مولانا فضل الرحمن نے کیپٹن صفدر کی سازش ناکام بنا دی

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

سنجیدہ سیاسی حلقوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ “نون لیگ” کے قائد نواز شریف نے ایک
طرف تو اہم عسکری شخصیات اور خفیہ ایجنسیوں سمیت فیصلہ کن کردار کی حامل قوتوں کے ساتھ
مکمل طور پر رابطے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نواز شریف کون سی سیاست کر رہے ہیں؟

دوسری طرف مریم نواز کے قریبی حلقے میں شامل پاکستان میں موجود ایک پارٹی رہنما کو اس پابندی
سے آزاد رکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملک کی سب سے بڑی اور مقبُول اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق
وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ ہفتے پاکستان میں پارٹی رہنماؤں کے لئے آئندہ جرنیلوں اور بے چہرہ
مقتدر حلقوں کے نمائندوں کے ساتھ اپنی پیشگی اجازت کے بغیر ملاقات نہ کرنے کی دوٹوک ہدایات جاری کیں۔
تاہم جنرل (ر) غلام عمر کے بڑے بیٹے سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر کو اہم خاکی شخصیات سمیت
عسکری حلقوں سے رابطو‍ں ، ملاقات اور اپنے نمائندے کے طور پر بات چیت کی اجازت دی ہے۔

مبصرین لیگی قائد کے پالیسی تضاد کے اس اہم پہلو کو بھی ناقابل فہم قرار دے رہے ہیں کہ نواز شریف نے
پاکستان میں موجود درجن سے زائد پارٹی کی اہم مرکزی شخصیات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسی شخصیت
کو اپنا اکلوتا ترجمان نامزد کرنے کا سرپرائز دیا جس نے آرمی چیف سے اپنی “متنازعہ” ملاقاتوں کی تصدیق
کی اور فوج کے ترجمان نے جن ملاقاتوں کے بارے میں اعلانیہ کہا کہ محمد زبیر نے ان میں نواز شریف اور
مریم نواز کے بارے میں بات چیت کی۔

سنجیدہ حلقوں میں باور کیا جاتا ہے کہ بظاہر “جلاوطن” لیگی قائد اور سابق وزیراعظم نے اگرچہ وزیراعظم
عمران خان اور ان کی حکومت کی بجائے انہیں “لانے والوں” کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے ملک کے سیاسی و
غیر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا کے رکھ دی اور آئندہ “خاکیوں” کے ساتھ رابطو‍ں کے دروازے بند کرنے کا
اعلان کرتے ہوئے انتہاپسندانہ روش اختیار کی ہے البتہ درحقیقت انہوں نے ملکی سیاست میں یہ ہنگامہ خیز
دبنگ انٹری حقیقی “اینٹی اسٹیبلشمنٹ” پالیسی کے تحت نہیں ڈالی بلکہ محض مقتدر قوتوں پر دباؤ بڑھانے
کی غرض سے یہ روش اختیار کی جو 2 سالہ صبر و برداشت کے بعد بھی سابق وزیراعظم کے ساتھ کسی نتیجہ
خیز “انڈرسٹینڈنگ” پر پہنچنے سے گریزاں رہی ہیں۔

مبصرین کےنزدیک نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ روابط کا دروازہ ابھی بھی بند نہیں کیا۔

مولانا فضل الرحمن کو فیصلہ کن تحریک کا سربراہ کون بنانا چاہتا تھا؟

اپوزیشن کی حکمت عملی کے اہم ترین نکتے پر تو” نون لیگ” کی اعلیٰ قیادت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نظر آرہی ہیں اور وہ ہے متحدہ اپوزیشن اور اس کی “فیصلہ کن” تحریک کی سربراہی کا جہاں دونوں بظاہر متحارب فریق “اندر سے” مولانا فضل الرحمن ہی کو یہاں دیکھنا چاہتے تھے۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کے لئے “کاؤنٹر پلان” کا حوالہ یہاں دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
وزیراعظم بھٹو کی حکومت کے وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ وقار احمد نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نجی گفتگو میں انکشاف کیا تھا۔
“بھٹو کو 1977 میں اپوزیشن کا ایک الائنس بنا ان کی حکومت کے خلاف تحریک کے بارے میں معلوُم ہوگیا تھا کہ یہ کسی عالمی سازش کے تحت انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لئے شروع کی جارہی ہے جس پر انہوں نے مولانا کوثر نیازی کی خاص طور پر ڈیوٹی لگائی تھی کہ ‘پی این اے’ کی قیادت اصغر خان کے پاس کسی طرح بھی نہیں جانی چاہیے۔
مفتی محمود جیسے مولوی کے پاس بھلے چلی جائے کیونکہ بھٹو کو معلوم تھا کہ مولوی purchasable ہوتا ہے ، ہارڈ لائنر اور غیر لچکدار سیاست دان مشکلات پیدا کر سکتا ہے”

ذرائع کے مطابق سب سے بڑی اپوزیشن جماعت “نون لیگ” کی قیادت میں نواز شریف اور مریم نواز جیسی بظاہر ہارڈ لائنر شخصیات کے ساتھ ساتھ “اتفاق” سے مقتدر حلقے بھی”پی ڈی ایم” کی کمان “ایک مولوی” کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے تھے۔
“اتفاق سے پیپلز پارٹی اور اے این پی جیسی لبرل پارٹیوں کے تحفظات کے باوجود “ایک پیج” والے فریقین کی منشا کے مطابق بالآخر مولانا فضل الرحمن ہی اپوزیشن الائنس کی سربراہ چن لئے گئے۔

تحریک لبیک کے پیچھے کیپٹن صفدر ہیں کیا؟

بڑی اپوزیشن جماعتوں نے نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی ایک کوشش ناکام بنا دی جس کے تحت انہوں نے انتہا پسند متنازعہ مذہبی تنظیم “تحریک لبیک یا رسول اللہ” کو “پی ڈی ایم” میں شامل کروانا چاہا تھا۔
اس تنظیم کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی ریاستی اداروں کی سربراہ اہم شخصیات کے خلاف سنگین فتوے جاری کر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر علامہ خادم رضوی سے نہائت قریبی تعلق رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں بتائے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے ان کی تنظیم کو اپوزیشن الائنس “پی ڈی ایم” کا رکن بنوانے کی بھرپور کوشش کی لیکن مولانا فضل الرحمن نے علامہ خادم رضوی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
یاد رہے کہ کیپٹن (ر) صفدر نے اپنے سسر کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دئیے جانے اور سیاسی عہدے کا نااہل کر دئیے جانے کے فوری بعد سیاست میں سرگرم ہوتے ہوئے قومی اسمبلی میں اچانک جارحانہ تقریر کی تھی جس میں ایک مخصوص کمیونٹی کے افراد کو فوج اور دیگر شعبوں میں کلیدی عہدوں سے ہٹائے جانے کا نعرہ لگایا تھا۔


شیئر کریں: