ذوالفقار علی بھٹو کی ملکی اور عوامی خیر خواہی

شیئر کریں:

تحریر ممتاز ملک

1970 ملکی تاریخ کے سب سے شفاف الیکشن کے نتائج کے طور پر 20 دسمبر 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر کے اختیارات سونپے گئے۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے بعد بھٹو صاحب عوام میں سب زیادہ اور پہلے مقبول لیڈر بن کر ابھرے۔
قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، راجہ صاحب آف محمود آباد اور محترمہ فاطمہ جناح کی طرح بھٹو نے بھی اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا۔
جس پر اس وقت کے زیادہ تر قدامت پرست علماء اور لیڈرز نے اس نظریہ پر سخت تنقید کی.
بھٹو صاحب کو سندھ کے شہری حلقوں میں بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے سندھی زبان کو سندھ میں سرکاری زبان کا درجہ دیا۔
1974 کے ہندوستانی ایٹمی دھماکوں کے خلاف جوابی کاروائی کا عزم امریکہ کی ناراضگی کا سبب بنا.
تیل کو اسلامی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا مشورہ بھی بھٹو کے نام جاتا ہے۔
لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا 1974 میں انعقاد اور پھر بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا کام بھی آپ کے حصے میں آیا۔
بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ 1973 کا متفقہ آئین ہے اور اسی سے جڑا ہوا کارنامہ ایٹمی پروگرام کا ملتان میں سائنسدانوں کی کانفرنس کے دوران اٹھائے گئے وہ اقدامات ہیں جن کی بدولت ہمارا ملک ایٹمی طاقت بن گیا۔
جس میں بھٹو نے کہا تھا.
“ہم گھاس کھا کر گزارا کر لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے”
ان کی شخصیت مختلف اعتراضات کی ذد میں بھی رہی,لیکن ان کی عوامی مقبولیت میں کمی نہیں آئی.
بھٹو ایک کرشماتی شخصیت کے مالک تھے ملک کے طول و عرض میں زیادہ تر انتخابی حلقوں کے پی پی پی کے متحرک اور مخلص کارکنوں کو اپنی تقاریر میں نام لے کر سرہاتے تھے.
عمران خان سے پہلے ملک میں صرف انہی کو قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے منتخب ہونے کا اعزاز حاصل تھا.
جس طرح بھٹو نے ایوب خان کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز لاہور سے کیا اسی طرز پر چلتے ہوئے عمران خان نے بھی مشرف کی آمریت کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا,

یہ اور بات ہے کہ انہیں وہاں اسلامی جمیعت طلبہ کی طرف سے پکڑ کر بری طرح ہراساں کیا گیا تھا.

ہم اپنی امی سے پوچھتے تھے کہ آپ ہر وقت کہتی ہیں کہ غریب کا صرف بھٹو خیرخواہ تھا تو پھر جب اسے ضیاءالحق نے قید کر رکھا تھا عوام اس کے حق میں باہر کیوں نہیں نکلے.؟

تو امی مرحومہ کہتی تھیں پتر نہ بھٹو کو لگتا تھا اور نہ ہی عوام کو لگتا تھا کہ بھٹو کو پھانسی دے دی جائے گی.

ایک مرتبہ امی سے پوچھا میرا نام ممتاز کس نے اور کیوں رکھا تھا جواب ملا پتر بھٹو کو بے گناہ پھانسی ہوئے دو تین سال ہوئے تھے تو تم پیدا ہوئے تمھارے نانا ملک عظیم بخش گھلو نے تمھارا نام ممتاز بھٹو کے نام پر رکھا, اپنے بیٹے کا نام ذوالفقار علی رکھا اور تمھارے بعد چھوٹے بھائی کا نام غلام مرتضی بھٹو کے بیٹے کے نام پر رکھا.
سب سے پہلا شناختی کارڈ بھٹو کا بنا اور اس نے مزدور اور ہاری پسے ہوئے طبقے کی خاطر ایک توانا آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ووٹ کی طاقت کا شعور دیا۔
یوں تو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا, جمعہ کی چھٹی شروع کرنا بھی بھٹو کے اقدامات تھے لیکن پھر بھی ان کے خلاف 1977 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف چلنے والی تحریک کا نام نظام مصطفی تھا جسے مذہبی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل تھی اور بعض راہنماؤں کی جیبیں امریکی ڈالرز سے بھی پر کر دی گئیں۔
کیونکہ بھٹو صاحب کو ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اس وقت کے امریکن وزیر خارجہ ہینری کسنجر نے کہا تھا۔

“جب ٹرین آ رہی ہو تو عقلمند انسان پٹڑی سے اتر جاتا ہے ”

بھٹو کے عدالتی قتل کو ملکی تاریخ کا سب سے آفسوس ناک اور شرمناک سانحہ سمجھا جاتا ہے
جنہیں 4 اپریل 1979 کو ناکافی اور کمزور شہادتوں کے ساتھ ساتھ منقسم عدالتی جیوری کے فیصلے کے تحت بے دردی سے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
بھٹو کی بے گناہ پھانسی نے عوام کے دلوں میں اسے امر کر دیا اور میں سمجھتا ہوں آج بھی اگر کوئی عوامی امنگوں اور جمہوری اصولوں کی ترجمان پارٹی ہے تو بھٹو کی پارٹی ہے۔
جس کا عکس حالیہ ملکی صورتحال میں پی پی پی کی ملکی اور صوبائی قیادت کی طرف سے لئے گئے فیصلے ہیں جس کی سو فیصد تو نہیں البتہ کافی حد تک نتائج عوامی مفاد میں ظاہر ہوئے ہیں۔


شیئر کریں: