لاہور گرامر اسکول میں اساتذہ کی جانب سے جنسی حراسگی کے واقعات

شیئر کریں:

لاہور گرامر اسکول میں بچیوں کے ساتھ جنسی ہراسگی واقعات منظر عام پر آئے تو طالبات اور والدین میں تشویش پھیل گئی۔
سوشل میڈیا پر شور مچا تو پھر پنجاب کی حکومت بھی ہوش میں آئی اور فوری نوٹس لینے کا اعلان کر دیا گیا۔
گزشتہ دنوں زندہ دلان لاہور میں اسکولوں کی بڑی چین لاہور گرامر اسکول میں اساتذہ کی جانب
سے طالبات کو فحش تصاویر اور پیغامات بھیجنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
ٹیچر اعتزاز، عمر، شہزاد اقبال اور زاہد اقبال وڑائچ پر جنسی ہراسگی کے الزامات سوشل میڈیا
پر وائرل ہونے تو اسکول انتظامیہ پر دباؤ بڑھا۔

اسکول انتظامیہ نے عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے معزز پیشے میں چھپے بھیڑیے نما اساتذہ کو اسکول سے فارغ کردیا۔
اسکولوں میں ایسے واقعات کے بعد والدین میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
اعتزاز رحمان شیخ اے لیول میں فرسٹ ایئر کی بچوں کو پڑھاتے تھے۔
زاہد اقبال وڑائچ کیمسٹری اور عمر ایڈمن برانچ میں تعینات تھے۔

لاہور گرائمر اسکول کی ہیڈ گرل کے مطابق 2018 میں عمر اکاؤنٹس آفس میں بدنام تھے۔
وہ وہاں خواتین کو گھورتے اور ہیڈ گرل کو عجیب ناموں سے مخاطب کیا کرتے تھے انتظامیہ کو
متعدد شکایات بھی کی گئیں لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
والدین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نے اساتذہ کے مقدس رشتے کو بھی پائمال کردیا ہے۔
علم باٹنے کے نام پر والدین کو لوٹا جا رہا ہے اور پھر بچیوں کو بلیک میل بھی کیا جا رہا ہے۔

ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون پر عملدرامد کروانا ہو گا، صرف تعلیمی اسناد کافی نہیں
استاتذہ کیلَئے کاونسلنگ کا عمل بھی لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس جانب خصوصی توجہ دینی ہو گی۔

عام آرا یہی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایشو سامنے آنے اور والدین کے احتجاج پر حکومت
نے نوٹس لے کر اپنی زمہ داری پوری کر لی۔

جیسا کہ ماضی میں بھی حکومتیں نوٹس لیتی رہی ہیں تاکہ معاملہ کو ڈھنڈا کیا جائے
اور پھر سے وہی واقعات رونما ہونے لگتے ہیں۔

والدین کا کہنا اگر اس مرتبہ حکومت نے گرامر اسکول کے واقعہ کو نشان عبرت نہ بنایا
تو پھر ایسے واقعات کو روکا نہیں جا سکتا۔


شیئر کریں: