اپوزیشن سے حکومت کو خطرہ نہیں

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے عید کے بعد کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن محض اعلانات اور بیان بازی سے بڑھ کر کچھ کرنا نہیں چاہتی۔
اپوزیشن چاہتی تو اے پی سی عید سے پہلے باآسانی ممکن بنائی جاسکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق کی قیادت میں وفد نے بلاول بھٹو سے لاہور میں ملاقات کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقات میں ملک کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ اور لیگی رہنما احسن اقبال نے پریس کانفرنس کی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن حکومت کو مزید وقت دینا نہیں چاہتی کیونکہ جتنا وقت
اسے ملے گا ملک کا نقصان زیادہ ہو گا۔
باہمی مشاورت کر کے حکومت مخالف تحریک کا اعلان کیا جائے گا۔

ایک طرف اپوزیشن جماعتیں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا کہتی ہیں لیکن اس کے برخلاف
زمینی حقائق کچھ اور ہی کہتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں اگر اتنی ہی سنجیدہ ہیں تو پھر شہباز شریف لاہور میں ہوتے ہوئے بلاول بھٹو سے کیوں ملنے نہیں آئے؟
آج کی ملاقات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ محض مصروفیت برقرار رکھنے کے سوا کچھ نہیں دیکھائی دیتا۔
بظاہر لگا یہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اپنی وراثت بچانے کی تک و دو میں مصروف ہیں۔
انہیں عوام سے کوئی محبت نہیں ان سے زیادہ تو ڈاکٹرز، تاجر اور وکلا متحرک ہیں۔

سب ہی اپنا موقف پرزور پیش کر رہے ہیں اور کچھ حدتک مسائل بھی حل کروا رہے ہیں۔
اس کے برخلاف ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر اپنا موثر کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ووٹرز اب اپوزیشن کے دوہرے معیار کو بدنیتی پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔
حکومت کی کارکردگی بالکل سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کی طرح ہے۔

بظاہر ان کی ایوان میں اکثریت تھی لیکن اس کے باوجود وہ اپنا چیئرمین منتخب نہ کراسکے۔
بالکل اسی طرح دونوں بڑی جماعتیں اپنے اپنے مسائل حل کرانے اور زیادہ سے زیادہ سہولتوں کا حصول
ممکن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مسلم لیگ ن کے اندر طاقت کا توازن بگڑ رہا یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف غیر فعال ہو چکے ہیں۔
لگتا یہی ہے کہ شہباز شریف پارٹی اور ملکی سیاست سے کنارہ کشی کے لیے خود کو ذہنی طور پر آمادہ کر چکے ہیں۔
بلاول بھٹو سے ملاقات کے لیے شہباز شریف کے بجائے احسن اقبال کے آنا اس تاثر کو مزید تقویت فراہم کرتا ہے۔

کورونا وائرس کی موجودگی میں عدالت تو چلے گئے لیکن بلاول بھٹو سے ملاقات کے لیے نہیں جا سکے۔
ایسی صورت حال میں حکومت کو نام نہاد اپوزیشن جماعتوں سے کوئی خطرہ نہیں۔
حکومت کو خطرہ یا نقصان اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب اس کا مضبوط سہارا ہٹے اور پھر وہ اپنے ہی وزن سے گرجائے گی۔
اس سہارے کے ہٹنے اور پیج الگ ہونے تک اپوزیشن پھول جڑیاں چھوڑنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔


شیئر کریں: