مظفر گڑھ میں شادی کی تقریب رقص و سرور، دلہا سمیت 8 افراد گرفتار

شیئر کریں:

کورونا وائرس بھی لوگوں کی زنگیاں تبدیل کرنے میں اب تک ناکام رہا ہے۔

حکومت اور ڈاکٹرز کی جانب سے بار بار احتیاطی تدابیر کی تاکید کے باوجود لوگ فاصلہ قائم نہیں کر رہے ہیں۔
کورونا کی موجودگی میں بھی شادی بیاہ کی تقریبات ماضی کے انداز میں کی جارہی ہیں۔

ایسا ہی واقعہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے علاقے چوک سرور شہید میں پیش آیا ہے۔
چوک سرورشہید کے محلہ اسلام پورہ میں ایس او پیز کی دھجیاں بکھیری گئیں۔

شادی کی تقریب میں فحش ڈانس، آتش بازی مظاہرہ اور ساونڈ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔
شادی کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کیا گیا اور رقص و سرور کی محفل کا انعقاد کیا گیا۔

چوک سرور پولیس نے سماجی دوری کا نظریہ مسترد کرنے پر کارروائی کر کے دلہا عامر کو حراست میں لے لیا۔
دلہا کے ساتھ ساتھ محفل میں رقم لٹانے اور رقص کرنے والے مزید 8 افراد کو گرفتار کر لیا۔

اس موقع پر سے مزید دو اہم افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، پولیس نے دلہا
سمیت 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی، شادی ایکٹ اور ساونڈ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔
گرفتار افراد میں آصف، ساجد، طارق، مجاہد، خالد اور عزیز شامل ہیں ۔
پولیس نے فرار ہونے والے ظفر باروی اور عدیل زرگر کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی کر رہی ہے۔

اس سے پہلے بھی پنجاب میں کورونا وائرس کی موجودگی میں شادیاں ہوتی رہی ہیں اور
پولیس اسی طرح کارروائی بھی کرتی آرہی ہے۔
کورونا پھیلانے کا الزام،میانوالی میں دلہا اور والد کے خلاف مقدمہ

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چاہیے وہ اس صورت حال میں احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں
اس میں سب ہی کی بھلائی ہے۔

فیصل آباد میں دلہن گھر اور دلہا قرنطینہ میں سہاگ رات منائے گا

شادی اور زندگی کے دیگر معاملات رک نہیں سکتے زندگی اسی طرح چلنی ہے لیکن ان دنوں
غیر ضروری بڑے اجتماعات سے گریز کیا جائے۔


شیئر کریں: