خانہ کعبہ کے غلاف کسوی کی تاریخ

شیئر کریں:

سرزمین مکہ میں قائم خانہ کعبہ وہ مقام ہے جو مشترکا طور پر اہل اسلام کے لیے
انتہائی مقدس اور اہمیت حاصل ہے۔

یہاں ہر سال دنیا بھر سے بلا تفریق رنگ و نسل مسلمان اکٹھے ہو کر فریضہ حج ادا کرتے ہیں۔
بیت اللہ کے غلاف کسویٰ کی اپنی تاریخ اور اہمیت ہے۔
پہلا غلاف یمن کے”تبع الحمیری” نامی ایک بادشاہ نے تیار کیا تھا۔
اس کے بعد میں آنے والوں نے چمڑے کا غلاف بھی تیار کیا۔
غلاف کعبہ میں دلچسپی اور اہمیت کااندازہ اس سے سے لگا لیں کہ ہر زمانے کے حکمران نے اس میں بھرپور دلچسپی لی ۔

پہلی بار خانہ کعبہ بند کیا گیا صورت حال گھمبیر ہوگئی

غلاف کعبہ کی روایت ظہور اسلام کے بعد بھی برقرار رہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
نے ‘القباطی’ نامی کپڑے سے غلاف کعبہ تیار کرایا تھا۔
پیغمبر اسلام نے غلاف کعبہ کے لیے سفید اور سرخ دھاریوں کا یمنی کپڑا استعمال کیا تھا۔
عباسی دور میں غلاف کعبہ کے لیے ایک بار سرخ اور ایک بار سفید کپڑے کا استعمال کیا گیا۔
سلجوقی سلطان نے غلاف کعبہ زرد رنگ کے کمخواب سے بنوایا۔
عباسی خلیفہ الناصر نے پہلے سبزاورپھرسیاہ کمخواب کے ساتھ غلاف کعبہ تبدیل کیا۔
یہ رنگ حاجیوں، زائرین اور لوگوں کی طرف سے چھوئے جانے کو برداشت کر سکتا تھا۔
اسی وجہ سے سیاہ رنگ آج تک چلا آ رہا ہے ۔

حج 2020 اور 2019 میں کیا فرق ہو گا؟

مصر میں قائم اسلامی ریاست نے صدیوں تک غلاف کعبہ بھجوایا۔ عصر حاضر میں
عبدالعزیز آل سعود نے نہ صرف غلاف کعبہ کی منفرد انداز میں تیاری کا بیڑا اٹھایا
بلکہ اس مقصد کے لیے خصوصی بجٹ مقرر کرنے کے ساتھ سنہ 1346ھ میں ایک محکمہ
بھی قائم کیا گیا جو غلاف کعبہ کے لیے نہایت عمدہ کپڑے کے دھاگے سے غلاف کی
تیاری تک تمام مراحل کی بذات خود نگرانی کرتا ہے۔

ترکی دوبارہ خلافت کی طرف جارہا ہے

سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز نے غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے مسجد الحرام کے
قریب واقع اجیاد میں خصوصی فیکڑی قائم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
یہ پہلی فیکڑی تھی جسے حجاز میں غلاف کعبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
پہلا غلاف کعبہ اسی فیکٹری میں تیار کیا گیا اس فیکڑی کو نئے مقام ام الجود منتقل کیا گیا۔
شاہ سلمان نے غلاف کعبہ فیکٹری کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے شاہی فرمان جاری کیا اور
اس کا نام کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوہٰ رکھا گیا۔
کپڑے کی تیاری کے لئے کمپلیکس میں جدید جیکوارڈ مشینیں موجود ہیں۔
یہ مشینیں قرآنی آیات کی کڑھائی، آیات اور دعاؤں کے لیے کالا ریشم تیار کرتی ہیں۔
سادہ ریشم بھی یہیں تیار کیا جاتا ہے جن پر آیات پرنٹ کی جاتی ہیں۔
چاندی اور سونے کے دھاگوں سے کشیدہ کاری بھی اسی فیکٹری میں کی جاتی ہے۔

غلاف کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خالص ریشم استعمال کیا جاتا ہے۔
غلاف کعبہ کی موٹائی 98 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔
غلاف کعبہ کی اونچائی 14 میٹر ہے۔
رکنین کی جانب سے غلاف کی چوڑائی 10 اعشاریہ 78 میٹر ہوتی ہے۔
ملتزم کی جانب سے غلاف کی چوڑائی 12 اعشاریہ 25 میٹر، حجر اسود کی سمت
سے 10 اعشاریہ 29 میٹر اور باب ابراہیم کی جانب سے 12 اعشاریہ 74 میٹر ہوتی ہے۔

یکم ذی الحجہ کو غلاف کعبہ کی “سدنہ” یعنی متولی خاندان کو حوالے کرنے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔
ہر سال 09 ذی الحجہ کو غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے۔
غلاف کی تیاری پر 20 ملین ریال کی لاگت آتی ہے۔
غلاف کعبہ کو دوران حج چھوئے جانے سے بچانے کے لیے باب کعبہ کی جانب سے 6 اعشاریہ 32 میٹر
اونچا اور تین اعشاریہ تیس میٹر چوڑا اضافہ کپڑا جوڑا جاتا ہے۔


شیئر کریں: