حج 2020 اور 2019 میں کیا فرق ہو گا؟

شیئر کریں:

کورونا وائرس کی وجہ سے افضل ترین عبادت حج کو بھی محدود
کر دیا گیا ہے۔

اس سال کتنے افراد حج ادا کرسکیں گے؟
گزشتہ سال اور رواں حج میں کیا فرق ہو گا؟
کون کون حج ادا کر سکے گا؟
حج ادا کرنے والوں کے لیے کیا ہدایات جاری کی گئی ہیں؟
تاریخ میں کتنی بار حج ادا نہیں کیا جا سکا؟
کن مسلمان ممالک نے اپنے شہریوں کو حج کی اجازت نہیں دی؟

اس سال صرف ایک ہزار خوش قسمت مسلمان ہی حج کا فریضہ ادا کرسکیں گے۔
سعودی حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے انتہائی محدود افراد کو اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔


65 سال سے زائد افراد کو حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی
ایسے افراد جو بیمار ہوں یا ان میں کورونا کی علامات ہوں انہیں بھی حج کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
حج میں شریک ہونے والے افراد کو مناسک حج ادا کرنے سے پہلے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہو گا۔
حج ادا کرنے کے بعد حاجیوں کو اپنے گھروں میں قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔
حج ادا کرنے کے دوران عازمین کو فیس ماسک لازمی پہننا پڑے گا۔
عازمین خانہ کعبہ کو چھو سکیں گے اور نہ ہی بوسہ دے سکیں گے۔
حجر اسود کو بھی چومنے پر مکمل پابندی ہو گی۔
مناسک حج اور نمازوں کی ادائیگی کے دوران سماجی فاصلے لازمی برقرار رکھے جائیں گے۔
منا، مزدلفہ اور عرفات کے پہاڑوں پر صرف ان عازمین کو جانے کی اجازت ہوگی جو حکومت
کی اجازت سے حج میں شریک ہوں گے۔

حج نہ ہونے پر سعودی عرب کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان

رمی یا شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں بھی خصوصی پیکٹس میں حجاج کو دی جائیں گی۔
90 سال میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے عازمین حج پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
1932 میں سعودی عرب کے قیام کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے جب حج کو محدود کیا گیا۔
انڈویشیا اور ملائیشیا نے پہلے ہی اپنے شہریوں کو حج پر بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔
کورونا وائرس کی وبا نے مناسک حج کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
گزشتہ سال2019 میں تقریباً 26 لاکھ مسلمانوں نے حج ادا کیا۔
ان میں بیرونی ملک سے آنے والے عازمین حج کی تعددا 18 لاکھ سے زیادہ تھی۔
سعودی حکومت نے27 فروری سے عمرے کی ادائیگی پربھی پابندی عاید کر رکھی ہے۔
خیال رہے یہ پہلا موقع نہیں جب حج کو محدود کیا گیا ہو۔
تاریخ میں ایسے تقریباً 40 مواقع ہیں جب مختلف وجوہات کی بنا پر حج ادا نہیں کیا جاسکا۔

اس مرتبہ حج بہت محدود تعداد میں ہو گا اور سعودی عرب میں پہلے سے مقیم مختلف قومیتوں
سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی حج کا فریضہ ادا کرسکیں گے۔


شیئر کریں: