بھارتی نژاد کملا ہیرس امریکا کی نائب صدر نامزد، پاکستان کے لیے خطرہ کی گھنٹی

شیئر کریں:

جوبائیڈن نے کملا ہیرس کو نائب صدارتی امیدوار نامزد کرکے تاریخ رقم کردی۔
ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے کملا ہیرس کو اپنا نائب صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی سیاہ فام خاتون کو بطور امیدوار اس عہدے کے لیے چنا گیا ہے۔
اس سے پہلے ریپبلکن جماعت کی جانب سے سارہ پالن کو 2008 میں نائب صدارتی امیدوار کے لیے چنا گیا تھا۔
جیرالڈین فیریرو نامی خاتون کو ڈیموکریٹس کی جانب سے 1984 میں نائب صدارتی امیدوار کے لیے نامز کیا گیا۔
بدقسمتی سے دونوں سفید فام خواتین کی وائٹ ہاؤس تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔
امریکی تاریخ میں اس سے پہلے کسی بھی سیاہ فام خاتون کو دونوں امریکی سیاسی جماعتوں کی جانب
سے نائب صدر کے امیدوار کی حیثیت سے ٹکٹ نہیں دیا گیا۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک امریکا میں کوئی خاتون صدر بھی منتخب نہیں ہوئی۔

کملا ہیرس کون ہیں؟

کملا اس سے قبل ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں جو بائیڈن کی مخالف تھیں۔
کملا کے والدین امریکا میں تارکین وطن تھے۔
کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی نائب صدارتی امیدوار کی والدہ انڈیا سے تعلق رکھتی ہیں۔
کملا کے والد جمیکا کے شہری تھے کملا کے والدین کا ازدواجی رشتہ قائم نہ رہ سکا۔
والدین کی طلاق کے بعد کملا کی پرورش ان کی ہندو والدہ شیلاملا گوپالن نے کی۔
کملا اپنے بھارتی ثقافتی پس منظر میں بڑی ہوئیں۔
وہ اپنی والدہ کے ساتھ وہ انڈیا کے دورے پر آتی رہتی تھیں۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی والدہ نے پوری طرح آکلینڈ کی سیاہ فام ثقافت کو اپنا لیا تھا۔
ان کی والدہ نے اپنی دو بیٹویں کملا اور ان کی چھوٹی بہن مایا کی سیاہ فام تہذیب اور ثقافت میں پرورش کی۔
کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شناخت کے متعلق ہمیشہ مطمئن ہیں کملا اپنے آپ کو محض ‘امریکی’ کہتی ہیں۔
کملا ہیرس کو ایک عرصے تک صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں ایک مقبول امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
کملا ریاست کیلی فورنیا کی اٹارنی جنرل بھی رہ چکی ہیں۔
کملا نسلی تعصب کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کے نظام میں اصلاحات کی بھی حامی رہی ہیں۔
امریکا کی آبادی میں 4 کروڑ چالیس لاکھ سے زائد تارکین وطن ہیں۔
یہ ایسے لوگ ہیں جن کی پیدائش امریکا سے باہر ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں 26 لاکھ 50 ہزار بھارتی شہری مقیم ہیں۔
صرف 2010 سے 2018 کے درمیان امریکا میں ہندوں کی تعداد میں 49 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
امریکی مردم شماری بیورو کے مطابق امریکا میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد صرف 5 لاکھ8ہزار 116 ہے۔
2010 سے 2018 کے دوران امریکا میں پاکستانیوں کی تعداد میں 24.18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی کمیونٹی کو کملا کی نامزدگی پر تشویش

صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی جانب سے بھارتی نژاد کملا ہیرس کی نائب صدر کے لیے نامزدگی کے بعد بہت سے امریکی پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اس اقدام سے بھارتیوں کے لیے امیگریشن اور ملازمتوں کی راہ اور ہموار ہو جائے گی۔
کملا امریکا اور بھارت کے درمیان مضبوط رشتوں کو “اٹوٹ” قرار دے چکی ہیں۔
اسی وجہ سے وہ امریکا میں مقیم انڈین کمیونٹی کی آنکھوں کا تارا بن گئی ہیں۔
لیکن بھارت نواز بیانات کی وجہ سے امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو کملا کی نامزدگی پر شدید تشویش ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کملا منتخب ہوجاتی ہیں تو پاکستانی کمیونٹی کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے سمیت دیگر اہم پوزیشنز پر بھارتی شہری فائز ہیں۔

ٹرمپ پالیسی پر بھارتی پریشان

اب ٹرمپ نے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی شہریوں کے لیے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے ہیں۔
اب زیادہ تر بھارتی شہریوں کے ورک ویزہ میں توسیع نہیں کی جارہی۔
بیرون ممالک سے آئے طلبا کو بھی وآپس بھیجا جارہا ہے۔
امریکا میں 80ہزار سے زائد لوگ گرین کارڈ کے منتظر ہیں جن میں زیادہ تر بھارتی شہری ہیں۔
کورونا وائرس کے بعد سے ٹرمپ کی ایمیگریشن پالیسیز پر بھارتی شہریوں میں غصہ پایا جارہا ہے۔
امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی ایمیگریشن پالیسیز بھی الیکشنز میں امریکی صدر کی مشکلات میں اضافہ کریں گی۔


شیئر کریں: