اسکردو میں مریضوں کو گاڑی کے بجائے کندھوں پر اٹھایا جانے لگا

شیئر کریں:

بلتستان کے صدر مقام اسکردو میں پکی سڑکیں اور صحت کے بنیادی مراکز نہ
ہونے کی وجہ سے عوام پریشان حال ہیں۔
ایمبولینس سروس کا تو دور دور تک پتہ نہیں اسی لیے لوگ اپنے پیاروں کو
کاندھوں پر اٹھا کے لے جاتے ہیں۔

گمسطر تھورگو نالہ کے ایک شخص کو اچانک بجلی کا کرنٹ لگا ابتدائی طبی امداد پر طبعیت
میں بہتری نہ آئی تو مکین مریض کو کندھوں پر اُٹھائے اسکردو ڈی ایچ کیو تک لے آئے۔
تیمار داروں کا کہنا ہے کہ انہیں مریض کو گسمطر سے تھورگو لانے میں 3 گھنٹے لگے۔
اہلیان علاقہ کہتے ہیں علاقے تک جانے والی سڑک اس قابل نہیں کہ وہاں تک گاڑی لے جائی جا سکے۔
مکینوں نے ریسکیو 1122 سے مریض کو اُٹھانے کی درخواست کی تھی لیکن وہ بھی وہاں نہیں پہنچ سکے۔

ریسکیو کو کال کی کہ وہ مریض کو اُٹھانے میں مدد کریں لیکن انہوں نے گاڑی نہ ہونے کا بہانہ کر کے آنے سے انکار کر دیا۔
کرنٹ لگنے والے جوان کی زندگی بچانے کے لیے انہوں نے مریض کو چارپائی پر بٹھایا اور کندھوں پر چڑھا کر اسکردو تک لے آئے۔
اہلیان علاقہ کے مطابق سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہے وہاں تک عموما گاڑیاں نہیں جاتیں۔


شیئر کریں: