نیب ترامیم کا مسودہ میڈیا کو کس نے دیا؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت بڑی اپوزیشن پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت نے اٹھارہویں ترمیم میں اہم “چھیڑ چھاڑ ” کی ” منظوری ” دینے کے بدلے اپنے خلاف قائم تمام مقدمات ختم کرنے کی شرط رکھ دی۔
لیکن مجوزہ نیب ترمیمی قانون پر حکومت اور مقتدر حلقوں کے مابین اختلاف رائے سے معاملہ لٹک گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سویلین قیادت کی انا مقتدر حلقوں کے اہداف کے حصول کی راہ میں ایک بار پھر رکاوٹیں پیدا کرنے لگی ہے.
تازہ ترین شاخسانہ نیب ترامیم  کے تیار مسودہ قانون کو عین آخری لمحوں میں مبینہ طور پر افشاء کردیا جانا ہے۔
اس کا قبل از وقت میڈیا پر پیش کرانا مجوزہ ترمیمی قانون پر طرفین میں شدید اختلاف رائے کا نتیجہ بتایا جاتا ہے.

ذرائع کہتے ہیں مقتدر حلقوں نے آنے والے بجٹ سے پہلے پہلے 18 ویں آئینی ترمیم کی جزوی واپسی کا ہدف مقرر کیا تھا۔
اس مقصد کے تحت دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بیک ڈور چینل سے جاری گفت و شنید میں بلاول ہاؤس اور جاتی امرا کی جانب سے شرط رکھی گئی ہیں۔
آصف زرداری اور شریف فیملی کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات کے تحت جو کیسز قائم کئے گئے ہیں انہیں واپس لینے کی کڑی شرائط رکھ دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ راضی بھی ہوگئی اس کی ایک جھلک نیب لاء میں ترامیم کے تیار کئے گئے ڈرافٹ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو ایک روز قبل اچانک میڈیا میں leak کردیا گیا۔

اس میں سیاست دانوں کے خلاف NAB نہ تو 5 سال سے زائد عرصہ قبل کے کرپشن کیسز چلا سکے گا اور نہ ہی ایک ارب روپے تک کی بدعنوانی کے الزامات پر ان پر ہاتھ ڈالا جا سکے گا۔
یہ وہی اہم نکات ہیں جو زرداری اور ” شریفوں ” سمیت کلیدی اپوزیشن رہنماؤں کو ریلیف فراہم کرتے ہیں لیکن ترمیمی بل کا ڈرافٹ تیار ہوجانے کے بعد یہ خفیہ سرکاری دستاویز عین آخری لمحات میں یکایک منظر عام پر آگئیں جس سے قانونی مسودے پر پیش رفت کا ضروری پراسیس رک گیا ہے۔
سنجیدہ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ یہ اہم مسودہ آخر کس نے میڈیا میں leak کیا۔

نیب قانون میں ترامیم کے لئے قانونی ڈرافٹ تیار کرنے والی حکومتی ٹیم میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم ، اٹارنی جنرل ، وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور پارلیمانی امور کے مشیر بابر اعوان جیسی چیدہ چیدہ شخصیات شامل تھیں۔
باور کیا جاتا ہے کہ ان میں سے وزیر موصوف مقتدر حلقوں کے نکتہ نظر اور بابر اعوان سیاسی قیادت یعنی وزیر اعظم عمران خان کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہیں ، جو نیب قانون میں سختی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

باخبر ذرائع کا اصرار ہے کہ نیب آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کا ڈرافٹ مرتب کرنے والی سرکاری ٹیم کے اراکین میں شامل ان 2 شخصیات میں سے کوئی ایک ہی اس اہم دستاویز کو میڈیا میں leak کر سکتی ہے۔
ان میں ایک اسلام آباد کی ترجیحات اور دوسری ” راولپنڈی ” کے مؤقف کی نمائندگی کرنے والی قانونی شخصیت شامل ہے۔
” مقتدر حلقے نیب قانون میں اپوزیشن سیاست دانوں کے لئے فوری ریلیف کی راہ ہموار کرنے والی مجوزہ ترامیم کے حامی ہیں تاکہ اس سے اٹھارہویں ترمیم میں اہم رد و بدل سے جڑے ہدف کا جلد سے جلد حصول اور ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
لہٰذا حکومتی ٹیم میں ان کی خواہشات کی پاسداری کرنے والی شخصیت ایسی ” حرکت ” کر کے کھیل کیوں بگاڑے گی “۔


شیئر کریں: