میر شکیل الرحمان کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات

شیئر کریں:

تحریر حیدر نقوی

جو کچھ میں لکھنے جا رہا ہوں یہ کہیں نہیں چھپے گا کہیں بھی نہیں یہاں تک کے جنگ اخبار میں بھی نہیں مگر لکھنا ضروری ہے چُھپے ہوئے سچ کو بتانا اور لوگوں کو آئینہ دکھانا ضروری ہے۔
بہت ضروری ، چاہے اسے 80 لاکھ کی جگہ صرف 8 لوگ ہی پڑھ پائیں مگر کم از کم میں تو سچ لکھنے کا حق ادا کردوں گا۔ ہوسکتا ہے آپ کو لفافہ خور لگوں مگر سوچیں اگر یہ تحریر میر شکیل کے خلاف لکھتا تو شاید زیادہ فائدہ اُٹھالیتا اور یہ ہی ایک سب سے بڑا ثبوت ہے کہ وفاداری پیسوں سے نہیں خریدی جاتی خلوص اور محبت سے حاصل کی جاتی ہے۔
میں مخاطب ہوں میر شکیل الرحمن اور اُن کے گھرانے سے جو کہ اس وقت تکلیف میں نہیں بلکہ شدید تکلیف میں ہیں صرف اس لیے کہ اُن کے گھر کا سربراہ ایک ایسے کیس میں گرفتار ہوکر ایک چھوٹی سی کال کوٹھری میں بند کردیا گیا ہے جہاں ایک ستر سالہ بیمار شخص کا رہنا تو دور کی بات ایک جوان بھی نہیں رہ سکتا اور یہ ہی نہیں ہر لمحہ دی جانے والی ذہنی اذیت اس کے علاوہ ہے ہم آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گے ۔
کیس کی قانونی حیثیت پر تو بہت بات ہورہی ہے اور دنیا کے بڑے بڑے قانون دان کررہے ہیں۔
کوئٹہ کی گلیوں سے لے کر اقوام متحدہ کے فلور تک چیخ چیخ کر دنیا کو بتارہے ہیں کہ اس سے بڑی بےانصافی کی کوئی مثال ہو ہی نہیں سکتی۔
دنیا کے ہر وکیل کو یہ نا انصافی نظر آرہی ہے بس اگر کسی کو نظر نہیں آرہی تو انھیں جو مسند انصاف پر براجمان ہیں۔
جن کی طرف روز ہزاروں سائلین اپنے مقدمے لیے انصاف کے منتظر ہوتے ہیں اور اگر خدا کے بعد کسی پر بھی یقین اور اعتبار ہوتا ہے تو وہ یہ منصفین ہیں بلکہ کبھی کبھی تو خدا سے بھی زیادہ اعتبار ہوتا ہے کیونکہ خدا تو اپنے وقت پر فیصلہ کرتا ہے جس کے لیے کبھی کبھی بہت لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے ان منصفین کو فخر ہونا چاہیے کہ خدا نے انھیں یہ مقام بخشا ہے۔
مگر یہاں ہم نے میر شکیل کی گرفتاری کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ نہیں لینا بلکہ اخلاقی اور سماجی پہلوؤں پر بات کرنی ہے یہ تحریر روزنامہ جنگ کے اداریے پر اس لیے نہیں بھیجوں گا کیونکہ آدھی سے زیادہ سنسر کا شکار ہوجائے گی اور بچی کچی تحریر سے وہ موقف واضح نہیں ہوپائے گا جو آپ تک پہنچانا ہے۔

مزید پڑھیے: https://bit.ly/2yXbYpnمیر شکیل الرحمن کا مزید ریمانڈ

ذرا سوچیں میر شکیل پر ظلم کی مکمل داستان اُن کے اپنے اخبار میں بھی نہیں چھپ سکتی کیا اس سے زیادہ اخلاقیات کی بلندی پر کوئی شخص یا ادارہ آپ کو مل سکتا ہے کہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر کھل کر آواز بھی نہ اٹھاسکے ہوسکتا ہے آپ اسے ڈر یا خوف سے تشبیح دیں مگر میں اسے اداروں کا احترام اور اخلاقیات کی بلندی قرار دیتا ہوں جس کے لیے ہمیشہ جنگ گروپ کو بدنام کیا گیا۔
میں اپنی ایک بات کو مکمل دلائل کے ساتھ ثابت کرونگا تاکہ آپ کو یہ تحریر کسی بادشاہ کی منقبت نہ لگے اصلی طاقت لگے۔ میر شکیل کو میڈیا ڈان اور فرعون جیسےلقب دیے گئے زرا ایک لمحہ کے لیے سوچیں یہ کیسا ڈان ہے کہ جب وہ عدالت آتا ہے تو اُس کے بیس بائیس سال کے بچے بچیاں انصاف کی تلاش میں صبح سویرے عدالت پہنچتے ہیں اور سارا سارا دن انتظار کے بعد مایوس گھر لوٹ جاتے ہیں اور دوسری طرف گھر پر بڑی خواتین سورۂ یسین کا ورد کررہی ہوتی ہیں کیا ڈان کی اولاد اس طرح جیتی ہے کیا؟
اس طرح لازوال طاقت رکھنے والے زندگی گزارتے ہیں زرا ایک لمحے کو اپنے آپ کو اُن کی جگہ رکھ کر سوچیں تو سب خود سمجھ آجائے گا کہ اگر خدانخواستہ آپ کے بیمار باپ کو اس طرح گھسیٹا جارہا ہوتا تو آپ کا کیا رد عمل ہوتا ہوسکتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں میر شکیل تو قصور وار ہے اس لیے بھگتے اگر ایسا ہوتا تو کیا دنیا کے بڑے قانون دان اور سمجھدار لوگ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوتے کہ یہ کیس غیر قانونی اور کسی بھی طرح سے اس کیس میں گرفتاری نہیں ہوسکتی مگر یہ بھی ایک مضحکہ خیز بات ہی ہے کہ کیس بنانے سے پہلے گرفتاری کرلی اور اب راستہ نکالا جارہا ہے کہ کیس کو ثابت کیسے کیا جائے کیا اس سے پہلے اتنے لوگ گرفتار ہوئے ان پر کیس ثابت ہوگیا بالآخر سب ہی رہا ہوگئے مگر جو وقت اُنھوں نے گرفتاری میں گزارلیا جو تکلیفیں اُن کے بچوں نے سہہ لیں کیا اُن کا کوئی ازالہ ہے کوئی نہیں کیونکہ ہر طرف بس ظالم کی چلتی ہے اور مظلوم کو جھیلنا پڑتا ہے آج بھی جو ظلم کررہا ہے اُسے بظاہر تو کوئی نقصان نہیں ہوگا مگر ایک انتقام قدرت بھی لیتی ہے اور اُس پر تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ ظلم کرنے والوں کا خدا نے کیا حشر کیا جن پر ظلم ہوتا ہے شاید وہ تو ایک ہی دفعہ مرتے ہیں مگر ظلم کرنے والا ایسی زندگی گزارنے لگتا ہے جہاں وہ روز مرتا ہے کیا اس سے بڑی سزا کچھ ہوگی کس کس کی مثال دوں جوڈٹ گیا اور امر ہوگیا اور جو ظلم کرنے والا تھا وہ رہتی دنیا تک ایک گالی بن گیا۔
کسی کا نام لکھوں گا تو لوگ ذاتیات سے جوڑ دیں گے مگر بچے بچے کو پتا ہے کہ کون ہیرو ہے اور کون صرف گالی۔
آج بھی میر شکیل پر طاقت حاوی ہے اور یاد رکھیں طاقت تبھی استعمال ہوتی ہے جب دلیلیں ختم ہوجاتی ہیں جب انسان کا غرور اُس کی عقل پر حاوی ہوجاتا ہے جب طاقت استعمال کرنے والا وقتی طور پر بھول جاتا ہے کہ وہ بھی ایک انسان ہے اور اُسی خدا کو جواب دہ ہے جس کے بندے پر وہ طاقت استعمال کررہا ہے ہوسکتا ہے وہ یہ سوچ کر طاقت استعمال کررہا ہو کہ اسے کفر سے جنگ قرار دے یا بدی کا خاتمہ قرار دے مگر یہ تو تب ہی ممکن ہے نہ جب اللہ اور رسول کا دیا ہوا قانون اس کا فیصلہ کرے یا اُس قانون کے تابع بنایاگیا آئین اور اُس آئین کی شقیں یہ فیصلہ کریں۔
اور جب تک یہ فیصلہ نہ ہو ایک انسان ذاتی حیثیت میں کیسے کسی پر کوئی فتوی لگاکر ظلم کرسکتا ہے یقینناً ایک دن ہم سب نے اپنے خدا کے پاس واپس لوٹ جانا ہے اور جب قبر میں یہ سوال ہوگا کہ تو نے یہ ظلم کیوں کیا تو نہ ہی کوئی شمشیر کام آئے گی اور نہ ہی کوئی تدبیر۔
اسی لیے قران میں سورہء بقرہ میں کہا گیا کہ جب تو خدا کے بندے پر ظلم کررہا ہوگا تو تجھے تیری طاقت ایسا کرنے سے نہیں روکے گی بلکہ تیرے غرور کو بھڑاوا دے گی اور تیرے ارد گرد تیرے پیادے تجھے دنیا و جہان کا مسیحا بناکر پیش کریں گے مگر جب وقت گزرجائے گا تو تجھے تیرا احساس تیرے اپنے اندر ماردے گا اور اگر تو نہیں سمجھتا تو دیکھ ہم نے تیرے سے پہلے طاقت کے نشے میں چور خداؤں کے ساتھ کیا کیا جبھی ہم نے محمد عربی کو دنیا و جہان کے لیے رحمت العالمین بناکر بھیجا ہم چاہتے تو اُسے طاقت کا خدا بھی بناسکتے تھے ۔
ایک بڑا الزام میر شکیل پر غداری کا لگتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ وطن دشمن ہیں اور پاکستان کو کھوکھلا کرنے کے مشن پر ہیں مگر جب الزام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت مانگا جاتا ہے تو کوئی جواب نہیں آتا اور ظاہر ہے اگر واقعی کوئی ثبوت ہوتا یا الزام سچا ہوتا تو کیا میر شکیل کو اس مضحکہ خیز اور جھوٹے کیس میں پھنسایا جاتا۔

مزید پڑھیے: https://bit.ly/3cbDoWPشکیل الرحمن کی ضمانت مسترد

سیدھا سیدھا غداری کے اُس کیس میں گرفتار کیا جاتا اور پاکستان کی عوام کے سامنے سب ثبوت رکھ دیے جاتے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا نہ بلاول بھٹو نے آواز اٹھانی تھی نہ شہباز شریف نے احتجاج کرنا تھا نہ عمران خان نے وزیراعظم بننے سے پہلے اُن کے گُن گانے تھے اور نہ پرویز مشرف جیسے بہترین حکمران نے میر ابراہیم کو اپنا بیٹا کہنا تھا اور نہ ہی میں نے یہ تحریر لکھنی تھی اور نہ ہی میر شکیل کی گرفتاری پر ملک کے جید علماء کرام یا قانون دانوں نے احتجاجی صدا بلند کرنا تھی مگر کیوں کہ سچ اس کے اُلٹ ہے اور یہ سارے قابل احترام لوگ یہ جانتے ہیں۔
زرا سوچیں پچھلے پندرہ سال سے غداری کا الزام سہنے والا میر شکیل اُس باپ کا بیٹا ہے جو تحریک پاکستان میں صف اول کا سپاہی تھا اور جس کے اخبار نے آزادی کی جنگ لڑنے والوں میں ایک حوصلہ اور ولولہ دیا تھا اور وہ تب جب انگریز سرکار کے جھوٹ سے پردہ اُٹھاتا تھا تو اُسے غدار کہا جاتا تھا اور دو دفعہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا مگر وہ رُکا نہیں اور آج اُس کی اولاد اور ادارے کو غدار کہا جاتا ہے بغیر کسی ثبوت کے بس چند ناقابل اعتبار آوازوں کے ذریعے۔
انگریزی کی ایک بڑی مشہور کہاوت ہے کہ جب آپ کو کسی سے شکایت ہو تو آپ اُس سے بات کریں اُس کے بارے میں بات نہ کریں بس یہ ہی مشورہ میرا اُن سب لوگوں کو ہے جن کو میر شکیل سے شکایت ہے کہ اُن کے ساتھ بات کریں اُن کے بارے میں کسی دوسرے سے بات نہ کریں ورنہ بیچ کے درباری اپنی ایک بوٹی کے لیے کبھی آپ کا پورا بکرا کاٹ دیں گے اور کبھی میر شکیل کا اور یہ شکایتیں کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جائیں گی اور اگر آپ کے الزام سچے ہیں تو مجھ سمیت ہر پاکستانی آپ کی طاقت بنے گا میر شکیل کی نہیں مگر بغیر ثبوت کے لڑی جانے والی یہ لڑائی دونوں طرف بس اختلاف ہی کو جنم دے گی اور ایک ایسے ادارے کی تباہی کا سبب بنے گی جس کے ذریعے ہزاروں لوگوں کارزق وابستہ ہے۔
امن کی آشا کو پاکستان مخالف تحریک کے طور ہر پیش کیا جاتا ہے اگر ہماری عوام میر شکیل کی 2008 میں دہلی میں ہندوستان کی سب سے بڑی کانفرنس FICCI میں کی جانے والی تقریر دیکھ لیں تو انھیں اندازہ ہوجائے گا کہ میر شکیل نے کس طرح پاکستان کا مقدمہ لڑا اور وہاں موجود ہندوستان کے حکمرانوں کے درمیان بیٹھ کر اُنھیں آئینہ دکھایا۔
بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی “را” بھارت کو پاکستان میں گالیاں دینے کے پیسے دیتی ہے کیونکہ جتنا پاکستان بھارت کو بُرا بھلا کہتا ہے۔
اُتنا بھارت میں ہندو متحد ہوتا ہے بصورت دیگر ہندوؤں میں ذات پات کی تفریق کی وجہ سے ہر وقت آپس میں ہی نفرت پائی جاتی ہے اس لیے اُن سب کو مصروف رکھنے کے لیے انھیں پاکستان سے نفرت کرائ جاتی ہے تاکہ وہ آپس میں متحد ہوں اور اس کے لیے “را” اربوں روپیہ خرچ کرتی ہے اور امن کی آشا جیسی کوششیں اُن کے اس عمل کونقصان پہنچاتی ہیں۔
ہاں حامد میر پر حملے کے بعد جو کچھ ہوا وہ غلط تھا مگر وہ ایک وقتی جزباتی فیصلہ تھا جس کا کسی نظریے یا سازش سے تعلق نہیں تھا۔
جنرل ظہیر السلام کی تصویر دکھانے کی سزا جیو نے بھگت لی اور ایسا کیوں ہوا تھا کبھی نہ کبھی حامد میر صاحب خود قوم کو بتا دیں گے۔
میر شکیل تو اُس وقت دبئی میں تھے اور انھیں یہ بتایا گیا تھا کہ حامد میر حملے میں جاں بحق ہوگئے ہیں اور اُن کی بیگم اور بھائی ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف پریس کانفرنس کرنے جارہے ہیں اگر آپ نے جیو پر یہ خبر نہ چلائی کہ یہ سب ڈی جی آئی ایس آئی کے کہنے پر ہوا ہے۔
یہ غلط قدم تھا جو کہ جذبات اور حامد میر کی محبت میں اٹھایا گیا اور جنگ گروپ آج تک قیمت ادا کررہا ہے۔
کیا جنگ گروپ کی پاکستان سے محبت کی اس سے بڑی کوئی مثال ہوگی کہ اس وقت اُن کا سربراہ ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار ہے مگر اپنے اداروں کے ذریعے انھوں نے احتجاج کو ہر طرح کی اخلاقی و قانونی حدود میں رکھا ہوا ہے یہاں تک میری یہ تحریر بھی من و عن نہیں چھپ سکتی کیونکہ ادارہ کسی کو یہ بھی نہیں سوچنے دینا چاہتا کہ اُس پر الزام لگایا جارہا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ میر شکیل کی اپنی جنگ ہے اس کا آزادئ صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے میر شکیل کا تو یہ کاروبار ہے اور اُن کے اداروں میں تنخواہیں تک نہیں دی جاتیں۔
چلیں اس کا بھی جواب سُن لیں کہ یہ جنگ میر شکیل کی ہے یا آزادئی صحافت کی کیا آپ کوئی دوسرا ایسا ادارہ بتاسکتے ہیں کہ جس کو بار بار انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہو چینل کو کیبل پر بند کرادیا جاتا ہو یا اشتہارات روک لیے جاتے ہوں یقیناً نہیں۔
کیا یہ کاروباری جھگڑا ہے نہیں یہ نظریاتی جھگڑا ہے سچ کو چھپانے اور جھوٹ کو دکھانے کے دباؤ کا۔
ہر طرح سے پہلے درخواست کی جاتی ہے پھر لالچ دی جاتی اور پھر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور ایسا مسلسل ہوتا ہے تو پھر آپ خود فیصلہ کرلیں کہ سچ کیا ہے۔
سوچیں زرا اگر بات کاروبار کی ہوتی تو میر شکیل کے لیے سودے بازی کتنی آسان ہوتی کیونکہ اُن کا چینل اور اخبار دونوں ہی نمبر ایک ہیں اور موجودہ حکومت کو تو سامنا ہی میڈیا پر اچھا تاثر نہ ہونے کا ہے دوسرے چینلز کی بات پر لوگ بڑی مشکل سے یقین کرتے ہیں اور جیو جھوٹ دکھاتا نہیں تو بس اب سمجھ جائیں کہ اس گرفتاری کی وجہ کیا ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ یہ ادارہ صرف وہ خبر ہی چلاتا ہے جو حکومت کے خلاف ہے اس کا سب سے بڑا اور واضح جواب یہ ہے کہ ہر دور کی حکومت کو ہر خبر پر اپنا موقف دینے کے لیے اتنا ہی وقت اور جگہ دی جاتی ہے جتنا کہ کسی بھی دوسری خبر کو۔
بات صرف یہ ہے کہ سچ کو نہ چھپانے کی پالیسی کی وجہ سے میر شکیل ہمیشہ ہر حکومت وقت کی نظر میں چُبھے ہیں کیا آپ بھول گئے کہ کیسے راتوں رات رحمان ملک جب وزیر داخلہ تھے تو انھوں نے جیو نیوز پورے پاکستان میں بند کرادیا تھا جس پر شیری رحمان نے وزارت چھوڑدی تھی کس طرح نوازشریف کے دست راست وزیر خواجہ آصف نے عدالت میں جیو کے خلاف مقدمہ کیا تھا اور کس طرح عمران خان نے ہمیشہ جب اپوزیشن میں تھے تو جیو کو اپنی سب سے طاقتور آواز قرار دیا تھا مگر اب جب عمران خان حکومت میں ہیں تو اُن کی نظر میں جیو ملک دشمن اور خواجہ آصف اور رحمان ملک اپوزیشن میں ہیں تو جیو مظلوم ہے پاکستانی عوام کو اس انداز سیاست کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی حاکم وقت نے جنگ گروپ سے محبت نہیں کی مگر جب جب وہ اپوزیشن میں آیا جنگ گروپ اُس کا ہیرو بنا۔
ایک بڑا الزام تنخواہیں نہ دینے کا ہے۔ گزشتہ ایک دو سال سے یہ معاملہ شدید ہوا ہے اور جنگ گروپ کو بدترین مالی بحران کا سامنا ہے کروڑوں روپے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دینے ہیں مگر کوئی شنوائ نہیں۔
ان حالات میں اگر قارون کا خزانہ بھی ہو تو شاید ختم ہوجائے کسی ادارے کے پاس ورنہ یہ وہ ہی جنگ گروپ ہے اور وہ ہی میر شکیل ہے جو راہ چلنے والے صحافی کو بھی نوکری دے دیتے تھے اور جس طرح سالوں سال سیکڑوں لوگ صرف تُخواہ لینے ہی آتے تھے یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔
صرف اس لیے کہ میر شکیل نے ہر ضرورت مند کا خیال رکھا چاہے تنخواہ کا معاملہ ہو یا دیگر فلاح و بہبود اُن کے ادارے نے اپنے لوگوں کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دی۔
سوچیں جو شخص ایک عشرے سے سیکڑوں کارکنوں کو گھر بیٹھے تنخواہ دے رہا ہو وہ اگر اب ایسا نہیں کرپارہا تو کتنا مالی طور پر پریشان ہوگا۔ اور جو مایوس ہیں اُن سے یہ ہی کہوں گا کہ آواز اٹھائیں کہ جنگ اور جیو کے بقایا جات فوری ادا کیے جائیں کیونکہ اگر جنگ کو ملیں گے تو اس کا مطلب ہے آپ کو ملیں گے۔
جاتے جاتے یہ بھی لکھنا چاہتا ہوں اُن عام پاکستانیوں کے لیے جو سمجھتے ہیں کہ میر شکیل پاکستان آرمی کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں ۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے میرے پاس ایسی دسیوں مثالیں ہیں جن کا میں عینی گواہ ہوں۔
اُن کی گرفتاری سے کچھ دن قبل ڈیرہ اسمعیل خان میں ملک دشمنوں سے لڑتے ہوئے آئی ایس آئی کے بہادر کرنل مجیب الرحمن شہید ہوگئے مجھے رات ساڑھے بجے خبر ملی کہ شہید کرنل کے بارہ سالہ بیٹے نے روتے ہوئے باپ سے شکایت کی کہ یہ چیٹنگ ہے۔
آپ نے کہا تھا کہ دشمنوں کو ساتھ مل کر ماریں گے مگر آپ اکیلے چلے گئے اُن کا بیٹا یہ سمجھ رہا تھا کہ باپ ابھی زخمی ہے تو اُس نے قریب کھڑے ایک دوسرے آفیسر سے کہا کہ انکل میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو نہیں بتائیے گا کہ بابا کو کیاہوا ہے میں نے میر شکیل کو فون کیا اور اس خبر کے بارے میں بتایا اخبار کی کاپی تیار ہوچکی تھی مگر شکیل صاحب نے ایک اشتہار ہٹاکر اس خبر کو پہلے صفحہ پر بہت بڑی سرخی کے ساتھ لگایا اور خبر نے ہلچل مچادی۔
لاکھوں لوگ پڑھ کر رنجیدہ ہوئے افسردہ ہوئے مجھے کئ بڑے بڑے فوجیوں کے شکریہ کے فون آئے گوکہ سارا کردار میر شکیل کا تھا میرا نہیں مگر بدقسمتی دوسرے دن میر شکیل ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرلیے گئے۔
سوچیں اگر یہ شخص فوج کے خلاف ہوتا تو ایسی خبر کو روکنا کونسا مشکل تھا وہ بھی تب جب اخبار کی کاپی جاچکی تھی۔ سوچیں اور خوب سوچیں تاکہ آپ کے اوپر جھوٹ کا پردہ چاک ہو ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں الزام تراشی سب سے آسان کام ہے کیونکہ ہمارے ہاں قانون نام کی کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی کی عزت نفس کو بچاسکے ہم تو یہاں آنکھوں کے سامنے قتل ہونے والوں کے لیے گواہی نہیں دیتے اور کس بات کے لیے گواہی دیں گے۔
میری ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ ہر طرف سے بند کمرے میں یہ جو ایک درار سے تھوڑی سی ہوا آرہی ہے اسے آنے دیں روکیں نہیں ورنہ ہم سب کا دم گھٹ جائے گا اور پھر تھوڑی بہت سانس لیتے اس معاشرے کی موت ہوجائے گی۔


شیئر کریں: