یوفون کی “جیتو پاکستان” کے نام پر شہریوں سے لوٹ مار

شیئر کریں:

تحریر بتول فاطمہ

صبح سویرے موبائل فون کا بجنا اچھا نہیں لگتا کیونکہ بیل نیند خراب کر دیتی ہے۔
موبائل کی بیل نے تو میری آج کی صبح بہت ہی خوش گوار اور حیران کن کر دی۔
میں نے نیند میں ہی کال لی اور سلام کا جواب دیا، بتایا گیا کہ میں یوفون سے کال کر رہا ہوں۔
خود کو یوفون کا نمائندہ ظاہر کرنے والے نے اس 03340159044
نمبر سے کال کی۔
اپنا نام بتائے بغیر دیہاتی لہجہ میں اس نوجوان نے مجھے مبارک باد او کہا میں کراچی ہیڈ آفس
سے بات کر رہا ہوں۔
قرعہ اندازی میں آپ کا نام نکل آیا ہے جس میں 5 لاکھ روپے نقد اور ایک ٹیوٹا کرولا کا انعام نکال ہے۔

پھر اس نوجوان نے میری کسی لڑکی سے بات کرائی جو مناسب انداز سے اردو میں بات بھی
نہیں کرپارہی تھی۔
بار بار وہ پیاری بہن اور سر کہہ کر مخاطب کرتی رہی جسے ٹرپل ون کا مطلب بھی سمجھ
نہیں آرہا تھا۔
اس دوران لڑکی کے ساتھ مرد کی آواز بھی آرہی تھی اور کئی فون بج رہے تھے۔

جب انہیں این آئی سی کا نمبر غلط بتایا تو انہوں نے میرا اصل نام اور شناختی کارڈ نمبر بھی درست بتایا۔
اور تو اور میرے موبائل کا بیلنس پانچ روپے تھا وہ درست بتایا پھر کہا اس میں مزید بیلنس جلدی سے ڈلوائیں۔
اس بات نے مجھے حیران کر دیا کہ ان لوگوں کو کیسے میرے نمبر اور این آئی سی تک رسائی حاصل ہوئی۔

بات ہورہی تھی کہ اس شخص نے پھر دوبارہ لڑکی سے بات کرائی جس نے بتایا بائیو میٹرک سے سب
کچھ ہمارے سامنے ہے۔

مختصر مختصر دورانیے کی کئی کالیں پھر کچھ دیر بعد فون آتا ہے کہ ہم یوفون اسلام آباد آفس
کلثوم پلازہ سے بات کر رہا ہوں۔
عجیب سے لہجہ یعنی نہ اردو ٹھیک اور نہ ہی پنجابی، یکدم بولتا ہے کہ لیں جی ان سے بات کریں۔
ہیلو جی میری بہن میں بول رہی ہوں اوہ نہیں میرا متبل ہے میں بول رہا ہوں۔

لڑکا بن کر میں نے کہا بولیں جی آپ کا جیتو پاکستان میں انعام نکلا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے میں
اسلام آباد کے آفس خود آرہی ہوں تو کہا نہیں جی کیوں آنا ہے ہم بتا رہے ہیں نا۔
اوہ نہیں بہن جی آپ پہلے اپنا نام تو بتاو اور شناختی کارڈ نمبر تو ہو گا وہ دو۔
اچھا ہاں پھر آدمی آگیا کال پر اور بولا جی آپ نا نام بتاو میں نے بولا قیصر طاہر۔
کہتا ہے اچھا اب نمبر بتاو میں نے پھر کہا اب تو تصدیق ہو گئی ہو گی تو بولتا ہے نا جی نمبر بتاو
اب میں نے نمبر بتایا 334111یہی بولا تھا تو کہا یہ پاکستان کا nic نمبر یہ نہیں ہوتا پاگل بنا
رہی ہوں تین دفعہ بولو انعام نہیں چاہیے میں جواب دینے ہی والی تھی کے بڑ بڑ کر کے کال کاٹ دی۔

کچھ منٹ بعد پھر کال آئی میں نے نہیں اٹھائی تو بند ہوگئی۔
کیسا بے وقوف بناتے ہیں یہ لوگ جو معصوم ہوں وہ تو اپنا سب کچھ بتا دیتے ہوں گے انعام کی خوشی میں۔
لیکن میں معصوم نہیں ہوں اور نہ لالچی ہوں۔

آخر ادارے کہاں ہیں؟

اب سوال یہ ہے کہ ہمارے ادارے کیا کر رہے ہیں؟
پاکستان ٹٰیلی کمیونیکیشن اتھاڑی اور سائبر کرائم کے ادارے کیا کر رہے ہیں؟
سب سے بڑھ کر جن موبائل کمپنیوں کے نام پر یہ سادہ لوح لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں وہ
کمپنیاں کیوں خاموش ہیں؟
جدید ترین نظام کے باوجود اداروں کی جانب سے ایسے لوگوں پر ہاتھ نہ ڈالنا خود کئی سوالات
کو جنم دے رہا ہے۔


شیئر کریں: