سوڈان نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا

شیئر کریں:

فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کرنے والی قابض ریاست اسرائیل کو مسلمانوں کی جانب سے تسلیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
متحدہ عرب امارات نے دور جدید میں اسرائیل سے سفارتی، تجارتی، ثقافتی اور سب سے بڑھ کر دفاعی رابطے بڑھا دیے ہیں۔
یو اے ای کے بعد بحرین نے بھی صیہونی ریاست کو تسلیم کر لیا اور وہائٹ ہاؤس میں معاہدہ پر دستخط کیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل نے 15 ستمبر کو معاہدہ پر دستخط کیے۔
اسی تقریب کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کئی اور عرب اور دیگر مسلمان ملک بھی امن کی جانب جلد ہاتھ بڑھانے والے ہیں۔
اب خبر آرہی ہے کہ اگلے ہفتے غریب مسلمان ملک سوڈان بھی فلسطینیوں پر ظلم کرنے والے ملک کو تسلیم کرنے جارہا ہے۔
اسی طرح مزید ممالک کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار سامنے آرہا ہے۔
مزید عرب اور افریقی مسلمان ممالک کو اسرائیل سے ملانے کی کوششیں
عرب ممالک کی جانب سے بڑھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر ترکی اور ایران نے سخت مایوسی اور غصے کا اظہار کیا ہے۔
فلسطینیوں نے تو اس عمل کو ناقابل برداشت اور نہتے مسلمانوں کی پشت میں خنجر گھوپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
پاکستان کا اس ساری صورت حال پر انتہائی محتاط ردعمل رہا ہے لیکن بارہا یہی کہا جارہا ہے کہ اسرائیل کو
کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وہائٹ ہاؤس معاہدہ کے خلاف سوڈان میں مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔

خطے کی بدلتی صورت حال پر نگاہ رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ نسبتا کمزور اور معاشی بدحالی کے شکار مسلمان
ممالک زیادہ دیر تک اسرائیل کو ماننے کے موقف پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔
خیال رہے سعودی عرب کے محمد بن سلمان (ایم بی ایس) نے گزشتہ سال کئی مسلمان ممالک کا دورہ کیا تھا۔
انہوں نے وہاں بڑی سرمایہ بھی کی تھی بعض ذرائع کا کہنا ہے محمد بن سلمان کا یہ دورہ اور مسلمان ممالک میں
سرمایہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کےساتھ کورونا سے لڑنے کا معاہدہ کرلیا

سعودی عرب خود براہ راست اور سب سے پہلےاسرائیل کو تسلیم کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس کے پاس مسلمانوں
کے دو مقدس ترین مقامات کی نگہبانی کی زمہ داری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے زیادہ سے زیادہ مسلمان ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروا کے سعودی عرب بھی صیہونی ریاست
کی طرف بانہیں پھیلا دے گا۔


شیئر کریں: