فلسطین کبھی گوگل نقشے کا حصہ نہیں رہا، مونس الہی سمیت سوشل میڈیا صارفین لاعلم

شیئر کریں:

سوشل میڈیا پر گوگل اور ایپل کے نقشے سے ہٹانے پر صارفین شدید غصے کا اظہار کررہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی نے بھی فلسطین کا نقشہ ہٹانے پر گوگل اور ایپل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا صارفین کا اپنے ٹویٹس میں کہنا ہے کہ گوگل نے فلسطین کو اچانک نقشے سے غائب کردیا ہے۔
گوگل کا یہ اقدام قبول نہیں اس لیے دنیا کو نیا نقشہ مسترد کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں کی بڑی تعداد
اس حقیقت کو نہیں جانتی کی فلسطین کبھی گوگل اور ایپل کے نقشے کا حصہ رہا ہی نہیں۔

فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ سیاہ فاموں سے بھی بدترین سلوک

گوگل اور ایپل کے نقشے پر فلسطین کا نقشہ اس لیے شامل نہیں کیوں کہ
امریکا سمیت کئی یورپی ممالک نے فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
گوگل اور ایپل کے ہیڈ آفس امریکا میں ہیں اس لیے جب تک امریکا اور
دیگر یورپی ممالک فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے تب تک گوگل اور ایپل پر فلسطین کا نقشہ نہیں دیکھایا جائے گا۔
اس سے پہلے 2011میں بھی گوگل ترجمان نے واضع کردیا تھا کہ
فلسطین عالمی طور پر تسلیم شدہ ریاست نہیں اس لیے فلسطین کو نقشے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔


شیئر کریں: