پاکستانیوں کیلئے اگست خطرناک ہوگا،لاکھوں اموات کاخدشہ

شیئر کریں:

پاکستانیوں کے لیے کورونا وائرس سے متعلق عالمی اداروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
مہلک وائرس کی وبا پاکستان کے طول و عرض میں پھیل چکی ہے۔
پاکستان کا کوئی بھی ضلع اس وقت کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رہا۔
کورونا وائرس کا پاکستان میں مقامی سطح پر پھیلاو اب تیزی سے جاری ہے۔
ایمپیریل کالچ لندن نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی منظر کشی ہے۔
پاکستان میں کورونا پھیلاؤ پر عالمی ادارہ کو تشویش، دوبارہ لاک ڈاؤن تجویز

موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایمپیریل کالج نے تخمینہ لگایا ہے کہ پاکستان میں
کورونا کا عروج 10 اگست تک آئے گا۔

ملک میں کورونا کے انتہا تک پہنچنے تک کم از کم 80 ہزار شہری جاں بحق ہو جائیں گے۔
عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس گھر گھر میں پھیل چکا ہے۔
حکومتی پالیسیوں اور شہریوں کی طرف سے سماجی فاصلوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ
سے پاکستان میں قیامت کی سی صورت حال ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس پاکستان میں اس قدر پھیل چکا ہے اب وائرس سے ہونے والے
تباہی کو کم کرنا ناممکن ہے۔

ایمپیریل کالج کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کا پھیلاو روکنے کے لیے اب بھی سنجیدہ
اقدام اٹھائے جائیں تو پاکستان میں مہلک وائرس سے کم از کم 22 لاکھ اموات ہوں گی۔
ایک طرف عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر عالمی ادارے پاکستان میں کورونا کے
تیزی سے ہونے والے پھیلاو پر بار بار وارننگ جاری کر رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت
کی طرف سے کوئی سنجیدہ اقدام نظر نہیں آرہے۔

پاکستان کے تقریبا 10 اراکین پارلیمنٹ کورونا سے شہید

کورونا کے پھیلاو کے باوجود حکومت نے لاک ڈاون کے نفاذ کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
اس وقت پاکستان میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ انتالیس ہزار دو سو تیس ہو چکی ہے۔
اسی طرح مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 ہزارچھ سو بتیس تک پہنچ گئی ہے۔
اس دوران صرف اچھی خبر یہ ہے کہ پچاس ہزار چھپن افراد وبا کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں۔


شیئر کریں: