پاکستان کا آٹو سیکٹر تباہ ہو گیا

شیئر کریں:

ملک میں آٹو سیکٹر کے لئے اپریل کاروباری لحاظ سے بدترین ثابت ہوا۔
مقامی طور پر تیار ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہو سکی۔
پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اپریل کے مہینے میں
ٹریکٹر اور بڑی گاڑیوں کی قلیل تعداد میں فروخت کے علاوہ کاروں کی فروخت صفررہی ہے۔
اس وقت ملک میں پاک سوزوکی، انڈس موٹرز اور ہنڈا اٹلس لمیٹڈ مقامی طور پر کاروں کی پیداوار
اور فروخت کرنے والی کمپنیاں ہیں۔
تینوں کمپنیوں نے پچھلے سال اپریل کے مہینے میں ستائیس سو سے زائد گاڑیاں فروخت کی تھیں
جبکہ موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ میں بھی کاروں کی فروخت میں پچاس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ۔
آٹو سیکٹر سے وابستہ افراد نے مارچ کے وسط سے ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے
لگنے والے لاک ڈاؤن کو کاروں کی پیداوار میں کمی اور فروخت نہ ہونے کی وجہ قرار دیا ہے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے کچھ صنعتی شعبے کھل چکے ہیں لیکن ملک میں گاڑیاں
بنانے والے پلانٹس ابھی تک بند پڑے ہیں۔


شیئر کریں: