پی ای ایس ایل سیمی فائنل، کوئٹہ کو کتنے مارجن کی فتح درکار

شیئر کریں:

سیمی فائنل تک رسائی کس طرح ممکن بنوا رہے ہیں عمران عثمانی؟

پاکستان سپر لیگ 2020 کی سیمی فائنل لائن اپ مکمل ہو چکی؟
کیا یہ بھی قریب فیصلہ ہوگیا کہ سیمی فائنل میں کون کس کے مقابل ہوگا؟
فائنل کس کا کس کے ساتھ پڑے گا؟
ہفتہ 14 مارچ کی شب جب اسلام آباد کو کراچی کنگز کے ہاتهوں شکست ہوئی تو کنگز ملتان کے بعد سیمی فائنل میں پہنچے والی دوسری ٹیم بنی۔
اس طرح گروپ کے آخری 2 میچ باقی بچے ہیں جو اتوار کو لاہور اور کراچی میں قلندرز بمقابلہ سلطانز اور کنگز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز شیڈول ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پشاور زلمی جو پوائنٹس ٹیبل پر 9 پوائنٹس کے ساتھ متواتر شکستوں کے باوجود تیسری پوزیشن پر موجود ہے۔ اس کا اب تک کیا بنا؟

کیا اتوار کے میچ اس کے لئے بڑا خطرہ ہیں؟

یا کسی ایک میچ کا مطلوبہ نتیجہ اپنی ضرورت یا خواہش کے مطابق چاہیئے؟
اگر یہ کہا جائے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ ٹیم کی شکست اس کے لئے کافی رہی یا یوں سمجھا جائے کہ کراچی کنگز اسلام آباد کو ہرا کر سیمی فائنل میں خود تو گئی ہی گئی ساتھ پشاور زلمے کو بھی لے گئی تو یہ بے جا ہوگا۔
اس کے لئے اعدادوشمار سے مدد لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے۔
ملتان سلطانز 14 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہیں اور لاہور کے میچ کے ساتھ جو بھی نتیجہ ہو اس نے پہلے نمبر کی ٹیم کے طور پر چوتھے نمبر کی سائیڈ سے سیمی فائنل کھیلنا ہے۔
کراچی کنگز 11 پوائنٹس کے ساتھ دوسر ے نمبر پر ہے اور اتفاق سے اس کے کوئٹہ کے خلاف میچ کا انجام کچھ بھی ہو اس نے نمبر 2 ہی رہنا ہے اور نمبر 3 ٹیم کے ساتھ سیمی فائنل کھیلنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ملتان کی حریف نمبر 4 اور کراچی کی مخالف نمبر 3 کون ہوگی؟
پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اگلی کون سی 2 ٹیمیں سیمی فائنل کھلیں گی اور اسلام آباد کے ساتھ ایونٹ سے باہر جانے والی دوسری ٹیم کون سی ہوگی؟

موجودہ پوزیشن!

پشاور زلمی 9 پوائنٹس، تیسری پوزیشن ، کوئی میچ باقی نہیں، نیٹ رن ریٹ، 0.055-.
لاہور قلندرز،8پوائنٹس، چوتھی پوزیشن،ایک میچ ملتان سے باقی،نیٹ رن ریٹ،0.175-.
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز،7 پوائنٹس، چھٹی پوزیشن،ایک میچ کراچی کنگز سے باقی،نیٹ رن ریٹ ،1.052-.

اسلام آباد فی الوقت 5 ویں نمبر پر ہونے کے باوجود ریس سے با ہر ہوگیا ہے۔
اب 15 مارچ کو لیگ کے آخری 2 میچ باقی ہیں۔
لاہور قلندر ز بمقابلہ ملتان سلطان
کراچی کنگز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

لاہور کے امکانات و خطرات

لاہور آج 2 صورت میں کوالی فائی کرسکتا ہے۔
پہلی تو سادہ سی ہے ملتان سلطانز کو ہرا کر 10 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن پر آسکتا ہے اور پہلی بار فائنل 4 میں داخل ہوسکے گا۔
دوسری پوزیشن یہ ہے کہ وہ ملتان سے ہار کر پھر شام کو گلیڈی ایٹرز کی کنگز کے ہاتهوں شکست کا انتظار کرے۔
اگر ایسا ہوگیا تو لاہور 8 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر آئے گا۔
زلمی کا نمبر تیسرا ہی رہے گا کوئٹہ اور اسلام آبا د 7،7پوائنٹس کے ساتھ باہر ہوجائیں گے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے امکانات

سب سے آسان یہ کہ لاہور ملتان سے ہارے اور کوئٹہ کراچی کو ہرادے تو اسلام آباد کے 7 اور لاہور کے 8 پوائنٹس پر کھیل ختم ہوگا۔
پشاور کے 9 پوائنٹس کے برابر آنے کے باوجود کوئٹہ چوتھی پوزیشن لئے زلمی کے ساتھ سیمی فائنل میں داخل ہوجائے گا۔

پشاور زلمی کی محفوظ پوزیشن کو ایک خطرہ

اگر پہلے میچ میں لاہور ملتان سے ہارگیا تو زلمی محفوظ ، اگلے کوئٹہ کراچی کے میچ پر لاہور کی نبض دھڑکے گی اور اگر قلندرز نے ملتان کو ہرادیا تو اس کے 10 پوائنٹس سے پوزیشن مستحکم ہوجائے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ کوئٹہ نے کراچی کو ہرادیا تو اس کے پوائنٹس بھی زلمی کے برابر ہوجائیں گے۔
پھر کیا ہوگا ظاہر ہے کہ پھر فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔
اب سب کو یە بھی علم ہے کہ زلمی کا رن ریٹ گلیڈی ایٹرز سے بہت بہتر ہے۔
ملین ڈالرز کا سوال یە ہے کہ گلیڈی ایٹرز کو رن ریٹ بہتر کرنے کیلئے کتنے مارجن سے جیتنا ہوگا۔
اس کا جواب بھی حاضر ہے قلندرز کی ملتان کے خلاف فتح کے بعد گلیڈی ایٹرز کو کراچی کنگز کو 145 رنز کے مارجن سے ہرانا ہوگا۔
جیسا کہ ذکر ہوچکا نیٹ رن ریٹ میں زلمی کو گلیڈی ایٹرز پر واضح برتری حاصل ہے۔
ٹی 20 میچ میں 145 کے بڑے مارجن سے کامیابی معجزاتی پرفارمنس ہوگی جس کا امکان کم ہے۔

پی ایس ایل 2020 کی متوقع سیمی فائنلسٹ ٹیمیں

ملتان سلطانز ،لاہورقلندرز، کراچی کنگز اور پشاور زلمی


شیئر کریں: