پنجاب میں نئے “وسیم اکرم پلس” کے انتخاب میں ‘کپتان’ کو کس بڑی مشکل کا سامنا؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

‘کپتان’ کو پنجاب میں اپنے نئے “وسیم اکرم پلس” کے چناؤ میں مشکلات کا سامنا ہے۔
جس پر وزیراعظم ہاؤس نے صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کے لئے موزوں شخصیت کی تلاش کا ٹاسک انٹیلیجنس بیورو کو سونپ دیا ہے۔
خفیہ ایجنسی نے پنجاب سے پی ٹی آئی کے مختلف ایم پی ایز پر “کام” شروع کر دیا ہے۔
دوسری طرف باور کیا جاتا ہے کہ نیب میں کرپشن کے الزام میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی طلبی سے ان کی “رخصتی” کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

کون سی فرمائش پوری نہ کرنے پر محمد بن سلمان ناراض ہوا؟

کیونکہ اس سے پہلے صوبائی وزراء علیم خان اور سبطین خان کے خلاف نیب کارروائی کی صورت میں ان سے ایک بار وزارت سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق مقتدر حلقے پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کو دوٹوک یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ وہ بس پاکستان تحریک انصاف سے پنجاب اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے لئے اپنی پسند کا امیدوار نامزد کریں “اور باقی کام ہم پہ چھوڑ دیں۔
آپ کے نامزد امیدوار کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ دلوانا ہمارا کام ہے۔
“مگر وزیر اعظم کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے متبادل کے طور پر حکمران جماعت پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی میں سے کسی ایک موزوں رکن کے انتخاب میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
وزیراعظم عمران خان اس سلسلے میں پارٹی یا سیاسی حلقوں میں کسی سے مشورہ کر رہے ہیں نہ کسی کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کے لئے” متبادل بزدار” کے چناؤ میں مشکل دراصل پنجاب کی تنظیم ، بالخصوص پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں مختلف گروہوں اور دھڑے بندیوں کی وجہ سے پیش آرہی ہے۔
کیونکہ گزشتہ 2 سالہ دور اقتدار میں پنجاب میں اراکین اسمبلی کے کئی مضبوط دھڑے بن چکے ہیں جن میں متعلقہ اضلاع کے ایم این اے حضرات بھی شامل ہیں اور اپنا اثر و نفوذ رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں گورنر پنجاب چوہدری سرور کا گروپ ، سینئر منسٹر علیم خان کا گروپ ، صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کا گروپ ، جنوبی پنجاب گروپ اور میاں محمود الرشید کا گروپ نمایاں اور مضبوط دھڑوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا 7 اگست کا دورہ لاہور پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے گروپوں کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ مشن بھی تھا۔
اسی لئے انہوں نے بطور خاص فیصل آباد کے اراکین اسمبلی کے وفد سے ملاقات کی ہے۔


شیئر کریں: