تبدیلی سرکار کی بیوروکریسی میں کون سا وائرس پھیلنے لگا؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

تین چار دن پہلے کپتان لاہور آیا تو مجھے بھی ملاقات کا بلاوا آیا نہ ملنے کا شکوہ کیا اور جب میں نے بتایا کہ مجھے تو 3 سال ہوگئے کراچی سے لاہور ٹرانسفر ہوئے تو چھوٹتے ہی کہا
“تم میری بیوی کے خلاف خبریں چلاتے ہو”
میں نے (فرسٹ لیڈی کی سب سے قریبی سہیلی کا نام لے کر کہا) میں تو اس کے خلاف خبریں چلاتا ہوں جو ساری اہم پوسٹنگ ٹرانسفرز کرواتی ہے۔
وہی جو گوجرانوالہ ، لاہور میں اپنی فیورٹ لیڈیز کو اے سے ڈی سی لگواتی ہے:
یہ واقعہ ٹھیک 4 ماہ پہلے میرے ایک پرانے ساتھی نے سنایا تھا جو ایک بڑے میڈیا گروپ کے نیوز چینل کا بیورو چیف ہے۔

اس نے اس” سہیلی ” جو نون لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق صوبائی وزیر (موجودہ ایم پی اے) کے صاحبزادے کی بیوی ہے۔
اس کے بارے میں بتایا “وہ بنیادی طور پر ایک ” پارٹی گرل ” ہے، اس بندے کی دوسری بیوی ہے۔
اس کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات بھی ایک نائٹ پارٹی میں ہوئی تھی ،یہ عورت پراپرٹی کا بزنس کرتی ہے۔

یہ واقعہ مجھے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا میں وائرل ہونے والی ایک لیڈی سول بیوروکریٹ کی ایک اعلیٰ پولیس افسر کے ساتھ” قابل اعتراض ” تصاویر کی وجہ سے یاد آیا کہ موصوفہ کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ ضلع شیخوپورہ میں اے سی ننکانہ اور اے سی سٹی گوجرانوالہ کے علاوہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ بھی تعینات رہی ہیں۔
سول سروس کے ایک دوسرے گروپ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون افسر نے اس خاتون بیوروکریٹ کا نام لے کر کہا
“میں اسے بہت عرصے سے جانتی ہوں ، شروع ہی سے اس کے یہی لجھن ہیں ، وہ actually اپنے موجودہ شوہر کی سیکنڈ وائف ہے ، یہ میڈم کا چوتھا افیئر ہے اس سے پہلے بھی اس کے 3 افیئرز سول سرونٹس ہی کے ساتھ رہے ہیں ، وہ اپنی موج مستی کے لئے کوئی افسر ہی پکڑتی ہے”۔

لاہور کے ایک نیوز میڈیا گروپ کے سٹی چینل میں کام کرنے والے ایک دوست کا کہنا تھا “ہم نے  اس اسکینڈل کی خبر چلائی تھی لیکن ابھی 2 بلیٹنز ہی میں چلی تھی کہ پولیس افسران کے فون آنا شروع ہوگئے اور اتنا پریشر آیا کہ خبر ہٹا دی”۔

موصوفہ جس نے پنجاب یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے اس کا شوہر بھی سول سرونٹ ہے جو خود بطور ڈپٹی کمشنر تعینات رہا ہے۔
اس وقت پولیس سے بھی زیادہ طاقتور ایک وفاقی ایجنسی میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہا ہے ۔
مگر اس سارے قصے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جس سول سرونٹ کے ساتھ موصوفہ کی نازیبا تصاویر منظر عام پر آئی ہیں، خود اس اعلیٰ پولیس افسر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 48 گھنٹے قبل لاہور کی رنگ روڈ پر پولیس ناکے پر روکے گئے ایک نوجوان جوڑے کی وڈیو جاری کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ پنجاب کے ایک اہم ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں تعینات اس اعلیٰ پولیس افسر کو بطور ایک ” good cop  ” مقبولیت بھی حاصل رہی ہے جو ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہے۔
اسے چند روز قبل ہی اس وقت کافی عوامی پذیرائی بھی حاصل ہوئی جب اس نے 7 سالہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کے ملزم کو فرضی پولیس مقابلہ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کی کارکن خدیجہ صدیقی نے بھی اس ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔
خدیجہ اپنے ایک کلاس فیلو کی طرف سے قاتلانہ حملے میں زندہ بچ جانے کے بعد ایک سخت عدالتی جنگ لڑ چکی ہیں۔


شیئر کریں: