لٹو چلانے والے موبائل گیمز کھیلنے لگے، پنڈی کا لٹو محلہ اب بھی آباد

شیئر کریں:

(اسلام آباد سے ایم اے چوہان)

ایک وقت تھا جب لٹو نوجوانوں اور بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔
وقت کی تیزی نے کمپیوٹر اور موبائل گیمز نے اس قدیم روائتی کھیل کی جگہ لے لی۔
مگر راولپنڈی میں لٹو کی ایک واحد دکان اس شوق کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔
خوبصورت لٹو چلانے کے لیے بوڑھوں، بچوں اور نوجوانوں کی بے چینی دیدنی ہوا کرتی تھی۔
اگر اب بھی پنڈی کے اس محلے میں لٹو چلتے ہوئے دیکھتے ہی اپنا بچپن ضرور یاد آجاتا ہے۔
اب وہ وقت گزر گیا، صرف یادوں قصوں اور کہانیوں کا حصہ بن گیا ہوگا۔
اس محلے کے لوگ اس روایت کو اس لیے زندہ رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس محلے کا نام اسی کھیل سے منسوب ہے۔
جی ہاں یہ لاٹو محلہ ہے اور یہاں رہنے والے اس روائتی کھیل کے فروغ کے لیے وقت ضرور نکالتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب لاٹو محلے میں جگہ جگہ لٹووں کے ڈھیر ہوا کرتے تھے اور خریداروں کا بے پناہ رش ہوا کرتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ لٹو کے شوقین کم ہوئے تو یہاں لٹو ککی دکانیں دیگر تجارتی سرگرمیوں کی نظر ہوگئیں۔

یہاں ایک دکان ضرور بچی ہے جو اعظم کو اس کے اباو اجداد سے ورثے میں ملی ہے۔
یہ اپنی اس اکلوتی دکان سے اکا دکا لٹو چلانے والوں کا شوق پورا کر دیتا ہے۔
اعظم کی یہ دکان لاٹو محلے کی آخری نشانی ہے اور یہ چالیس سال سے یہی کام کر رہا ہے۔
اعظم کو اب اس پیشے سے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے گزر بسر کے لیے
سیکیورٹی کمپنی میں گارڈ کے فرائض نجام دے رہا ہے۔


شیئر کریں: