کربلا والوں کی یاد میں دوسری بڑی مشی پاکستان یا نائیجیریا میں ہوتی ہے؟

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

شہدائے کربلا سے عقیدت اور محبت کا اظہار ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں کرتا ہے۔
چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر عراق میں دنیا کا سب سے بڑا مزہبی اجتماع ہوتا ہے۔
عراق کی سرحد کے ساتھ جڑے ممالک سے بھی قافلے مشی کرتے ہوئے کربلائے معلی پہنچتے ہیں۔
اس مرتبہ کورونا وائرس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ایسا ممکن نہ ہوسکا لیکن پھر بھی محدود پیمانے
پر زائرین نے عقیدت کا اظہار ضرور کیا۔

مشی کیا ہے یہ کیوں کی جاتی ہے؟


چہلم (نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی شہادت کو چالیس روز مکمل ہونے) پر “مشی”
یعنی پیدل چل کر روضہ امام حسین علیہ السلام پر حاضری دینا۔

یہ سلسلہ کافی قدیم ہے یعنی اکسٹھ ہجری میں دس محرم کو معرکہ حق و باطل کے بعد ہی سے شرو ع ہو گیا تھا۔

دس محرم اکسٹھ ہجری کو جب یزیدی فوج نے آل رسول اور اصحاب رسول کی 72 رکنی قلیل فوج کو شہید کر دیا۔
حق پرستوں کے سر نیزے پر بلند کر دیے اور سیدانیوں کے خیمے جلا دیے پھر اہل حرم کو قیدی بنا لیا گیا۔
اب یزیدی فوج خانوادہ رسالت کو پابند سلاسل کر کے کربلا سے شام لے چلے۔

بے کجاوا اونٹوں پر 800 سے زائد کلو میٹر کا فاصلہ کس طرح طے کروایا گیا اس کی تاریخ
انسانیت میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
ایک سال بعد قید سے رہائی پر اہل حرم قافلے ہی کی صورت میں کربلا آئے اور عزاداری کی۔
اسی ظلم و جور اور غیر انسانیت سوز واقعہ کی یاد میں نجف اشرف سے کربلائے معلی تک
مشی کا سلسلہ شروع ہوا۔

مشی عراق سے دنیا بھر میں‌کیسے پھیلی؟

 

اب دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں حق پرستوں سے محبت کرنے والوں نے اپنے اپنے ممالک میں
مشی شروع کردی ہے۔


اس کا دائرہ کار ہر سال بڑھتا ہی چلا جارہا ہے عراق میں کروڑوں زائرین مشی کا شرف حاصل کرتے ہیں۔
دنیا میں اس سے بڑا اجتماع کسی نے نہ دیکھا ہو گا اس کے بعد دوسرا مزہبی اجتماع بھی مشی ہی
کا “نائیجیریا” میں ہوتا ہے۔

نائیجیریا کی حکومت اس مشی سے خوف زدہ ہو گئی اور اس نے 2015 میں انقلابی رہنما
آیت اللہ شیخ ابراہیم زکازکی کو اہلیہ سمیت گرفتار کرلیا۔

شیخ ابراہیم کی گرفتاری کے باوجود حکومت اہل ایمان کا ایمان کمزور نہ کرسکی، اب بھی اسی
طرح سے عزاداری اور مشی کی جارہی ہے۔
20 کروڑ سے زیادہ آبادی والا ملک نائیجیریا دنیا ساتواں اور افریقا کا آبادی کے لحاظ
سے سب سے بڑا ملک ہے۔
مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والے اس ملک کی شمالی ریاستوں میں‌ شیعہ بڑی تعداد
میں‌ آباد ہیں اور ان میں خوجہ شیعوں کمیونٹی کا کافی حصہ ہے ۔

پاکستان کے شہر شہر مشی کیوں‌ ہونے لگی؟

کہتے ہیں تیسرے نمبر پر سب سے بڑی مشی ایران سے عراق آنے والے زائرین کی ہوتی ہے۔

اس کے بعد اگر بات کی جائے پاکستان کی تو کورونا کی وجہ سے بڑی تعداد میں زائرین کربلا نہ جا سکے۔
اس سال 2020 میں پاکستان کے مختلف شہروں باالخصوص جیکب آباد، چکوال اور دیگر شہروں
میں ہزاروں زائرین نے کربلا والوں کی یاد میں مشی کی۔

دہشت گردی اور بم دھماکوں کی دھمکیوں کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ حق پرستوں سے
محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں اگر آپ حق پر ہیں تو پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کے ایمان کو کمزور نہیں کرسکتی۔

کیا امام حسین علیہ السلام کو ماننا کافی ہےِ؟

اور اگر یہ محض تہوار، دکھاوا، ریاکاری اور سماج کے ملنے ملانے کا اجتماع ہے تو پھر
اس پریکٹس سے جسم کو تھکانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
لوگوں کو پریشان کر کے اور ان کے واجبات ادا کیے بغیر ہر سال کربلا جا کر مشی کرنے
کا بھی کوئی فائدہ نہیں‌ ہو گا۔

یاد امام حسین علیہ السلام میں کی جانے والی “مشی” کا مقصد حق پرستی کی راہ میں سب
کچھ قربان کرنے کا اعلان ہے۔

اسی لیے کہتے ہیں محبت دو طرفہ ہونی چاہیے صرف امام حسین علیہ اسلام کو ماننا کافی نہیں۔
محبت اس وقت مکمل ہو گی جب آپ فرمودات امام عالی مقام کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔


شیئر کریں: