یو اے ای نے کشمیریوں کے بعد فلسطینیوں کی پیٹھ میں بھی چھرا گھونپ دیا

شیئر کریں:

متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکا نے امن معاہدہ کرلیا۔
امن معاہدے کے نام پر یو اے ای نے فلسطینیوں کی جدوجہد پر پانی پھیر دیا۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک آپس میں سفارت خانے کھولیں گے۔
اسرائیل اور یو اے ای معاہدے کے بعد آپس میں توانائی، ٹیکنالوجی اور معاشی تعلقات بڑھائیں گے۔
دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ خطے میں مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی فلاح کے لیے کام کریں گے۔

معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ جو اسرائیل مزید علاقوں کو اپنے اندا ضم نہیں کرے گا۔
لیکن جن علاقوں پر اسرائیل نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

معاہدے میں اسرائیل نے اجازت دی ہے کہ مسجد اقصا مسلمانوں کے کھلی رہے گی
اور مسلمان یروشلم میں آزادانہ گھوم سکیں گے۔
متحدہ عرب امارات کا اسرائیل سے معاہدہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔

اس سے پہلے بھی دونوں ممالک نے کئی معاشی اور تحقیقاتی معاہدے کر رکھے ہیں۔
سعودی عرب کے پہلے ہی اسرائیل سے اچھے تعلقات ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا اسرائیل سے تعلقات بڑھانا یقینی تھا
کیوں کہ یو اے ای اور دوسرے عرب ممالک سعودی فارن پالیسی کی پیروی کرتے ہیں۔

اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کشمیریوں پر ظلم کا بازار گرم کرنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سب سے بڑا سول اعزاز دے چکا ہے۔


شیئر کریں: