برطانیہ بھی لاک ڈاؤن کرفیوسی صورتحال

شیئر کریں:

کورونا وائرس کی حساسیت کا برطانیہ کو بھی احساس ہو گیا۔
متاثرین کی تعداد بڑھنے اور مزید تباہی کے خدشات پر گزشتہ رات سے لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
برطانیہ کے وزیراعظم نے فوری طور پر لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہ اس کا دورانیہ 12 ہفتوں کا ہوگا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صورت حال بہتر نہ ہونے پر اس کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
وزیراعظم کے اعلان کے ساتھ کی برطانیہ بھر میں زندگی رک گئی، تمام بارز اور ہوٹلز بند گئے۔
لندن جس کی سڑکیں صبح سویرے لوگوں سے بھر جاتی تھیں وہاں کرفیو سی صورت حال ہے۔
سب نے خود کو گھروں میں محصور کر لیا ہے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیرضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔
وزیر اعظم جونسن نے یہ اعلان اس وقت کیا جب بعض وزرا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر کورونا سے بچاو کے لیے فوری اقدمات نہ کیے گئے ہلاکتیں دو لکاھ 60 ہزار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
اس کے برخلاف حکومت کا کہنا ہے کہ اگر بھرپور اقدمات اٹھا لیے گئے تو پھر بھی ہلاکتوں کی تعداد کو 20 ہزار تک روک جا سکتا ہے۔
اس وقت دنیا کے 162 ممالک میں 7 ہزار ایک سو 74 افراد ہلاک اور تقریبا ایک لاکھ 82 ہزار سے زائد متاثر ہیں۔
کورونا انسانی جانیں لینے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی معیشتوں کو بھی تباہ و برباد کر رہا ہے۔
یاد رہے برطانیہ سے فرانس، کینیڈا اور یورپ کے کئی ممالک اور افریقی ممالک بھی انتہائی اقدام اٹھا چکے ہیں۔


شیئر کریں: