سعودی ولی عہد کی ہٹ دھرمی سے مملکت عالمی تنہائی کا شکار

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
تاریخ عالم میں اقوام اور ممالک کے درمیان تعلقات کی داغ بیل اور استحکام ہمیشہ
سے ہی زمینی حقائق کے مرہون منت رہا ہے۔
قومی مفادات اور خود داری کی حفاظت کے لیے دوست دشمن اور دشمن دوست بن جاتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں جیو اسٹریٹیجک تبدیلیوں کے ساتھ ہی نئی صف بندیاں شروع ہو چکی ہیں۔
ایک دوسرے کے قریب قرار دیے جانے والے ممالک بھی بازو مروڑنے لگے ہیں۔
خطے میں سب سے بڑی تبدیلی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر دوریاں ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) اور سعودی عرب سے
متعلق بیان کے بعد صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔

شاہ محمود قریشی کو اچانک کیا ہو گیا؟

شاہ محمود قریشی نے ٹی وی پروگرام میں کہا تھا “میں آج اسی دوست کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان
کا مسلمان اور پاکستانی جو آپ کی سالمیت اور خود مختاری کے لیے لڑ مرنے کے لیے تیار ہیں۔
آج وہ آپ سے تقاضا کر رہے ہیں کہ آپ وہ قائدانہ صلاحیت اور کردار ادا کریں جس کی امت مسلمہ آپ سے توقع کر رہی ہے”
شاہ محمود قریشی نے جائز مطالبہ کیا کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا کشمیر پر اجلاس بلایا جائے۔
اس میں اگر مگر سے کام نہیں لینا چاہیے سعودی عرب نے اجلاس نہ بلایا تو پھر وزیر اعطم عمران خان سے کہا جائے گا کہ وہ ایسے ممالک کا اجلاس بلائیں جو کشمیر کے ساتھ ہیں۔
کشمیر پرایران، ترکی اور ملائشیا کھل کر پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی دور کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
سعودی عرب ہی کی وجہ سے پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی تعلقات اتار چڑھاو کا شکار رہے۔
پاکستان نے دسمبر 2019 کو کوالالمپور سربراہ کانفرنس میں سعودی عرب کی درخواست پر ہی شرکت نہیں کی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے لہجے میں اس قدر تلخی بے وجہ نہیں کیونکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور کشمیریوں کی نسل کشی پر سعودی عرب اور او آئی سی کی مسلسل خاموشی ٹھیک نہیں۔
حالات و واقعات اب بدل چکے ہیں پاکستان سعودی عرب کے لیے بہت کچھ کر چکا لیکن مزید ایسا زیادہ دتر تک نہیں چل سکتا۔
2018 میں عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو ملک کی معاشی صورت حال انتہائی خراب تھی۔
قرضوں کی واپسی اور ملک دیوالیہ کے قریب تر پہنچ چکا تھا اور مختلف افواہیں زیر گردش تھیں۔
ایسی صورت حال میں عمران خان نے سعودی عرب کے دورے کیے اور محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کیں۔
سعودی عرب نے نومبر 2018 میں پاکستان کو 6.2 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکیج دیا۔
اس پیکیج میں 3 ارب ڈالر 3.2 فیصد سود پر قرضہ دیا اور 3.2 ارب موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی شامل تھا۔
موخر ادائیگی پر تیل فراہمی کا معاہدہ مئی 2020 میں ختم ہو چکا ہے پاکستان اس کی تجدید کے لیے درخواست کر چکا لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اچانک سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر پاکستان سے واپس مانگے جو حکومت نے چین سے لے کر واپس کر دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے چین سے یہ قرضہ ایک فیصد سود پر لیا گیا ہے اور اگر مزید دو ارب ڈالر مل گئے تو پاکستان وہ بھی سعودی عرب کو واپس کر دے گا۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سعودی عرب اب پاکستان کو موخر ادائیگی پر تیل بھی فراہم نہیں کر رہا۔
سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے آئل ریفائنری بھی بنائی جانی ہے اس کی تکمیل دو سال میں ہونی ہے۔
اب اس کے بارے میں بھی کچھ واضح طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ سعودی عرب اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا یا نہیں؟
اس کے برعکس سعودی عرب پاکستان اور مسلمانوں کے دشمن ملک بھارت میں 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک بڑی آئل ریفائنری لگا رہا ہے۔
یہ ریفائنری حب میں لگائی جانے والی ریفائنری سے تین گنا بڑی ہو گی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی آچکی ہے۔
ساتھ ہی سعودی عرب کے انتہائی قریب تر ملک متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔
گو کہ پہلے ہی کچھ زیادہ بہتر تعلقات نہیں کیونکہ متحدہ عرب امارات نے بھی سعودی عرب کے بعد پاکستان کے دسمبر 2018 میں مجموعی طور پر 6.2 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔
تین ارب مالیاتی پیکیج اور سعودی عرب کی طرح 3.2 ارب ڈالر تیل کے لیے رکھے تھے۔
متحدہ عرب امارات کا پیکج محض 2 ارب ڈالر مالیاتی پیکیج سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

سعودیہ پاکستان تعلقات کے ماضی اور مستقبل پر نظر

14 اگست 1947 سے ہی پاکستان کے سعودی عرب سے قریبی تعلقات رہے۔
دونوں ممالک میں تعلقات کی بنیادی وجہ مسلمانوں کے اہم اسلامی شہر مکہ اور مدینہ کا سعودی عرب میں ہونا ہے۔
پاکستان میں حرم پاک اور روضہ رسول کے لیے بے حد عزت اور جذبات پائے جاتے ہیں۔
سعودی عرب نے بھی 1965 اور 1971 کی پاکستان بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی اور مالی امداد کی۔
چاغی کے ایٹمی دھماکوں کے بعدجب پاکستان پر پابندیاں عائد کی گئیں اس وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی مالی امداد کی۔
پاکستان نے اور سعودی عرب کے سیکیورٹی تعلقات بھی بہت گہرے رہے۔
1970 سے سعودی رائل ایئرفورس کے پائلیٹس پاکستان ایئر فورس سے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
سعودی آرمی کے فوجی بھی پاکستان سے ٹریننگ حاصل کرتے رہے ہیں۔
ایران عراق جنگ کے دوران سعودی عرب کی درخواست پر پاکستان نے 20 ہزار جوان سیکیورٹی کے لیے سعودی عرب بھجوائے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق سعودی فوج میں اب بھی تقریبا 70 ہزار سے زائد پاکستانی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
70 اور 80 کی دہائی میں پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات سب سے زیادہ مستحکم نظر آئے۔
بھارت کے ساتھ دنوں جنگوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ سماجی اور مذہبی تعلقات کو فروغ دیا گیا۔
جنرل ضیاالحق کے دور میں سعودی عرب نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر فنڈنگ کی۔
پاکستان میں مسلکی بنیاد پر لٹریچر اور مدرسوں کا جال پھیلایا گیا۔
ان مدرسوں کے ذریعے ملک میں کیا کچھ ہوا وہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔
عرب اسپرنگ کے دوران بھی پاکستان کا سعودی حکومت کو بھرپور تعاون حاصل رہا۔
دونوں ممالک کے تعلقات یمن، عراق اور لیبیا کے معاملے پر خراب ہونا شروع ہوئے۔
سعودی عرب کی خواہش تھی ان ممالک میں کارروائیوں کے لیے پاکستان فوجی مدد کرے۔
پاکستان نے ان ممالک کے مسائل پر فوجی اور سفارتی سطح پر غیر جانب دار رہنے کا اصولی فیصلہ کیا۔
یہ بھی ایک انتہائی اہم اور نازک موڑ تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں سرد مہری شروع ہوگئی۔

سعودی عرب کے لیے مستقبل میں مزید مشکلات

سعودی عرب اپنی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے دنیا میں تنہا ہونے لگا ہے۔
تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب سفارتی سطح پر اپنے کئی اہم دوست گنوا چکا۔
عرب دنیا میں تو سعودی عرب پہلے ہی تنہائی کا شکار ہوتا جارہا تھا اور سعودی عرب میں بادشاہت کے خلاف تحریکیں چل رہی تھیں۔
اب خطے اور عالمی سطح پر بھی اپنی غلط پالیسیوں کے سبب سعودی عرب تنہا ہوتا جارہا ہے۔
پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی بہتری کے لیے بے حد کوششیں کی۔
لیکن سعودی عرب کے رویے اور عدم تعاون کی وجہ سے مصالحت کی کوششیں ہمیشہ ناکام رہیں۔
سعودی صحافی جمال خاشقجی کے سعودی شہزادے محمد بن سلمان کے محافظوں کے ہاتھوں قتل کے بعد دنیا بھر سے سعودی بادشاہت کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔
ترکی، یورپ، کینیڈا اور امریکا سیمت دیگر ممالک نے سعودی اقدام کو انتہائی ظالمانہ قرار دیا۔
انہوں نے سعودی شہزادے کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو، کینیڈا کے سربراہ، ترک صدر طیب ایردوان سیمت دیگر ممالک کے اہم سربراہ اور عالمی تنظیموں کے اراکین بھی سعودی شہزادے کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور مخالف نظریات کے حامی افراد کے خلاف کارروائیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
سعودی عرب میں سخت قوانین، بادشاہت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے لیے سخت سزاوں پر
انسانی حقوق کے عالمی ادارے کئی بار رپورٹس جاری کر چکے ہیں۔
بدلتی دنیا میں سعودی عرب عالمی سطح پر قائم ہونے والے نئے بلاکس میں بھی جگہ نہیں بنا سکا۔
امریکا، بھارت، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک کے بلاک میں سعودی عرب کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔
اسی طرح سعودی عرب کی طاقت کے لیے خطرے کی گھنٹی پاکستان، ترکی، ایران، چین اور روس کا بلاک بھی ہے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر محمد علی حسینی کہتے ہیں کہ ان پانچ ممالک کا اسٹریٹجک
بلاک مستقبل میں بہت اہم ہوسکتا ہے۔
اسلام آباد اسٹریٹیجک اسٹڈیز انسٹیٹوٹ میں رواں ہفتے ہونے والی پاکستان ایران تعلقات کی 72 سالہ
تقریب میں ایرانی سفیر نے اس بلاک کی اہمیت تفصیل سے بیان کی۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بادشاہت کے نشے میں تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔
خدشات یہ بھی ظاہر کیے جارہے ہیں کہ ال سعود کی جابرانہ پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب
کو اندرونی اور بیرونی بغاوت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں پر اس کشیدگی کا کیا اثر پڑے گا؟

سعودی عرب میں مجموعی طور پر 27 لاکھ سے زائد پاکستانی مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
محتاط اندازے کے مطابق یہ پاکستانی سعودی عرب سے سالانہ 5 ارب ڈالر زر مبادلہ بھیجتے ہیں۔
سعودی عرب سے پہلے ہزاروں پاکستانیوں کو بے دخل کیا جا چکا ہے ۔
اس کے برخلاف سعودی عرب میں بھارتی شہریوں کی تعداد 40 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی 16لاکھ پاکستانی ہیں اور ان میں سے چار لاکھ دبئی میں ہیں۔
یو اے ای میں بھی سعودی عرب کی طرح سب سے زیادہ بھارت کے شہری آباد ہیں۔
بدقسمتی سے متحدہ عرب امارات سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو پہلے ہی بے دخل کیا جا چکا ہے۔
کورونا وائرس کے سبب جو بیروزگاری ہوئی اس کی وجہ سے کہا جاتا ہے 2 لاکھ پاکستان واپس آچکے ہیں۔

ترک ڈرامہ “ارتغرل غازی” کا کردار

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر ترک سیریل ارتغرل غازی نشر کیا جارہا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ یہ ڈرامہ بھی کشیدگی کا سبب بنا ہے کیونکہ ارتغرل غازی میں ترک دور خلافت فلمایا گیا ہے۔
اس میں ترک سلطنت کی عظمت اور جاہ و جلال کو دیکھایا گیا ہے۔
اس ڈرامہ سیریل سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سخت ناراض ہیں، دونوں نے اس ڈرامہ پر اپنے ملکوں میں پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ثقافتی جنگ میں ترکی اس ڈرامے کی وجہ سے سعودی عرب سے سبقت لے گیا ہے۔
ڈرامے نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔
اور تو اور پاکستان کے پرائیویٹ چینلز پر ارتغرل غازی کے کردار اشتہاروں میں بھی آرہے ہیں۔
مسلم دنیا پر بڑھتی ہوئی ترک مقبولیت روکنے کے لیے سعودی عرب نے بھی ڈرامہ سیریل بنانے کا اعلان کردیا۔
سعودی عرب نئی ڈرامہ سیریل میں السعود خاندان کے ماضی کو بڑھا چڑھا کر دکھانا چاہتا ہے۔
سعودی عرب نے مہنگے ترین مغربی ڈائریکٹرز کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں اور 4 کروڑ ڈالر کا بجٹ بھی مختص کردیا ہے۔

اس صورت حال میں کشیدگی مزید بڑھی ہے جب کہ پہلے ہی تعلقات کچھ اچھے نہیں چل رہے تھے۔
لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مظلوموں کی حمایت کے لیے دو ٹوک موقف خود اعتمادی
اور سفارتی خود مختاری کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
سفارت کاری کی دنیا میں بڑھتے قدم روک لینا اور کہیں ٹھہرے ہوئے اچانک چل پڑنا مہارت جانا
جاتا ہے لیکن شرط صرف وقت کی نبض پر ہاتھ اور شطرنج پر بچھی بساط پر نظر رکھنا ہے۔


شیئر کریں: