پاکستان کے حالات صومالیہ جیسے لیکن رہتے بادشاہوں کی طرح ہیں

شیئر کریں:

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ سرکاری دفاتر کھول کر نجی ادارے بند کیے جارہے ہیں۔
سندھ حکومت کے فیصلوں میں بڑا تضاد ہے
اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ بولے وفاقی حکومت طبی ماہرین کی رائے کے برخلاف جارہی ہے۔
عدالت کے ہفتہ اتوار لاک ڈاون سے متعلق حکم سے ممکن ہے حکومت مطمئن نہ ہو لیکن اس پرعمل کیا۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہفتہ اتوار کو بازار کھولنے کا حکم صرف عید تک کے لیے دیا ہے۔
ہماری پورے پاکستان پر نظر ہے، آنکھ، کان اور منہ بند نہیں کر سکتے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ بولے عدالت ہماری گزارشات بھی سن لیں۔

سپریم کورٹ کا شاپنگ مالز کھولنے کا حکم

عدالت ماہرین کی کمیٹی بنا کر رپورٹ طلب کرلے،لاک ڈاون ختم ہوگیا اب اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟
ہفتے میں دو دن لوگ مارکیٹ نہیں آئیں گے تو وباء کا پھیلاؤ زیادہ نہیں ہو گا۔
جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے پنجاب اور اسلام آباد میں مالز حکومتیں کھول رہی تھیں۔
جسٹس سردار طارق نے کہا عدالت نے حکم صرف سندھ کی حد تک دیا تھا۔
باقی ملک میں مالز کھل رہے تو سندھ کے ساتھ تعصب نہیں ہونا چاہیے۔
عدالت کا گزشتہ روز کا حکم بالکل واضح ہے،مالز محدود جگہ پر ہوتے ہیں جہاں احتیاط ممکن ہے۔
راجہ بازار، موتی بازار اور طارق روڈ پر رش بہت زیادہ ہوتا ہے۔
مالز کھولنے کا الزام عدالت پر نہ لگائیں۔
چیف جسٹس نے کہا مسئلہ ملکی پیداوار کا ہے تاکہ ریونیو بنے اور نوکریاں ملیں۔
پاکستان میں ہر کمپنی اور ادارہ بند ہو رہا ہے۔

ہماری معیشت کا موازنہ افغانستان،یمن اور صومالیہ سے کیا جاتا ہے۔
حالات صومالیہ کی طرف جارہے ہیں لیکن بادشاہوں کی طرح رہ رہے ہیں۔
حکومت کی ساری توجہ شہروں پر ہے دیہاتوں میں کوئی نہیں جا رہا۔
کورونا پر دیہاتوں میں آ ج بھی لوگ دم کروا رہے ہیں ادھر بھی دیکھیں۔
حاجی سینٹر قرنطینہ پر 56 کروڑ خرچ کر دئیے گئے۔
حاجی کیمپ خرچے کے باوجود قرنطینہ سینٹر تو نہ بن سکا چلو حاجیوں کی بہتری ہو جائے گی۔
قرنطینہ میں جانے والا بغیر پیسے دئیے باہر نہیں نکل سکتا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے جنرل افضل خان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا ملک میں اس وقت ماہانہ 10 لاکھ کٹس تیار کی جا رہی ہیں۔
ضرورت سے زائد کٹس ایکپپورٹ کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا ہمارے لوگ چائینہ سے آخری معیار کی چیز بنواتے ہیں۔
امریکا سمیت دیگر ممالک میں چیزوں کی خریداری کا ایک معیار رکھا جاتا ہے۔

ہمارے لوگوں کو جانوروں سے بد تر رکھا جارہا ہے، سرکار کے تمام وسائل کو لوگوں کے اوپر خرچ ہونا چاہیئے۔
کسی مخصوص کلاس کیلئے سرکار کے وسائل استعمال نہیں ہونے چاہیں۔
این ڈی ایم اے شہروں میں کام کر رہا ہے دیہاتوں تک تو گیا ہی نہیں،دیہاتوں میں لوگ پیروں کے پاس جاکر دم کروا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کورونا وائرس پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔


شیئر کریں: