کورونا نے قیامت کی منظر کشی کردی،اہل خانہ پیاروں کو چھوڑنے لگے

شیئر کریں:

(ڈسکہ سے ایوب چوہان)
کورونا وائرس کی وبا نے خونی رشتوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
زندگی کی خوشیاں اور دکھ درد میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
کورونا سے محفوظ رکھنے کی کوششیں بھی کیں لیکن جیسے ہی ٹیسٹ پازیٹو آیا پھر راہیں جدا ہونے لگیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے شاھد گجر محلہ میں پیش آیا۔

ارسلان ولد رفاقت سکنہ بھکڑے والی کورونا وائرس کا شکار ہو کر 5 جون کو گھر پر دم توڑ گیا۔
ارسلان کی کراہت اور آواز نہ آنے پر اہل خانہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ قریب گئے۔

جسم سے روح پرواز کر چکی تھی اور یقین ہونے پر کہ اب یہ بے جان ہے تو سب
ماضی کی اپنی جان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

کچھ وقت گزرنے کے بعد اہل محلہ کو علم ہوا تو انہوں نے انتظامیہ کو اطلاع دی۔
اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ نے اطلاع ملتے ہی خلق محمدی فاؤنڈیشن اور ینگ بلڈ فاؤنڈیشن کے ہمراہ گاؤں پہنچے۔
سیکیورٹی انتہائی احتیاطی تدابیر کے ساتھ مرحوم کی نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا۔

زندگی میں اہل خانہ کو خوشیاں فراہم کرنے والے کی تدفین میں کوئی اپنا شریک نہ ہوسکا۔
خلق محمدی فاؤنڈیشن اور ینگ بلڈ فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے ارسلان کو سپرد خاک کیا۔


اس طرح کے کئی واقعات پچھلے تین ماہ میں پیش آچکے ہیں۔
کیا یہ قیامت کے آثار نہیں کیونکہ کہا یہی جاتا ہے کہ قیامت کے روز کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔
کہیں وہ دور آتو نہیں آگیا؟
کیا مسلمان اپنے ایمان پر اتنا کمزور ہو گیا جو اپنے خون کو بھی چھوڑ دے؟
یہ صرف ارسلان کی فیملی ہی کا طرز عمل نہیں بلکہ یہ معاشرہ کی عکاسی ہے۔
زندگی کے ہر شعبہ میں اسی طرح کا طرز عمل اختیار کیا جارہا ہے۔
کسی کو اگلے لمحہ کا علم نہیں لیکن وہ لوٹ مار میں دن رات مصروف ہے۔


شیئر کریں: