کون سے وزرا قادیانیوں کو اقلیت میں شامل کرانا چاہتے ہیں؟

شیئر کریں:

تحریر مظاہر سعید
اللہ ایک ہے اور نبی کریم حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہمارے آخری نبی ہیں۔
ایک مسلمان کی کل کائنات بس یہی ہے ختم بنوتﷺ کے تحفظ کے لیے ہماری جانیں قربان
رسول اکرم ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا۔
ہر سچا مسلمان عاشق رسول ہے عمران خان کی حکومت بنےسے قبل مختلف پیلٹ فارم سے یہ بات کہی
جارہی تھی کہ عمران خان کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کروانے کی بھرپورکوشش کرےگی۔
ذاتی طور پرعمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا وزیراعظم کی اب تک کی تقاریر سے اس بات کا
انداذہ لگایا جاسکتا ہے کہ عمران خان ایک ایماندار انسان ہونے کے ساتھ ساتھ قوم کا درد سمجھتےہیں۔
کچھ روز قبل وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے انٹرویو کے دوران سب کو حیران کرتے ہوئے ایک ایسا بیان
داغ دیا جس نے پاکستان سمیت پوری دنیا میں رہنےوالے پاکستانیوں کونہ صرف حیران بلکہ پریشانی میں مبتلا کردیا۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری صاحب نے بیان کیا کہ کابینہ کے پانچ سے چھ وزا ایسے ہیں
جو قادیانیوں کواقلیت میں شامل کروانا چاہتے ہیں۔
یہ کون ہیں؟
کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں؟
خیر کچھ زمینی حقائق کی بات کریں تو پاکستان کےحالات دنیا سے چھپے نہیں۔
پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ایک طرف بھارت کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی سے نمٹ رہے ہیں
تو دوسری جانب اسرائیل ایک بار پھر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
گزشتہ دس سالوں کے دوران ملک کے حالات بدلے اور دہشت گردی کے واقعات میں نمایا کمی آئی۔
یہ صرف گولہ باری سے نہیں بلکہ ان حالات کو بہتر بنانے کے لیے ماں باپ نے اپنی اولاد، بچے اپنے باپ،
لڑکیاں اپنے سہاگ اور بہنوں نے اپنے بھائیوں کی قربانی دی۔
افواج پاکستان دنیا کی واحد فوج ہے جسے بیرونی اور اندرونی دونوں اقسام کی دہشت گردی کا سامنا ہے
اس وقت بھی سامنا ہے۔
ان تمام حالات کے باوجود ہاتھ میں تسبی لیے وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے پانچ یا چھ وزیر
قادیانیوں کو اقلیت میں لانے کے حق میں ہیں۔

وفاقی وزیر اس کا سب کے سامنے اعتراف بھی کرچکے ہیں۔
کیا عمران خان کےساتھ کام کرنے والے وزرا یہودی لابی کا حصہ تو نہیں؟
وفاقی وزیر نے اعتراف کر کے پورے عالم اسلام کو پریشان کر دیا ہے۔
قادیانی ایک ایسا فتنہ جو 1973 کے آئین کو مانتا ہے اور نہ ہی ختم نبوتﷺ پر یقین رکھتا ہے۔
اس فتنے کو اقلیت میں شامل کروانے کے لیے کابینہ کے افراد سیڑھی کا کردار ادا کرتے رہے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی قادیانی فتنہ کو وفاقی کابینہ کی ہونے والی میٹنگ کے منٹس میں بھی شامل کیا گیا
جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ صرف پانچ یا چھ وزرا ہی نہیں بلکہ ان ک ہمراہ ایک ٹیم ہے جو
سازش کے تحت ایٹمی طاقت کہ حامل پاکستان میں قادیانیوں کوحقوق کے ساتھ رہنے کی اجازت دلوانے کے در پر ہے۔

اسرائیل کورونا ویکسین سے انسانوں کو چلائے گا؟

قادیانی آخرکس کی ایجاد ہیں؟
برطانیہ یا امریکا؟
قادیانیوں کا مرکز اسرائیل ہے وہ اسرائیل جس نے فلسطین میں ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے۔
بچے، بوڑھے اور جوان سب ہی کو بے دردی سے شہید کرنے کے ساتھ کئی نسلوں کو تباہ کر چکا ہے۔

لیکن ان مظلوموں کی داد رسی کرنے والی کوئی انسانی حقوق کی تنظیم نہیں کیونکہ اس
شیطان (اسرائیل) کو امریکا اور برطانیہ کی پشت پنہائی حاصل ہے۔
اسرائیل کا شیطانی چہرہ پوری دنیا کے سامنے ہونے کے باوجود ایسی کیا مجبوری آن پڑی جو وفاقی
کابینہ کے وزرا قادیانیوں کو اقلیت میں شامل کروانے پر تلے ہوئے تھے؟

وہ کون سے وزرا ہیں جن میں قادیانیوں سے اتنی محبت جاگ اٹھی کہ ان کو اقلیت کا درجہ دینے کے لیے حمایت کر ڈالی؟

عمران خان ان حالات کے پیش نظر اگر ایسے وزرا کو سامنے نہیں لاسکتے تو کم از کم ان وزرا سے ان کے قلمدان چھین لینے چاہیں۔
ان کی مکمل تحقیقات کروائی جائے کہ یہ وزرا کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی ایجنسی موساد سن 2000 سے2015 تک انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کو کافی نقصان پہنچا چکا ہے۔
سیکیورٹی فورسسز کے بروقت اقدامات کی وجہ سے موساد اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکی اور اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔
اب یہ شیطان (اسرائیل) جو بیت المقدس قبلہ اول پرقابض ہے۔
نئی شیطانی سازش کے زریعے پاکستان میں قادیانیوں کو اقلیت میں شمار کروانا چاہتا ہے تاکہ ان شیطان صفت
رکھنے والے قادیانیوں کو اسلام کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کے لیے موثر جگہ مل سکے اور پاکستان
میں کارروائی کے لیے بیرونی ہاتھوں کے بجائے اندرونی افرادی قوت کا استعمال کیا جاسکے۔

اس بار بروقت یکجا ہو کر قادیانیوں کو اقلیت میں شامل ہونے سے روک دیا لیکن ان
شیطانوں پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان کے سیکیورٹی اداروں بالخصوص آرمی چیف، ڈجی آئی ایس آئی اور دیگر قانون نافذ
کرنے والے اداروں کو ان تمام پانچ یا چھ وزرا کے خلاف سخت انکوائری کرنے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: