اینکر کامران خان کو “وزارت” ملنے والی ہے؟

شیئر کریں:

پاکستان کی تحقیقاتی صحافت میں اہم مقام رکھنے والے اینکر اور تجزیہ کار کامران خان کو وزیر اعظم
عمران خان کی کابینہ میں اہم وزارت ملنے والی ہے۔
کامران خان مسلسل تحریک انصاف کی حکومت کی تمام پالیسیوں کی کھلم کھلا حمایت کرتے آرہے ہیں۔
ان میں کچھ پالیسیاں ملک اور قوم کے مفاد میں بھی نہیں لیکن پھر بھی وہ لگے ہوئے ہیں۔
اس پر مسلم لیگ ن کی نوجوان اور خوبرو رہنما رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے کافی دلچسپ ٹوئیٹ کی ہے۔

حنا بٹ کہتی ہیں ” کامران خان جس طرح نااہل نیازی کی حد سے زیادہ چاپلوسی کر رہے ہیں لگتا ان کو
بھی کوئی عہدہ ملنے والا ہے۔
ویسے ان کیلئے “وزیر چاپلوسی” بہت بہتر عہدہ ہوگا”

حنا بٹ ہی نہیں بلکہ ہر زی شعور انسان کامران خان کی تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ کی صحافت پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔
سینئر صحافی کو اچانک کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے صابر شاکر، صالح ظافر اور ان کی طرح کے دیگر
صحافیوں کو بھی کوسوں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کامران خان کی ٹیم کے افراد بھی اس طرز عمل پر نجی محفلوں میں بغلیں جھانک رہے ہوتے ہیں۔
خیال رہے کامران خان نے پرنٹ صحافت دی نیوز اور جنگ سے کی پھر جیو نیوز سے منسلک ہوگئے۔
طویل عرصہ تک جیو پر دس بجے شب شو کرتے رہے یہاں سے بول نیٹ ورک جوائن کر لیا۔
بول نیوز آن ائیر ہونے سے پہلے ہی اس سے علیحدہ ہو گئے اور پھر دنیا نیوز کے ساتھ سفر کا آغاز کیا۔

اس وقت بھی دنیا نیوز پر ساڑھے نو بجے شب سے 11 بجے تک شو کیا کرتے ہیں۔
شائد عام لوگوں کے علم میں یہ بات نہ ہو کہ اس فارمیٹ پر کامران خان نے بول نیوز پر ڈیڑھ گھنٹے کا شو کرنا تھا۔
وہاں تو وہ پروگرام نہ کر سکے کئی ماہ تک محض ڈمی سیٹ پر پریکٹس ہی کرتے رہے تھے۔
اس انوکھے فارمیٹ کا مقصد بلیٹن کے درمیان سے ریٹنگ کے سلسلے کو گیارہ بجے تک لے جانا تھا لیکن اس
میں انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
جیو نیوز نے کامران خان کی جگہ عادل شاہزیب کو رکھا جو اپنے سلاٹ یعنی دس بجے اکثر ٹاپ کرتے ہیں
اور کامران خان کبھی کبھار ہی نمبر ون پر آتے ہیں۔


شیئر کریں: