شوگر ملز کا پیداوار کم کرکے انکوائری کمیشن پر دباو

شیئر کریں:

شوگر انکوائری کمیشن کی جاری تحقیقات پر اثرانداز ہونے کے لیے شوگر ملوں نے اس دوران چینی کی پیداوار ہی کم کر دی ہے۔
مارچ کے دوران شوگر ملوں کی طرف سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد کم چینی تیار کی۔
پاکستان میں شوگر ملوں نے مارچ کے دوران مجموعی طور پر 7 لاکھ 2 ہزار 796 ٹن چینی تیار کی جو گزشتہ سال سے 4 لاکھ 67 ہزار 500 ٹن کم ہے۔
گزشتہ سال مارچ میں چینی کی پیداوار 11 لاکھ 70 ہزار 295 ٹن تھی،، سرکاری رپورٹ کے مطابق فروری میں بھی مقامی طور پر چینی کی پیداوار پہلے سے 8 فیصد اور جنوری میں 2 فیصد کم رہی۔
فروری میں شوگر ملوں میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 78 ہزار 775 ٹن اور جنوری میں 15 لاکھ 41 ہزار 642 ٹن چینی تیار کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق رواں سیزن میں اب تک مجموعی طور پر شوگر ملوں کی چینی کی پیداوار 48 لاکھ 16 ہزار 448 ٹن رہی جو گزشتہ سیزن سے 82 ہزار 421 ٹن کم ہے۔
‎پیپلزپارٹی نے آٹا چینی بحران کامعاملہ منظرعام پرلانےکامطالبہ کردیا ہے۔
رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کہتی ہیں آٹاچینی بحران رپورٹ پرحکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔
فرانزک ٹیسٹ جہانگیرترین اور خسروبختیار کو بچانے کا بہانہ ہے۔
‎اپوزیشن رہنماؤں کوبنا ثبوتوں کے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔‎
‎‏فرانزک ٹیسٹ کے لئے دیئے گئے 2ہفتے مکمل ہوچکے ہیں۔
‎‏فرانزک ٹیسٹ منظرعام پرلاکر ذمہ داران کو سزا دی جائے۔
‎‏پیپلزپارٹی عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کا معاملہ دبنےنہیں دے گی۔


شیئر کریں: