مسلمان بالی ووڈ اسٹارز کو ہیرو سے ولن بنانے کی تیاری

شیئر کریں:

ہندتوا کے نظریے سے اقتدار میں آنے والی مودی سرکار نے بھارت کی فلم انڈسٹری کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
بی جے پی حکومت نے بالی ووڈ سلیبرٹیز کو مجبور کردیا ہے کہ وہ ان کے ترجمان بن جائیں ورنہ پھر انہیں حقیقی
زندگی میں ہیرو سے ولن بنا دیا جائے گا۔

ایسے لوگ جو بی جے پی حکومت کے لیے کام نہیں کرتے یا حکومت کی پالیسیز پر ان کا ساتھ نہیں دیتے
ان کو ولن بنا دیا جاتا ہے۔
کانگرس کے دور حکومت میں یہی بالی ووڈ ایکٹر میڈیا پر کھل کر اپنی رائے دیتے تھے۔
مگر اب تمام اسٹار چپ ہو گئے ہیں یا پھر بی جے پی کیمپ میں بیٹھ گئے ہیں۔
بالی ووڈ اسٹار عامر خان کی ہی دیکھ لیں جو بی جے پی حکومت کے کیمپ سے دور رہے۔
بی جے پی سے دوری کی وجہ سے آج بھارتی میڈیا نے انہیں ترک خاتون اوّل سے ملاقات کے بعد ولن بنا کر پیش کیا گیا۔

بلیاں پالنے پر معمر خاتون کو طلاق

پرائم ٹائم میں عامر خان کے خلاف پوری ٹرانسمیشنز کی جارہی ہیں۔
حلانکہ ترکی اور بھارت کے تعلقات مثبت ہیں لیکن پھر بھی عامر خان کو ترک خاتون اوّل سے ملاقات کی وجہ سے
تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

عامر خان اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے ترکی میں موجود تھے جہاں ترک خاتون اوّل سے ملاقات کی۔
عامر خان کی ملاقات بھارتی میڈیا کو ایک نظر نہ بھائی۔
میڈیا اور بی جے پی رہنماؤں کو عامر خان کے خلاف بولنے کا موقع مل گیا۔
بی جے پی رہنماؤں نے عامر خان کو ترکی جا کر رہنے کا مشورہ دے دیا۔

ایک بی جے ہی رہنما نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ ترک خاتون اوّل سے ملنے کے بعد وطن وآپسی پر عامر خان کو
دو ہفتے کے لیے قرنطینہ کیا جائے۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر سرگرم رہنے والے شاہ رخ خان بھی کہیں نظر نہیں آرہے۔
شاہ رخ خان نے بی جے پی حکومت کے منفی رویے کی وجہ سے خود سے محدود کر لیا ہے۔
بی جے پی حکومت اور بی جے پی نواز میڈیا کا اگلا نشانہ مہیش بھٹ، عالیہ بھٹ، سارہ خان اور کرن جوہر بنے۔
یہ وہ تمام اسٹارز ہیں جو بی جے پی کیمپ سے دوری رکھے ہوئے تھے۔

سوشانت سنگھ خودکشی کے بعد بھارتی میڈیا نے ان تمام اسٹارز پر سوشانت کے قتل کا الزام عائد کیا۔
روزانہ پرائم ٹائم میں ان اسٹارز کو میڈیا کی طرف سے مجرم کی طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
بی جے پی رہنما بھی ان اسٹارز کے خلاف میڈیا میں زہر اگل رہے ہیں جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ
بی جے پی کیمپ کا حصہ نہیں بنے۔

شوہر کی بے انتہامحبت بھی بیوی کو پسند نہیں، طلاق کا دعوی دائر کردیا

سیاسی امور پر نظر رکھنے والے کہتے ہیں بی جے پی حکومت نے بھارتی میڈیا کو تو بھاری رقم دے کر کنٹرول
کر لیا اب مودی حکومت نے اگلا ٹارگٹ بالی ووڈ ہے۔
بھارت کا سافٹ امیج دنیا کے سامنے لانے والے بالی ووڈ کے ایکٹرز کو اب مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ بی جے پی
کی نمائندگی کریں۔
بالی ووڈ اسٹارز کے پاس اب دو ہی راستے بچے ہیں کہ وہ بی جے پی کے ترجمان بن کر ہیرو کے ہیرو رہیں
یا پھر حقیقی زندگی میں ولن بننے کے لیے تیار ہوجائیں۔


شیئر کریں: