اسلاموفوبیا پھر سر اٹھانے لگا اور مسلمانوں‌ کو آپس میں‌ لڑنے سے فرست نہیں

شیئر کریں:

اسلامو فوبیا نے ایک بار پھر سے دنیا بھر میں سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔
انتہا پسندوں کے ساتھ ساتھ مغرب کی ترقی یافتہ ریاستیں بھی مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہی ہیں۔
مہذب معاشرے کے دعویدار فرانس نے حکومتی سطح پر مسلمانوں کو اپنی “کند ذہنیت” دیکھا دی۔

گستاخانہ خاکے کیوں شائع کیے گئے؟

معاملہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ ہفتوں فرانس کے متنازع میگزین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والیہ وسلم
کے گستاخانہ خاکے شائع کیے۔
میگزین کے اس عمل کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے ردعمل بنتا تھا اور جو اپنی شدت
کے ساتھ سامنے بھی آیا۔
مسلمانوں کی طرف سے ردعمل ایک فطری عمل تھا کیوں کہ آزادی اظہار کے نام پر کائنات کی سب سے
مقبول ترین ہستی کی شان میں گستاخی کی گئی۔
فرانس سمیت دنیا بھر کو بخوبی علم ہے کہ مسلمان اپنے نبی سے کس قدر لگاو اور محبت رکھتے ہیں۔
ان خاکوں کے بعد مسلمانوں نے پر امن ردعمل دیا اور فرانس کی حکومت کو احتجاج ریکارڈ کروایا۔

فرانس کی حکومت مسلمانوں کے احتجاج کو کسی خاطر میں نہ لائی اور بتایا گیا کہ فرانس میں مکمل
آزادی رائے ہے اس لیے حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔
اس طرح حکومت کے طر عمل نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی توہین کا انتہا پسندوں
کو جواز فراہم کر دیا۔

اسکول ٹیچر کا سر قلم

گزشتہ دنوں فرانس کے ایک اسکول میں استاد نے ایک بار پھر دوجہاں کی بابرکت ہستی اور پیغمبر
انسانیت کے توہین آمیز خاکے دیکھائے۔
اس عمل کو کسی بھی اہل ایمان کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک طالب علم اشتعال میں آگیا اور اس نے پیغمبر اسلام کی توہین کرنے پر
انتہا پسند معلم کا سرقلم کردیا۔
طالب علم کے اس فطری رد عمل نے فرانسیسی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔
انتہاپسندانہ سوچ کو مزید فروغ دینے کے لیے پورے فرانس میں مسلمانوں کے خلاف کریک
ڈاون کا آغاز کردیا گیا۔
فرانس کے کونے کونے میں مسلمانوں کو پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے قید کیا جانے لگا۔

فرانسیسی صدر کمیرون میکرون نے مسلمانوں کے خلاف ایک بار پھر زہر اگلا۔
ترکی کہاں خاموش رہ سکتا تھا اس نے بھی سخت ردعمل دیا اور فرانسیسی صدر کو “پاگل”
قرار دے ڈالا۔
بدقسمتی سے مسلمانوں کی قیادت کرنے والے عرب ممالک کی جانب سے سوائے کویت کے
کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ترکی مسلسل کشمیر اور فلسطین سمیت تمام مسلمانوں کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔

فرانس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی توہین سے سب ہی مسلمانوں کے جذبات مجروع
ہوئے ہیں لیکن اس پر عرب ممالک کی خاموشی بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کافی ہے؟

مشرق وسطی میں سرکاری سطح پر احتجاج کے بجائے محض فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی
مہم پر اکتفا کیا جارہا ہے۔
“بائی کاٹ فرانس” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔
کویت کے پچاس سے زائد سپر اسٹوز نے بطور احتجاج فرانسیسی مصنوعات کا بائی کاٹ کر دیا ہے۔
فرانسیسی مصنوعات سے لدے ہوئے ریک اب خالی ہو چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کی وجہ سے اب لوگ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔

یاد رہے فرانس میں اسلام انتہائی تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے لوگ اسلام کی طرف
مائل ہورہے ہیں۔
اس صورت حال میں انتہاپسند عیسائی مسلمانوں کے لیے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں اور ایک بار پھر
اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کا اسلاموفوبیا مخالف موقف

پاکستان بھی اسلامو فوبیا کے خلاف بھرپور آواز بلند کرچکا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال اپنے اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران اسلامو فوبیا کے خلاف
آواز بلند کی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ آزادی رائے کے نام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والیہ وسلم
کی توہین کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والیہ وسلم سے مسلمانوں کی روحانی اور جذباتی وابستگی ہے۔
مغرب کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات مجروع کرے۔
دنیا کا کوئی بھی مذہب انتہاپسندی اور دہشت گردی کی ترغیب نہیں دیتا لیکن فرانس کی حکمت عملی
پورے یورپ کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔

اب مسلمان ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ آپس کے اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر جنگیں مسلط کرنے
کے بجائے اصل دشمنوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے انسان اور مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔


شیئر کریں: