میر شکیل الرحمن اراضی کیس کی تحقیقات مکمل

شیئر کریں:

نیب لاہور کی جانب سے جیو اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن اراضی
کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

نیب لاہور نے میر شکیل الرحمن کیس میں جاری تحقیقات ریکارڈ مدت میں مکمل کر لی ہیں۔
جنگ جیو کے مالک شکیل الرحمن کا پھر ریمانڈ
نیب ریجنل بورڈ نے میر شکیل الرحمن اور دیگر 3 شریک ملزمان کے خلاف ریفرنس داخل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
زرائع کے مطابق ریفرنس میں میر شکیل الرحمن بطور مرکزی ملزم قرار دیے گئے ہیں۔

سابق وزیر اعلی پنجاب میاں نواز شریف، سابق ڈی جی ایل ڈی اے ہمائیوں فیض رسول اور سابق ڈائریکٹر لینڈ
میاں بشیر شریک ملزمان کے طور پر نامزد ہیں۔
ریفرنس میں ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے قیمتی اراضی
کی منتقلی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ملزمان نے مبینہ طور پر نہر کنارے آئیڈیل لوکیشن پر واقع اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کروائی۔

الاٹ کی گئی اراضی ایک ہی بلاک پر مشتمل تھی جو کہ ایگزیمپشن لاز کی سراسر خلاف ورضی کے مترادف تھی۔

ملزمان نے غیر قانونی طور پر 2 گلیاں بھی مجوزہ زمین میں شامل کرتے ہوئے ساڑھے 54 کنال کے بجائے 59 کنال
زمین کی الاٹمنٹ آپس کی ملی بھگت سے حاصل کی۔
نیب انویسٹی گیشن ٹیم کیجانب ملزم نواز شریف کو دو مرتبہ طلبی کے نوٹس اور سوال نامہ بھی ارسال کیا گیا
جس کے تاحال جواب موصول نہ ہو سکے۔
کمرہ عدالت میں میر شکیل الرحمن کی طبیعت اچانک کیوں خراب ہوگئی تھی
اس کیس میں عدام تعاون پر نواز شریف کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کئے گئے ہیں۔
نیب تفتیشی ٹیم کی جانب سے ملزمان کے خلاف 16 گواہان ریفرنس کا حصہ بنائے گئے ہیں۔
نیب وکلاء ٹیم کی احتساب عدالت کو روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کی درخواست کئے جانے کا امکان ہے۔

میر شکیل الرحمن کیس ریفرنس حتمی منظوری کے لئے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو نیب ہیڈ کوارٹر ارسال کر دی ہے۔
ریفرنس چیئرمین نیب سے منظوری کے بعد فوری طوری پر احتساب عدالت لاہور میں داخل کر دیا جائے گا۔


شیئر کریں: