کپاس کی ملکی پیداوار میں رکارڈ کمی

شیئر کریں:

گندم اور چینی کے بعد کپاس کی ملکی پیداوار میں بھی رکارڈ کمی ہوئی ہے،
دو سالوں میں ملکی پیداوار آدھی سے بھی کم رہ گئی،،
ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو سے تین ارب ڈالر تک کی روئی درآمد کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

پاکستان کاٹن جنیرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں
میں 15 اکتوبر تک مجموعی طور پر 26 لاکھ 88 ہزار 385 بیلز کے برابر پھٹی لائی گئی،،
جو گزشتہ سال 2019 سے 39.5 فیصد،،
جبکہ سال 2018 کی پیداوار سے 52 فیصد کم ہے،،
گزشتہ سال اس عرصے تک 44 لاکھ 40 ہزار بیلز کے برابر پھٹی مارکیٹ میں لائی گئی تھی،،
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 12 لاکھ 13 ہزار 908 بیلز کے برابر پھٹی لائی گئی،،

جو گزشتہ سال سے 41 فیصد کم ہیں،، سندھ کی فیکٹریوں میں 14 لاکھ 74 ہزار 477 بیلز کپاس لائی گئی،،
جو گزشتہ سال سے 38 فیصد کم ہیں،،
رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل ملوں نے اب تک جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 20 لاکھ 7 ہزار 524 بیلز روئی خریدی ،،
جو گزشتہ سال سے 37 فیصد کم ہے،، جبکہ ایکسپورٹرز نے 17 ہزار بیلز خریدیں،،
جو گزشتہ سال سے 54 فیصد کم ہے،،
کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث ملک میں اب تک مجموعی طور پر 564 جننگ فیکٹریوں نے ہی کام شروع کیا،،
گزشتہ سال اس وقت تک ساڑھے سات سو کے قریب جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہو چکی تھیں۔۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق انڈسٹری کو ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو سے تین ارب ڈالر تک کی روئی درآمد کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے،، اب تک کی صورتحال کے مطابق کپاس کی ملکی پیداوار 86 لاکھ بیلز کے حکومتی اندازوں سے بھی کافی کم رہنے کا امکان ہے،، تاہم اگر ہدف پورا ہو بھی جائے تو یہ پیداوار بھی 21 سال کی کم ترین پیداوار ہو گئی۔۔


شیئر کریں: