کراچی کا سمندر سب سے اعلیٰ

شیئر کریں:

تحریر ایس کے زیدی
سائنس کہتی ہے کہ سمندر کے نزدیک رہنا ذہنی صحت کے لیے اچھا ہے۔
سمندر کنارے روزانہ کی بنیاد پر واک کی جائے یا کچھ پل گزارے جائیں تو صحت میں کافی تبدیلی آسکتی ہے۔

دنیا بھر میں کئی خوبصورت ساحل ہیں جہاں صحت کا خیال رکھنے والے حضرات ضرور جاتے ہیں۔
لوگ ساحل پر سمندری ہوا سے خود کو تازہ دم محسوس کرتے ہیں اگر سمندر کا پانی صاف ہو تو
آب و ہوا اچھی محسوس ہوتی ہے۔

کہا جاتا ہے اگر لوگ اپنی صحت کا خیال خود رکھیں گے تو وہ صحت مند زندگی بسر کرنے میں
کامیاب ہو سکتے ہیں۔

سمندر قدرت کے وسائل میں سے ایک ہے یہ نعمت خدا کی طرف سے سب کے حصے میں نہیں آئی۔
جہاں سمندر ہیں اور اس کے کنارے آباد لوگوں کی زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کا خیال رکھیں۔
مگر افسوس دیگر ممالک کی طرح کراچی کے ساحل کا حال بے حال ہے۔

کسی بھی ملک کا ساحل کراچی کی طرح گندہ اور کچرے سے بھرا نہیں ہو گا۔
یہاں تازگی کے بجائے گھٹن سی محسوس ہوتی ہے صاف ستھری پاؤں کو لگنے والی ریت کے بجائے
گندھ پیروں سے چمٹ جاتا ہے۔
پیروں سے بھی بدبو آنے لگتی ہے تازگی کے بجائے چبھن سے محسوس ہونے لگتی ہے۔

ویسے تو کراچی کا ہر علاقہ ہی گندگی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے لیکن انتظامیہ کا کیا کہنا اب تو گندگی
کے ڈھیر کراچی کے ساحل پر لگا دیے گئے ہیں۔

بھلا ہو سابق کرکٹر وسیم اکرم اور ان کی اہلیہ کا جنہوں نے کراچی کے ساحل پر گندگی کے ڈھیر
کی نشاندہی کی۔
پہلی بار نہیں اس سے پہلے بھی اداروں کی توجہ اس جانب کروائی گئی لیکن کوئی اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔

وسیم اکرم نے کراچی کے ساحل کی حالت دنیا کے سامنے پیش کی تو کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام کی آنکھیں کھلیں۔
کنٹونمنٹ بورڈ پر کوئی تنقید کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن جب عالمی کرکٹر نے آواز اٹھائی تو پھر بیرونی دنیا
کے دباؤ کے خوف نے اٹھا دیا۔

لازمی سی بات ہے پھر پنڈی سے بھی فون بجے ہوں گے متعلقہ افسران کے، ٹیموں کی دوڑیں لگنا
تو پھر بنتا ہی تھا۔
وقتی طور پر وسیم اکرم کی ٹوئیٹ کا اثر لیتے ہوئے صفائی تو شروع کر دی گئی ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے ساتھ ساتھ ساحل پر آنے والے شہریوں کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی
صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔
شہریوں کو چاہیے کہ وہ کھانے پینے کے بعد بچا ہوا سامان ساحل کنارے ہی چھوڑنے کے بجائے ساتھ لے جائیں۔
سندھ حکومت نے ساحل کنارے کوڑے دان رکھے تھے مگر وہ بھی کچرہ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
کراچی کے ساحل پر کوڑا، پلاسٹک کی بوتلیں، تھیلیاں اور دیگر کچرے کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔

پہلے بھی کئی نامور شخصیات متعلقہ اداروں کی توجہ اس جانب کراچکے ہیں لیکن کچھ وقت کے بعد
کنٹونمنٹ کے حکام پھر سے سو جاتے ہیں۔

شہریوں کی دعا ہے کہ اس مرتبہ کنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامیہ درست سمت میں مستقبل بنیادوں پر
اس گندگی کی مسئلہ کو ختم کرے۔


شیئر کریں: