد، رشتہ دار، مال، عزت، وطن اور پوری
دنیا سے زیادہ عزیز ہیں۔
آقاﷺ کی محبت، عقیدت سب سے مقدم اور سب سے افضل ہے۔

فرانسیسی مصنوعات کا بائی کاٹ کیوں نہیں؟

فرانس کے میگزین نے حال ہی میں آقائے نامدار پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کے خاکے شائع کئے
جس وجہ سے کئی مسلم ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا ہے-

ماہِ ربیع النور کے موقع پر فرانس کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت ایک جانی بوجھی سازش
اسلام کے خلاف کہی جاسکتی ہے۔
گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے خلاف کئی مسلمان ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا
بائیکاٹ شروع کر دیا گیا ہے
فرانسیسی صدرمیکروں نے کہا تھا کہ ہم یہ خاکے نہیں چھوڑیں گے۔


ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی ویڑن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سربراہِ مملکت کے بارے
میں کیا کہا جائے جو اپنے ہی ملک کے لاکھوں ایسے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک اِس لئے روا رکھے
ہوئے ہے کہ ان کا مذہب مختلف ہے۔
فرانسیسی صدر کو چاہئے کہ اپنے دماغ کا علاج کرائے۔
یورپ اسلام اور مسلم دشمنی کی اس بیماری سے جلد باہر نہ آیا تو پورا یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔
یورپ کا سیکولر ازم جھوٹ، جھوٹ اور صرف جھوٹ ہے۔

فرانس نے اپنے صدر کے متعلق ایک جملہ برداشت نہیں کیا تو مسلمان اپنی جانوں سے عزیز ہستی پیارے
نبی حضرت محمد صلی الله علیہ والیہ وسلم کی توہین کیسے گوارا کر سکتے ہیں؟

بعض‌حکومتیں بھی اسلاموفوبیا پھیلا رہی ہیں

یورپ میں اسلاموفوبیا کی جو نئی لہر آئی ہوئی ہے اس میں ان معاشروں کے انتہا پسند نظریات کے حامل
متشدد عناصر کے علاوہ کہیں کہیں حکومتیں بھی شامل ہیں۔
گستاخانہ خاکوں کا سلسلہ کئی سال پرانا ہے اور فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر ان کے احیا سے
اسلامو فوبیا کی نئی لہر اٹھانے کی کوشش کی ہے جو یورپی معاشرے بظاہر باہر سے بڑے
روا دار نظر آتے ہیں۔

وہ بھی مسلمانوں کے معاملے میں سخت متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں اور جب مسلمانوں کی مذہبی
آزادیوں کا معاملہ آتا ہے تو ان کی تاریک ادوار کی ساری عصبتیں جاگ اٹھتی ہیں۔
فرانس کس منہ سے گستاخانہ خاکوں کو آزادیءاظہار کا مظہر قرار دے سکتا ہے؟ جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث ہیں۔
مسلمانوں کو دبانے کے لئے بہت سے گروہ منظم ہونے لگے ہیں انفرادی طور پر بھی اشتعال انگیزی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
حجاب والی خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
صدر میکروں کو دماغی معائنے کے مشورے پر تو فرانسیسی حکومت سیخ پا ہو گئی لیکن گستاخانہ خاکوں پر انہوں نے جو قابل ِ مذمت رویہ اپنایا ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو جس طرح مجروح کیا ہے اس پر انہیں کوئی ندامت نہیں، مسلمان ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی جو مہم شروع کر دی ہے اسے منظم کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ احتجاج کے باقی طریقوں کو تو کھینچ تان کر دہشت گردی سے ملا دیا جاتا ہے۔
مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم پر اس طرح کا لیبل چسپاں کرنا ذرا مشکل ہے، اِس لئے گستاخانہ خاکوں کے خلاف مصنوعات کا بائیکاٹ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر یورپی حکومتیں مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے گستاخانہ خاکوں جیسے اقدامات کی حمایت کریں گی تو یہ ان ممالک کی مسلمان آبادی سے امتیازی سلوک کے مترادف ہو گا،جس کی جانب صدر اردوان نے بروقت توجہ دلائی ہے۔
گستاخانہ خاکوں کی حمایت پر اصرار دورِ جاہلیت کی جانب مراجعت کے مترادف ہے۔

Pic29-071
HYDERABAD: Oct29- A view of beautiful moon model with the name of Holy Prophet Hazrat Muhammad (Saw) associated with the celebrations of 12 Rabi-ul-Awal. ONLINE PHOTO by Nadeem Khawer

ماہ ربیع الاول میں سارا عالم روشن ہوا

ماہِ ربیع النور کے آتے ہی ہر طرف موسم بہار آجاتا ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
عاشقین میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
جب کائنات میں کفر و شرک اور وحشت کا گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، بارہ ربیع الاوّل کو مکہ مکرمہ
میں حضرت آمنہ کے گھر سے ایک ایسا نور چمکا جس نے سارے عالم کو روشن کر دیا، سسکتی ہوئی
انسانیت کی آنکھ جن کی طرف لگی ہوئی تھی۔

محسن انسانیت ﷺ تمام عالمین کے لئے رحمت بن کر جلوہ گر ہوئے۔
آپﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کے ساتھ ہی کفر و ظلمت کے بادل چھٹ گئے۔
کسریٰ کے محل پر زلزلہ آیا، چودہ کنگرے گرگئے، ایران کا آتش کدہ جو ایک ہزار سال سے شعلہ زن تھا وہ بجھ گیا۔
دریائے ساوَہ خشک ہوگیا، کعبے کو وجد آگیا اور بُت سر کے بل گر پڑے۔
یقیناً حضور انور ﷺ جہاں میں شاہِ بحر و بر بن کر جلوہ گر نہ ہوتے تو کوئی عید، عید ہوتی، نہ کوئی شب، شب برآت، بلکہ کون و مکان کی تمام تر رونق شان اس جانِ جہان محبوب رحمٰن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی دھول کا صدقہ ہے۔

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے امت مسلمہ کو یکجا کیا

فرانس کے گستاخانہ خاکوں کے خلاف وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فوری اور برجستہ احتجاج کیا ہے
اور امت مسلمہ کو یکجا ہونے کے لئے ایک خط تحریر کیا ہے جس سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے
اس احتجاج نے یورپی ممالک کو بروقت خبردار کیا ہے کہ وہ اسلامو فوبیا کی رو میں بہہ کر یورپ کے
دورِ تاریک کی جانب مراجعت نہ کریں اور اپنے ممالک میں روا داری کو فروغ دیں۔

اگر یورپی حکومتیں مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے گستاخانہ خاکوں جیسے اقدامات کی حمایت کریں گی تو یہ ان ممالک کی مسلمان آبادی سے امتیازی سلوک کے مترادف ہو گا،جس کی جانب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بروقت توجہ دلائی ہے۔
گستاخانہ خاکوں کی حمایت پراصرار دورِ جاہلیت کی جانب مراجعت کے مترادف ہے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس معاملے میں واضح اور دو ٹوک انداز میں فرانسیسی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ آگ سے نہ کھیلے، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس اقدام سے عالم ِ اسلام میں اخوت کی ایک فضا قائم ہوئی ہے اورامید کی جارہی ہے امت مسلمہ فرانس کے خلاف یکجا ہونے کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے جذبات کی عکاس ہوگی۔
مسلم اُمّہ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے امت مسلمہ کے ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونے کو بھرپور پذیرائی بھی ملے گی۔

مسلم ممالک کا بائی کاٹ تباہ کردے کا فرانس کو؟

فرانس کے خلاف مسلم ممالک کی بائیکاٹ مہم منظم ہونے سے فرانس کو یقینی طور سے تجارتی خسارہ ہوگا۔
2019 کے تجارتی اعدادوشمار کے مطابق مسلم ممالک کے بائیکاٹ کرنے والے ممالک میں سے ایک ملک قطر ہے جو فرانس سے چار ارب 30 کروڑ ڈالرز کی درآمدات کرتا ہے۔
گزشتہ سال فرانس نے کویت کو 58 کروڑ ڈالرز کی برآمدات کی ہیں اور متحدہ عرب امارات کو 27 کروڑ یوروز (32 کروڑ ڈالرز) کی برآمدات کی ہیں۔

فرانس کے تجارتی تعلقات دیگر عرب ممالک سے بھی قائم ہیں جن میں الجزائر، تیونس اور مراکش بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ڈیٹا بیس کے مطابق 2019 کے دوران فرانس سے پاکستان کی درآمد 420.09 ملین امریکی ڈالر تھی۔
موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے فرانس پر تنقید سے تمام مسلم ممالک کو فرانس کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع ملا ہے تاکہ تمام مسلم ممالک متحد ہو کر پاکستان سمیت پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کا بھرپور دفاع کیا جا سکے کیونکہ اب مسلئہ پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کا ہے جو اپنے لیئے ایک مضبوط پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں۔

عکسِ نورِ خداوند ہے فراستِ مومن میں عیاں
خاموشیِ مومن میں چھپی اک فکر کی گہرائی ہے


شیئر کریں: