وقار زکا نے خونی گیم پب جی پر پابندی کا فیصلہ چیلنج کردیا

شیئر کریں:

سوشل میڈیا پر اپنی متنازع حرکتوں کی وجہ مشہور وقار زکا نے پاکستان میں پب جی گیم پر عائد پابندی کا فیصلہ چیلنج کردیا۔
وقار زکا نے پرتشدد اور دنیا بھر میں متنازع گیم پر عائد پابندی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں وقار زکا کا کہنا ہے کک الیکٹرانک اسپورٹس دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے اورپب جی گیم آن لائن پیسے کمانے کا سب سے بڑا زریعہ ہے۔
وقار زکا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خونی گیم پر پابندی سے ریڈ بل، ڈیو اور دیگر کمپنیاں اسپانسرشپ ختم کردیں گی۔
اسپانسر شپ ہونے سے پاکستان کو معاشی نقصان ہوگا۔
ایس ایچ او کے خلاف درخواست، عدالت ویڈیو گیم واپس دلائے

وقار زکار کا کہنا ہے کہ پب جی گیم پر پابندی کی وجہ سے پاکستان الیکٹرانک اسپورٹس میں بلیک لسٹ ہوسکتا ہے۔
وقار زکا نے عدالت سے پی ٹی اے کی جانب سے پب جی گیم پر پابندی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور میں پب جی گیم کھیلنےسے منع کرنے پر دو نوجوانوں نے خودکشی کرلی تھی۔
نوجوانوں کی خودکشیوں کے بعد لاہور پولیس کی درخواست پر
پی ٹی اے نے پب جی گیم پر عارضی طور پر پابندی عائد کی تھی۔
پب جی دنیا بھر میں متنازع گیم کے طور پر مشہور ہے۔
نیوزی لینڈ مسجد پر حملہ50شہید

گیم میں اس قدر قدرتی اور پرتشدد ماحول بنایا گیا ہے
کہ گیم کھیلنے والے حقیقی زندگی میں ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔
گیم کھیلنے والے نوجوانوں کو حقیقی زندگی بھی موت کا کھیل نظر آنے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے دنیا بھر میں پب جی گیم کی وجہ سے درجنوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
پب جی گیم کی وجہ نا صرف خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ گیم دہشتگردی کا سبب بھی ہے۔
گزشتہ سال نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی مساجد پر ہونے والے حملوں
میں ملوث دہشت گرد نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ وہ پب جی گیم کھیلتا تھا۔
دہشت گرد نے نہ صرف مساجد پر پب جی گیم اسٹائل میں حملہ کیا بلکہ اسی طرز پر حملے کی ویڈیو ریکارڈ بھی کرتا رہا۔
دہشت گردی اور نوجوانوں میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد دنیا بھر میں خونی گیم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔


شیئر کریں: