یہ ہے لالو کھیت

شیئر کریں:


تحریر : شاہد نواب

میں لالو کھیت میں پیدا ہوا اور ابھی بھی لیاقت آباد میں رہتا ہوں. بہت عرصے سے سوچ رہا تھا کہ ملک بھر میں مشہور اس علاقے کے بارے میں, یہاں رونما ہونے والے واقعات پر لکھوں جنھیں میں نے خود دیکھا, پڑھا یا جس کے راوی معتبر ہیں . وہ روایات بھی شامل کروں جو جوان ہیں.
کرکٹ کوچنگ, آرگنائزنگ, کمپئرنگ, کمنٹری , پھر اپنا باب وولمر کرکٹ کلب اینڈ اکیڈمی . یہ ساری کمانے اور تھکانے والی مصروفیات کے سبب ایسا نہ ہوسکا. اب گھر میں ہیں ( اپنے) تو بہت سارا پڑھنے اور تھوڑا سا لکھنے کی کوشش کی جاتی ہے. یہ سلسلہ 31 سالوں سے کبھی کم کبھی زیادہ جاری ہے. سیکھ رہے ہیں سیکھتے رہیں گے. اس لیے آہستہ آہستہ , سنبھل سنبھل کر , مزے لے کر, مختلف عنوان بناکر حاضری دیتا رہوں گا.

شروع کرتا ہوں ناظم آباد سے.
شامِ غریباں, جماعتِ تراویح اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا آغاز ایسے ہوا
رمضان المبارک میں عشاء کی نماز کے بعد لوگ بیٹھے تھے کہ جماعتِ تراویح کا حکم ہوا.
1924 میں لکھنئو کے غفران ماب امام باڑے میں عزادار عصرِ عاشور کی مجلس کے بعد بیٹھے تھے کچھ بزرگوں کو خیال آیا کہ ایک مجلس اور کی جائے. اس کے بعد تاریخ کی پہلی مجلسِ شامِ غریباں برپا ہوئ.
گرمی کے دن تھے اور رمضان کا مہینہ. ظہر کی نماز کے بعد کچھ کرکٹرز اور اس کھیل سے محبت کرنے والوں کو مسجد میں باتیں اور لیٹا دیکھ کر سوچا گیا کہ کیوں نہ بعد نماز ظہر مختصر دورانئیے کا ایسا کرکٹ ٹورنامنٹ کرایا جائے جو افطار سے قبل اس طرح ختم ہوجائے کہ کھیلنے , کھلانے اور دیکھنے والے اپنے گھروں کو پہنچ جائیں. پہلے 25 اور پھر یہ ٹی ٹوئنٹی ہوگیا.
ناظم آباد عید گاہ گراؤنڈ میں پہلا سُپر کپ ہوا.
یہی پر مولانا تقی عثمانی صاحب کئ سالوں سے عیدین کی نمازوں کی امامت فرماتے ہیں.
یہ مہنگا اور بور کر دینے والا کھیل آج جو دنیا بھر مقبول ہے وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی ہی بدولت ہے. اور اس کی ابتداء کا سہرا ناظم آباد کو جاتا ہے.
دنیائے کرکٹ کا مشہور حوالہ کمنٹیٹر, تجزیہ نگار, جناب قمر احمد کے دوست, مہتاب احمد , خورشید اختر مرحوم اور ان کے دوست اس ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے بانیوں میں سے ہیں.

آیت اللہ مولانا مصطفےٰ جوہر رح, ان کے صاحب زادے عالمِ اسلام کے بہت بڑے عالم علامہ طالب جوہری, پرویز مشرف, ڈاکٹر محمد علی شاہ, اداکار ندیم اور دوسری کئ بڑی شخصیات ناظم آباد میں رہی ہیں.
سفارت کار, ادیب, شاعر, انتہائ ایمان دار جناب کرامت اللہ غوری بھی ناظم آباد میں رہے ہیں. 1956 میں ساڑھے تین روپے گز کے حساب سے ان کے والد نے ناظم آباد نمبر چار میں چار سو تئیس مربع گز کا پلاٹ لیا تھا. آج بھی ناظم آباد نمبر چار , ناظم آباد کا وی آئ پی ایریا ہے.
آغا جوس, پاپوش نگر, بڑا میدان, چھوٹا میدان, خلافت چوک, غالب لائبریری, اے او کلینک, عباسی شہید ہسپتال, گورنمنٹ کالج ناظم آباد, سر سید گرلز کالج, ہمدرد فیکٹری, ہادی مارکیٹ, گول مارکیٹ. انو بھائ پارک. یہاں کی مشہور جگہیں ہیں.
حنیف محمد و محمد برادران کے علاوہ کئ بین الاقوامی کرکٹرز کا تعلق ناظم آباد سے ہے.
سلیم یوسف, عظیم حفیظ, راشد خان, رضوان الزماں نے ایک ٹیسٹ میں ساتھ کھیل کر ناظم آباد کا نام روشن کیا جس کی قریب قریب کی گلیوں میں یہ چاروں رہتے تھے.

پروفیسر ظفر مہدی زیدی اور ان کے بھائ, پروفیسر عباس الہی خان, پروفیسر ایم اے خان نے معروف پریمئیر کالج کی بنیاد ناظم آباد میں رکھی. سٹی کالج بھی اس کے قریب واقع تھا. عرصہ ہوا یہ دونوں کالجز یہاں سے اپنی نئ عمارت میں شفٹ ہوچکے ہیں.
نایاب سینما اور رئیس پہلوان بھی ناظم آباد میں ہوا کرتے تھے.
مرحوم خورشید احمد نے اپنے مشہور ریسٹورنٹ لا روش کی ابتداء ناظم آباد سے کی. اس کے آگے جا کر موسیقار کریم شہاب الدین کی ٹیم کے ڈرمسٹ, اور اب گیت کار, موسیقار, بانکے میاں کی قوالی کے بانیوں میں شامل اختر قیوم کا گھر بھی یہں تھا. (شاید ابھی بھی ہو ) اس کے بعد نالا ہے اور پھر لیاقت آباد کی حدود شروع ہوتی ہے.
لیجئے ہم لالو کھیت میں داخل ہوئے.
بس سکیں جتنے بسادو ان کو لالو کھیت میں
اور جو بچ جائیں ان سب کو گولیمار دو
( ظریف جبل پوری)

‘ قبرستان ‘

ممکن ہے لالو کھیت کے ذکر کا آغاز قبرستان سے کرنے پر تعجب ہوا ہو. دانش کنریا کی پہلی ٹیسٹ وکٹ انگلینڈ کے مارک تھریسکوتِھک کی تھی. اس اوپنر نے اپنی کتاب کے پہلے چیپٹر کا عنوان the End رکھا تو مجھے حیرت ہوئ.
سی ون ایریا لالو کھیت کا یہ بہت پرانا قبرستان ہے. اگر جلوس جنازہ پیدل لایا جا رہا ہے تو ٹھیک ورنہ بس کو بہت دور یا مین روڈ پر کھڑا ہونا پڑتا ہے. گنجائش تو اب نئ قبر کی بھی نہیں مگر خدا مرنے والوں کو سلامت رکھے کہ وہ یہیں دفن ہونا چاہتے ہیں.
تین ہٹی سے اگر آپ لیاقت آباد تشریف لائیں گے تو پُل کے بعد بائیں طرف عثمان گوٹھ آئے گا اس کے بعد جو گلی آئے گی وہ آپ کو سی ون ایریا لیاقت آباد قبرستان لے جائے گی.
سال بھر کوئ لیاقت آباد نہ بھی آئے تو شب برأت اور عیدالفطر کے روز ضرور آتا ہے. انور مقصود صاحب کو اپنی فمیلی کے ساتھ میں نے یہاں دیکھا ہے. ان کے خاندان کے کئ افراد کی قبریں اس قبرستان میں ہیں.
استاد بندو خان, امراؤ بندو خان, لعل محمد اقبال کے محمد اقبال, بندو خان فمیلی کے مرحومین, حافظ رحم علی, استاد معشوق علی خان, ڈرامہ رائٹر ریاض الحق صدیقی, آئ سی سی ٹیسٹ امپائر ریاض الدین اور دوسری کئ مشہور شخصیات کی آخری آرام گاہ یہں ہیں. کچھ کا ذکر اس تحریر میں آئے گا لیکن آگے دنوں میں .
اور دوسرے قبرستانوں کی طرح لالو کھیت کے اس پرانے قبرستان میں مختلف میدانوں , مسلک و زبان بولنے والے لوگ ایک ساتھ برابر برابر لیٹے ہیں.
کئی سال پہلے جب عشاء کی اذان بھی ہوگئ اور رمضان کے چاند کا اعلان نہیں ہوا تو میں نے اپنے شیعہ دوست کو فون کیا اور پوچھا, یار عشاء کی جماعت کا ٹائم ہورہا ہے ابھی تک چاند کا اعلان نہیں ہوا تراویح بھی پڑھنی ہے. وہ بولا مجھے کیا پتا, میں نے تھوڑی پڑھنی ہے. آج شام ایک دیو بندی دوست کو کہا کہ آج شب برأت ہے. کرونا کی وجہ سے قبرستان جانے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ اُ س نے کہا جانے کی اجازت ہو یا نہ ہو میں نے تو جانا ہی نہیں.
یہ شیعہ, سُنی, دیوبندی, بریلوی, کوئ بھی. یہ سب پُرامن میرے دوست و بھائی تو ہیں ہی. یہ میری جان ہیں.

‘ لالو کھیت کے کھانے ‘

گول گپے

کسی کا منہ کھلوانا ہو تو اُسے گول گپے کھلا دیجئے. آج کے لیاقت آباد میں شاکر کے گول گپوں کی دنیا بھر میں دھوم ہے. لالو کھیت میں اس نے ٹھیلے پر گول گپے بیچنا شروع کئے. آج بھی ملک کے سب سے بڑے شہر میں گلی گلی ٹھیلوں پر گول گپے بیچے جا رہے ہیں. احمد رشدی کا گانا ‘ گول گپے والا ‘ بجاکر یہ محلے والوں کو اپنے آنے کی اطلاع دیتے ہیں. کوئ گول گپے نہ بھی کھائے تو یہ گانا شوق سے سُنتا ہے. زمانہ ہوا اسٹوڈنٹ بریانی, مزے دار حلیم والے بھی لالو کھیت کے گول گپے والے کی طرح ٹھیلہ ہی لگاتے تھے. پھر رازق ان پر ایسا مہربان ہوا آج ان سب کا ایک بہت بڑا کاروبار ہے. ماشاءاللہ. کچھ مہینے پہلے صوبائی و مقامی حکومتوں نے ٹھیلوں پر پابندی لگادی. اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں. یوسف ٹھیلے والے کے انکشافات , یا پھر کوئ ایک ٹھیلے سے بڑا بزنس مین نہ بن جائے.

میر صاحب کی مچھلی

لالو کھیت میں کرفیو لگا ہوا تھا. نوجوان گلی میں گھومتے رہتے. پولیس فوج آتی تو بھاگ جاتے.لالو کھیتی لڑکے کرفیو ہو یا کرونا کب رکے ہیں. گھر میں کب ٹِکے ہیں. میر صاحب بھی ان دنوں میں مین روڈ پر تو نہیں, چُھپ کر لالو کھیت اے ایریا کی گلی کے نُکڑ پر تَوے پر مچھلی بیچ رہے ہوتے تھے. ایک دن شور ہوا بھاگو, سب دوڑے تو نہ پیچھے مُڑ کے دیکھا اور نہ میر صاحب کے تَوے اور مچھلی کو , پیروں تلے اسے گراتے ہوئے نکل لیے.
میر صاحب جیسی لذیذ مچھلی اب نہیں ملتی. اس کی قیمت زیادہ نہیں تھی. رش اتنا ہوتا تھا کہ کافی دیر بعد نمبر آتا تھا.

کٹا کٹ مچھلی

ایک ڈاک خانہ تھا لالو کھیت میں. اب لیاقت آباد میں یہ نہیں, مرکزی امام باڑے کے ساتھ ایک پوسٹ آفس ہے. کٹا کٹ کی آوازیں آج بھی سُنائ دیتی ہیں. اچھے کھانے ان علاقوں میں جانے پر مجبور کر دیتے ہیں جہاں آپ جانا نہیں چاہتے. اُن میں کی ایک یہ لالو کھیت کی کٹا کٹ مچھلی ہے.

حکیم صاحب کے گولا کباب

” کچے دھاگے پل میں ٹوٹ جاتے ہیں ” حکیم صاحب کے کبابوں میں مصالحوں کے ساتھ دھاگے بھی چڑھے ہوتے ہیں. اب یہاں تکہ, ملائ بوٹی بھی دستیاب ہے. کٹا کٹ مچھلی اور حکیم صاحب کے گولا کباب کی دکان مین ڈاک خانے پر برسوں سے قائم ہیں. انہی کے پاس بسم اللہ کا بڑا اچھا پایا ہوٹل پر ملتا تھا. ابا کی وفات کے بعد اب ٹھیلے پر بیٹا بیچتا ہے. والدِ مرحوم ذائقہ اپنے ساتھ لے گئے. لالو کھیت میں کچھ لوگ ہوٹل سے ٹھیلے پر بھی آئے ہیں.
آج اگر پایا کھانا ہو تو نارتھ کراچی میں عدنان قریشی کا کھایئے. کس پائے کے پائے ہیں. بتائیے گا ضرور.

چٹنی

لالو کھیت کے ان روایتی و قدیمی کھانوں میں ان کی چٹنی کا بڑا دخل ہے.
‘ وجودِ چٹنی سے ہے ان کھانوں میں رنگ ‘
پیپلز کالونی کا بند کباب والا ہو, برنس روڈ کا بند کباب والا یا بمبئ نمکو گلبرگ والا .سب اپنی چٹخارے دار چٹنیوں کی وجہ سے چھائے ہوئے ہیں. اللہ اور برکت دے.

مسکا بند

گھر کے پُرانے اور بے تکلف ملازم کو ییسوں کی ضرورت تھی. وہ ناشتہ لے کر آیا اور بولا, صاحب آپ بہت اسمارٹ لگ رہے ہیں, نظر اتار دوں ؟ صاحب بولے , مکھن ڈبل روٹی پر لگاؤ.
کراچی میں مسکا بند بہت مشہور تھا. لالو کھیت میں بہت کھایا جاتا تھا. بند پر مکھن لگاکر اسے اس طرح کاٹا جاتا تھا کہ انگلیوں کی طرح کونے پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے, پھر ذرا بڑے اور درمیان میں سب سے بڑا پیس. لالو کھیت میں جب دوستوں میں مسکا بند آتا تو جو زیادہ پیسے دیتا تھا یا اسپانسر ہوتا تو بیچ والا پیس اُسی کو دیا جاتا.
لالو کھیت میں چائے کے ساتھ گرم تندوری روٹی کھانے کا رواج تھا. بند نہ ملے تو روٹی پر ہی مکھن لگایا جانے لگا.

ماموں کے چھولے

بہت سے مومنین آج بھی سی ون ایریا لیاقت آباد کی اثناء عشری مسجد میں عیدین کی نماز پڑھنے آتے ہیں. اس کے بالکل سامنے روڈ پار کر کے ایک گلی جاتی ہے جہاں آگے جاکر پینتالیس سال پہلے ماموں چھولے والے اپنا ٹھیلہ لگاتے تھے. اب ان کے بیٹے اور پوتا یہاں ہوتا ہے. ماموں جب اپنے ٹھیئے پر جانے کے لیے گھر سے نکلتے تھے تو خریدار راستے ہی میں چھولے لینے کے لیے جمع ہو جاتے لیکن وہ غصہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہتے. بزرگ, خواتین اور بچوں کو راستے میں ہی دے دیا کرتے تھے.ممکن ہے کسی صحافی کو بھی اس طرح دیا ہو تو آج جو حکومت کی طرف سے کئ موقعوں پرجنھیں استثنیٰ دیا جاتا ہے یہ لالو کھیت کے ماموں چھولے والے بہت پہلے دے چُکے. ان کے چھولوں کی خاص بات جو ماموں کو دوسروں سے الگ کرتی تھی اور اب بھی کرتی ہے وہ ہے ان کی لال کُٹی ہوئ مرچیں. لالو کھیت نرسری کے سعید چھولے والے اور بی ون ایریا کے نعیم بھائ ماموں کے شاگرد تھے. پروردگار استاد اور شاگردوں کی بخشش کرے. آمین.

پکی پکائ تازہ روٹی

بھٹو صاحب کے دور میں سرکاری اسکولوں میں دودھ فری میں بٹتا تھا. کچھ عرصے بعد پکی پکائ تازہ روٹی متعارف کروائ گئ. بابو کی عرفیت والے لالو کھیت میں سینکڑوں تھے. اُن میں کا ایک بابو حلیم والا بھی تھا جو سادہ بریانی کے ساتھ حلیم روٹی سندھی ہوٹل پر گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول اور دوسرے اسکولوں کے باہر بیچا کرتا تھا. اسی طرح ایک چڑچڑے بڑے میاں اسکولوں کے باہر دہی بھلے اور چھولے بیچتے تھے. بابو کا تو معلوم نہیں یہ بڑے میاں جب چھولوں کے ساتھ پکی پکائ تازہ روٹی لڑکے کھاتے تو ان کو یہ روٹیاں کھانے سے منع کرتے تھے. بولتے تھے مت کھایا کرو شادی کے قابل نہیں رہو گے.
پکی پکائ تازہ روٹیوں کا ایک پیکٹ ایک روپے میں ملتا تھا جس میں پانچ روٹیاں ہوتی تھیں. عمدہ روٹی تھی پراٹھے بنانے کے بھی کام آتی تھی. آج اس کے کھانے والے زندہ ہیں. ان کے بچے بھی ہیں. پوتے پوتیاں, نواسے نواسیاں بھی. مولا ان سب کو سلامت رکھے. آمین

مُلا جی کا حلوہ پراٹھا

شیش محل لالو کھیت پر مُلا جی کا حلوہ پراٹھا سب سے منفرد تھا. کلونجی والی آلو کی ترکاری, آج کی کئ پوریوں کے برابر ایک پراٹھا. چاہیں تو پورا خریدیں ورنہ لوز میں بھی ملتا تھا. حلوے کا ذائقہ اور رنگ سب سے جُدا. مُلا جی سیاست, ادب, مذہب پر بھی خوب بولتے تھے. گرج دار آواز تھی. شب برأت کے موقع پر لوگ بطور خاص ان سے حلوہ لیتے تھے.
دو دن سے سوشل میڈیا, واٹس اپ پر لوگ معافیاں مانگ رہے ہیں شب برأت ہے معاف کردو. سلسلہ اتنا بڑھا کہ کہنا پڑا, یار بس اب آپ ہمیں معاف کردو. کرونا کی وجہ سے اس سال شب برأت پر چنے کی دال کا حلوہ بہت گھروں سے آیا. یہ لالو کھیت کی روایات میں سے ایک ہے. جنھیں بلا ضرورت گھر سے نکلنے پر پولیس و رینجرز نے پکڑا ان گھروں سے سوجھی کا حلوہ بانٹا گیا.

ابو کا گولا گنڈا

تین قدم کے رن اپ اور لٹکی ہوئ توند کے ساتھ فاسٹ بولنگ. یہ ہیں, عبداللہ. پیار سے لالو کھیت بی ایریا, بی ون ایریا اور دوسری جگہوں والے ابو کہتے تھے. کرکٹ سے کوئ روزگار نہیں ملا تو ابو نے دل برداشتہ ہوکر سردیوں میں چھولے اور گرمیوں میں گولا گنڈے کا ٹھیلا لگانا شروع کیا. ( ڈیڑھ سال پہلے ڈیپارٹمنٹ کرکٹ بند ہوئ تو محکموں نے اپنی کرکٹ ٹیمیں بند اور سینکڑوں کرکٹرز فارغ کر دیئے. کسی نے کریم تو کسی نے سوزوکی چلائ. آخری خبریں آنے تک کسی نے ابھی تک گولا گنڈے کا ٹھیلا نہیں لگایا) ابو اپنی خوش مزاجی کی وجہ سے لوگوں میں مقبول تو تھے ہی مگر ان کے گولے گنڈے کے خاص شربت کی شہرت دور دور تک گئ. ابو روز لی مارکیٹ جاتے تھے ( کھویا لینے) گُڑ اور کھوئے کے ملاپ سے بنا شربت گولے گنڈے پر چھڑکتے تھے تو لوگ اسے مزے لے کر چوستے تھے. ان کا بھانجا اب یہ ٹھیلا لگاتا ہے. بہت عرصہ ہوئے شب برأت کو ابو کا انتقال ہوگیا.
پروردگار آپ کے ہمارے اور تمام مرحومین, شہدائے پاکستان کے درجات بلند فرمائے. آمین
( جاری ہے)


شیئر کریں: