پارٹی پالیسی پر کس نے نواز شریف کو “ڈکٹیشن” دینا شروع کر دیا؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

مریم نواز نے پارٹی “ٹیک اوور” کر لی والد کو بھی “ڈکٹیشن” دینا شروع کر دیا۔
لیگی رہنما خواجہ آصف نے بھی مبینہ طور پر ‘ایکسپوز ہوجانے کے بعد’ مریم نواز کے آگے ہتھیار
ڈالتے ہوئے عملاً اس کی قیادت قبول کرلی۔

مریم نواز کی ری لانچنگ کا منصوبہ

“نون لیگ” کا 16 اکتوبر کا جلسہ دراصل مریم نواز کی عملی سیاست میں باضابطہ “ری لانچنگ”
کے لئے رکھا گیا۔
“پی ڈی ایم” نے عوام کو موبلائز کرنے کی غرض سے رکھے گئے جلسوں کے حوالے سے راولپنڈی
اسلام آباد کا میدان اپنی احتجاجی تحریک کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔

دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کی آرمی چیف کے ساتھ 2 خفیہ ملاقاتوں کا انکشاف ہوا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے خفیہ ملاقاتیں کیں؟

ذرائع کے مطابق جمعیت العلمائے اسلام (جے یو آئی) “ف” کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 20 ستمبر
کو پیپلز پارٹی کی دعوت پر ہونے والی اس آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جی ایچ کیو میں آرمی چیف
جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ 2 ملاقاتیں کی ہیں جن میں ان کی تواضع چھوٹے سموسوں اور
سینڈ وچ وغیرہ سے کی گئی البتہ مولانا کی طرف سے “پی ڈی ایم” کا “کمانڈر” منتخب ہونے کے
بعد حساس اداروں کی نمائندہ شخصیات کے ساتھ ایک ملاقات ان کے خصوصی اعتماد کے حامل
سینیٹر عبدالغفور حیدری اور سینیٹر اکرم درانی نے کی جوان “جے یو آئی (ف)” کے سینیٹر
طلحہ محمود کے چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس میں 4 روز قبل ہوئی تھی۔

جمعرات کو لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کے مشاورتی اجلاس سے چند
گھنٹے قبل مولانا فضل الرحمن کا جاتی عمرہ جا کر مریم نواز سے ملاقات کرنا ایک خاص مقصد کے تحت تھا۔
ذرائع کے مطابق لندن میں مقیم “نون لیگ” کے قائد نواز شریف کی خواہش پر مولانا کی مریم نواز سے
ملاقات دراصل “پی ڈی ایم” کے سربراہ کی مسلم لیگ (ن) کی سربراہ سے ملاقات تھی جو یکایک بطور
خاص اسی مقصد کے تحت “نون لیگ” کے پارلیمینٹیرین حضرات کے اکٹھ سے چند گھنٹے قبل رکھی گئی
تھی تاکہ پارٹی صفوں میں یہ تاثر دیا جاسکے کہ مسلم لیگ (ن) کو بطور سربراہ اب مریم نواز نے “ٹیک اوور” کرلیا ہے اور وہی اب پاکستان میں “نون لیگ” کو لیڈ کریں گی۔
اس ملاقات میں میزبان اور مہمان کی وفود کے ہمراہ شرکت کا مقصد بھی یہ واضح کر دینا تھا کہ پاکستان میں پوری لیگی قیادت مریم نواز کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑی ہے جس میں شاہد خاقان عباسی سے لے کر خواجہ آصف تک ، “نون لیگ” کے لگ بھگ تمام مرکزی رہنما شامل تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی “اے پی سی” سے قبل جی ایچ کیو میں “پارلیمانی لیڈرز کے ساتھ گلگت بلتستان کے سیکیورٹی ایشوز پر مشاورت ” کے نام پر اپوزیشن رہنماؤں کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ جو ملاقات ہوئی تھی۔
اس میں ہونے والی بات چیت کے دوران جنرل باجوہ نے خواجہ آصف سے کہا “کیا 2018 کے الیکشن کے موقع پر آپ نے مجھے فون کرکے یہ نہیں کہا تھا کہ میرے حلقے سے مجھے ہر صورت کامیاب کروایا جائے” یوں طاقتور ترین شخصیت نے خواجہ آصف کو ایک طرح سے “ایکسپوز” کیا جس کی خبر مریم نواز کو ایک مصدقہ انکشاف کے طور پر ملی کہ خواجہ آصف ابتداء ہی سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خفیہ رابطے میں ہیں۔
لہٰذا مریم نواز کے آگے”بے نقاب” ہوجانے کے باعث خواجہ آصف بالآخر مریم نواز کی قیادت قبول کر لینے پر مجبور ہوئے جو گزشتہ کچھ عرصے تک مریم نواز گروپ کے حریف شہباز شریف کے “مفاہمت باز” گروپ سے جڑے ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق جمعرات کو لاہور میں لیگی پارلیمینٹیرین حضرات کے اجتماع کے بعد مریم نواز نے اپنے والد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو فون کر کے ایک طرح سے “ڈکٹیٹ” کرتے ہوئے کہا “آپ نے یہ جو بیانیہ بنایا ہے کہ ‘ہماری لڑائی وزیر اعظم عمران خان سے نہیں ، اسے لانے والوں سے ہے’ اب آپ نے اس پر قائم اور ڈٹے رہنا ہے۔

دوسری طرف مریم نواز کے “نون لیگ” کی ‘نئی قائد’ کے طور پر “لانچنگ ” کی غرض سے پہلے جلسے کے لئے گوجرانوالہ کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ اس اکیلے ڈویژن سے مسلم لیگ (ن) کے 6 ایم این اے اور 14 ایم پی اے جیتے ہوئے ہیں تاہم نواز شریف کی جانشین کے طور پر پاکستان میں “نون لیگ “کی قیادت سنبھالنے کے لئے بے تاب مریم نواز کے 16 اکتوبر کے جلسے کو جو پی ڈی ایم کے مجوزہ پہلے عوامی جلسے سے بھی پہلے شیڈول کیا گیا۔
ہر ممکن حد تک ایک تہلکہ خیز پاور شو بنانے کی غرض سے گوجرانوالہ ڈویژن کے علاوہ فیصل آباد ڈویژن اور لاہور ڈویژن سے بھی پارٹی کارکنوں کو لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی عہدیداروں اور ایم این اے ، ایم پی اے صاحبان کی مریم نواز کے شو میں گجرات ، منڈی بہاؤ الدین ، قصور ، اوکاڑہ ، حتیٰ کہ ساہیوال تک سے کارکنوں کا لانے کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔
اب تو مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کے اس جلسے کو “پی ڈی ایم” کا جلسہ ڈیکلیئر کروالیا ہے۔
جنہوں نے ملاقات کے اگلے روز جے یو آئی (ف) پنجاب کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مریم نواز کے جلسے میں کارکنوں کی بھرپور شرکت کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
ان تمام علاقوں کی مجموعی آبادی 6 کروڑ بنتی ہے یوں دوسرے لفظوں میں مریم نواز کے شو کے لئے آدھا پنجاب متحرک کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ “پی ڈی ایم” نے گوجرانوالہ کے اس جلسے کے علاوہ ملتان اور لاہور میں جلسے رکھتے
ہوئے جنوبی اور وسطی پنجاب کو تو cover کیا ھے تاہم جہلم ، چکوال ، اٹک سے راولپنڈی تک
شمالی پنجاب کی پوری پٹی میں کوئی جلسہ نہیں رکھا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن الائنس نے ناردرن پنجاب کا میدان سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نظر انداز کیا ہے۔
اس لئے کہ “پی ڈی ایم” کے 13 دسمبر کو لاہور میں آخری مجوزہ جلسے تک اہداف حاصل نہ ہوئے اور
لانگ مارچ کی صورت میں اسٹریٹ ایجی ٹیشن یا سڑکیں بھرنے کی ضرورت پڑی تو پنڈی اسلام آباد
کا میدان تب “سجایا” جائے گا۔


شیئر کریں: