اے آر وائی گروپ کے لیے فراڈ الرٹ ہیش ٹیگ

شیئر کریں:

میڈیا پہلے کم بدنام ہے جو عید الاضحی جیسے مبارک تہوار کو بھی اے آر وائی نے مذاق بنا کر رکھ دیا۔
جو لوگ اے آر وائی نیور یا اے آر وائی ڈیجیٹل چینلز دیکھتے ہیں انہیں اندازہ ہو گا کہ عید الفطر کے
بعد سے ان چینلز پر اے آر وائی گروپ کے کیٹل فارمز کا اشتہار چل رہا تھا۔

جہاں کراچی کی عوام کو آن لائن قربانی کے جانور خریدنے کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں گوشت
پہنچانے کا بتایا گیا۔ وقت کی پابندی کا بار بار دھرایا گیا قیمتیں بھی بتائی گئیں اشتہاروں میں۔
لیکن اب ہوا وہی جس کا ڈر تھا جن لوگوں نے آن لائن بکنگ کروائی جو جانور کا وزن ان کو
بتایا گیا نہ تو اس کے مطابق گوشت بھیجا۔

شام چار پانچ بجے تک قربانی کی ہی نہیں گئی جس پر لوگوں نے خوب احتجاج کیا اور قربانی کے
پیسے اے آر وائی گروپ کو کھا جانے کے لئے ایف آئی آر درج کروائی اور پیسے واپسی کا مطالبہ کر دیا۔

ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا، اے آر وائی کا کارنامہ

ایک کلائنٹ نے سوشل میڈیا کی پوسٹ پر لکھا کہ اے آر وائی سہولت بازار نے قربانی کے نام پر کرپشن کی ہے۔
چار جولائی کو میرا آرڈر بک کیا لیکن قربانی کا جانور پوچھنے کے لئے جب فون کرتے تھے تو فون نہیں اٹھاتے تھے۔
کرن سید لکھتی ہیں کہ انھوں نے چھ جولائی کو پنتالیس ہزار کا بکرا آن لائن بک کروایا لیکن قربانی
والے دن نہ فون اٹھایا کسی نے نہ گوشت گھر پہنچا۔

انھوں نے اے آر وائے گروپ کی اس کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لئے لوگوں سے مدد مانگی ہے۔
لوگوں نے سوشل میڈیا پر فراڈ الرٹ کے نام سے ہیش ٹیگ بھی شروع کر دیا ہے۔

اے آر وائی ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی

اے آر وائی گروپ کو بے تحاشا گالیاں دی جارہی ہے اور حرام کھانے والا گروپ کہا جا رہا ہے۔


شیئر کریں: