برطانیہ میں بھی پلازمہ ٹرائل

شیئر کریں:

پاکستان کے بعد برطانیہ نے بھی کورونا کے علاج کے لیے پلازمہ ٹرائل کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
برطانوی ادارے این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ نے کورونا وائرس سے نجات حاصل کرنے والے افراد سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔
صحت یاب ہونے والے افراد سے خون کے نمونے فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ اس طریقہ علاج کا جائزہ لینے کے لیے ٹرائلز کی باقاعدہ ابتدا کی جا سکے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صحت یاب افراد کے خون میں بننے والی اینٹی باڈیز وائرس کا شکار افراد کے خون سے وائرس کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
سائنس دانوں نے منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے اور یونیورسٹی آف ویلز نے پہلے ٹرائل کااعلان بھی کر دیا ہے۔
امریکا میں بھی قومی پلازما پراجیکٹ شروع ہو چکا ہے جس میں 1500اسپتالوں کی معاونت شامل ہے۔
سائنس دان ابھی یہ اندازہ لگانے میں بھی مصروف ہیں کہ کورونا کے علائج کے لیے یہ طریقہ کتنا موثر ہوگا۔
ماہرین پرُامید ہیں کہ وبا کا کوئی موجودہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے موثر ویکسین کی تیاری تک اس طریقہ علاج کے ذریعے مدد مل سکتی ہے۔
کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے برطانیہ سے پہلے ہی کورونا کے صحت یاب مریضوں کے خون سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز سے انٹرا وینیس امیونو گلوبیولن تیار کر رکھی ہے لیکن ابھی اس کا تجربہ نہیں کیا گیا۔


شیئر کریں: