بھارت میں “لوجہاد” کی صورت “اسلاموفوبیا” کی نئی لہر

شیئر کریں:

بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ نیا نہیں بس طریقہ کار وقت کے ساتھ
ساتھ تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس بار مسلمانوں کو ہندو لڑکیوں سے شادیاں کرنے پر نفرت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اس نفرت انگیز تحریک کو مودی حکومت اور ریاستی عناصر کی حمایت حاصل ہے۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندو جماعتوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا بھی مسلمانوں کے
خلاف زہر اگل رہا ہے۔

مسلمانوں کے خلاف اس نفرت کی تحریک کو “لو جہاد” کا نام دیا جارہا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف لوجہاد کا لفظ کوئی نئی اصطلاح نہیں۔
ہندو جماعتوں کو 2018 میں اس وقت پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب بھارت کی سپریم کورٹ نے مسلمان
نوجوانوں کو ہندو لڑکیوں سے نکاح کرنے اور ان کی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کی اجازت دی۔

ہندو جماعتوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ مسلمان لڑکوں کو ہندو لڑکیوں سے شادی
کرنے سے روکا جائے اور ہندو لڑکیوں کے مسلمان ہونے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ کسی بھی مذہب کی لڑکی یا لڑکا اپنی مرضی سے نہ صرف دوسرے مذہب
کی لڑکی یا لڑکے سے شادی کرسکتے ہیں بلکہ اپنا مذہب بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ سے پسپائی کے بعد ہندو جماعتوں نے مسلمانوں کے خلاف پراپگنڈا شروع کردیا۔
اور لوجہاد کے نام سے ایک نفرت کی تحریک کا آغاز کیا جیسے بھارتی میڈیا ہوا دے رہا ہے۔

لوجہاد کی نئی لہر کیسے اٹھی؟

لوجہاد کی حالیہ لہر بھارتی جیولری کی کمپنی کے اشتہار کے بعد شروع ہوئی۔
جیولری کمپنی نے اشتہار میں ایک ہندو لڑکی کی مسلمان خاندان میں شادی دیکھائی گئی۔
اشتہار میں دیکھایا گیا کہ کس طرح ہندو لڑکی مسلمان خاندان میں خوش ہے۔

اس اشتہار کے بعد ہندو تنظیمیں اشتعال میں آگئیں۔ انتہا پسند نظریے کو فروغ دینے والا میڈیا پر
بھی لوجہاد کے نام سے ٹرانسمیشنز شروع کردی گئیں۔
بلآخر جیولری کمپنی ان انتہا پسندوں کے سامنے نہیں ٹھیر سکی اور اسے اپنا اشتہار اتارنا پڑا۔
یہ نئی لہر ایسے موقع پر اٹھی جب فرانس نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے کے لیے
“اسلاموفوبیا” کا ہتھیار استعمال کیا۔
بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 14 فیصد ہے اور 74 فیصد ہندو ہیں۔
اکثریت میں ہونے کے باوجود بھارتی ہندو مسلمانوں سے خوف زدہ ہیں اور آئے روز مسلمانوں کے
خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔
بھارتی حکومت، ہندو تنظیموں اور ہندو نواز میڈیا کی اس قسم کی مہم جوئیوں کے خلاف انسانی
حقوق کی عالمی تنظیمیں مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کر چکی ہیں۔

بھارت کو چاہیے کہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو کھلے دل سے تسلیم کرے اور ان کے حقوق کا
تحفظ کرے تاکہ معاشرے میں امن اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو سکے۔


شیئر کریں: