کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، پانی کی بحران بھی سنگین

شیئر کریں:

کراچی میں شدید گرمی کے دوران کے الیکٹرک کی جانب سے بدترین لوڈشیڈنگ کی جاری ہے۔
لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہر کے کئی علاقوں میں پانی کا بحران بھی پیدا ہو چکا ہے۔
گلستان جوہر، اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن، منگھوپیر، کورنگی، سائٹ ایریا، لیاقت آباد، لائنز ایریا
گلشن اقبال، لانڈھی، کورنگی، لیاری، شیری جناح کالونی، صدر، برنس روڈ، محمودآباد، گلستان جوہر
ماڑی پورولیج ، پی ای سی ایچ ایس اور اسی طرح متعدد علاقوں کے شہریوں کی راتیں کروٹیں بدلتے بدلتے گزر جاتی ہیں۔

جیسے تیسے راتیں گزر جاتی ہیں لیکن دن کا آغاز بھی بجلی کی غیر حاضری سے ہی ہوتا ہے۔
مٹاثرہ شہریوں کے مطابق لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے تک بڑھایا جا چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کو فرنس آئل بھی مل گیا اور گیس کی فراہمی بھی بحال ہو چکی ہے
لیکن اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کی جارہی ہے۔

بجلی کی بندش کے باعث شہری پانی کو بھی ترس گئے ہیں، گرمی میں پانی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔
بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا فلیٹس کے مکینوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔

کراچی کی بیشتر آبادی فلیٹس میں مقیم ہے اور کئی کئی منزلہ فلیٹس میں موٹر کے ذریعے پانی اسٹور کیا جاتا ہے۔
لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے پانی بھی اوپر نہیں چڑھایا جا سکتا۔
بجلی اور گیس کے بعد اب شہری پانی کے لئے بھی ترسنے لگے ہیں۔
کورنگی اکیاون بی اور سی کے مکین پہلے ہی پانی کو سالوں سے ترس رہے تھے لکن بجلی کی لوڈ شیڈنگ
نے ان کے مسائل اور بڑھا دیے ہیں۔

کراچی کے شہریوں نے حکومت سے پھر مطالبہ کیا ہے کہ خدارا سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
شدید گرمی میں بجلی اور پانی کے بغیر گزارا ممکن نہیں، دور کورونا اور بحرانوں کے عالم
میں سماجی فاصلہ بھی ممکن نہیں ہو پارہا ہے۔


شیئر کریں: