صحافی اور م سے منافقت

شیئر کریں:

تحریر محمد امنان

انزال کا مطلب کیا ہوتا ہے؟؟
یہ سوال میرے ایک نہایت معصوم دوست کی زبان سے سن کر میں حیران و پریشان اور جانے کیا کچھ ہو گیا کہ اسے آج کیا سوجھی اتنے ننگے الفاظ کیوں بول رہا ہے۔
خیر ہمت کر کے اس سے وجہ پوچھی تو بات گھماتے ہوئے بولا بھئی مجھے یہ بتاو صحافت کی ڈگری حاصل کئے کتنے سال ہوگئے؟
میں جھٹ سے بولا بھائی قریب قریب پانچ سال ہو گئے ہیں۔
بولا میڈیا کا مطلب کیا ہے ؟؟
میں نے بولا سچ دکھانا بولنا عوام کی مشکلات حکام بالا تک پہنچانا۔
میڈیا معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، یہاں اس نے میری بات کاٹ دی اور بولا سن اب
میں چپ ہونٹوں پہ سجائے ہونکوں اسے تکنے لگا تو وہ گویا ہوا۔
پلے باندھ میری بات یہ میڈیا ویڈیا یہاں اس ملک میں اس مطلب پہ نئیں چل رہے جو ڈگری حاصل کرنے کے پانچ سال بعد تک تیرے ذہن میں ہے۔
میں ہلکا سا بولا کہ ساڑھے تین سال سے تو میں بھی کام کر رہا ہوں۔
وہ گویا ہوا تم صرف کام کر رہے تھے تبھی نوکری کے لالے اور جیب میں جالے پڑ رکھے ہیں۔
ایک خاتون اینکر کو سنا آج اس نے کسی دفاعی تجزیہ نگار کو شو میں بٹھا کر سوال داغا۔
“ونگ کمانڈر نعمان اکرم جہاز کریش کرنے سے پہلے جہاز سے بحفاظت اتر سکتے تھے تو اترے کیوں نہیں”؟
میں نے بولا اس سوال میں کیا قباحت ہے؟
کہنے لگا میرے بھولے بادشاہ اس خاتون نے انگلش میں سوال داغا تھا جس کا مطلب معنی و مفہوم ہے کہ اس وقت انزال کیوں نہ ہو سکا؟
حالانکہ لفظ ایجیکٹ ہے نا کہ ایجیکولیشن۔
میں اس کی ساری بات سن کے سکتے میں آگیا کہ ہیں؟؟ ایسا بھی ہو گیا؟؟
آگے چلئیے دو خبریں آج موضوع بحث رہیں ایک تو مریم نواز کا ٹی وی اسکرینوں پہ اچانک کافی عرصے بعد نمودار ہونا۔
دوسری جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف شکیل الرحمن کو نیب نے مبینہ طور پہ غیر قانونی پراپرٹی کیس میں دھر لیا۔
اس کے بعد کی صورت حال میری زبانی سنئیے۔
معذرت کے ساتھ میرے لفظوں سے پڑھیے۔

مزید پڑھیے:نیب نےجیو جنگ گروپ کے مالک شکیل الرحمن گرفتار

اے آر وائی نیوز نے اس خبر پر میراتھن ٹرانسمیشن شروع کر کے ہاہا کار مچا دی کہ بھئی پکڑا گیا حریف صیاد نے دھر لیا۔
پھر کیا تھا دیکھا دیکھی بقیہ چینلز نے بھی پانچ سات منٹ سے زائد اس خبر پہ تجزیہ کاروں کی
فوج کے ساتھ خوب ریٹنگ کا چکر کھیلا اس کے بعد کی صورت حال جو مجھے اذیت ناک اور بیک وقت دلچسپ بھی لگی وہ یہ کہ
بڑے صحافی اور اینکرز نے ٹویٹر پہ ٹویٹس داغنا شروع کر دئیے کہ جناب مر گئے لٹے گئے۔

صحافت خطرے میں آ گئی آزادی صحافت کا بٹھہ بٹھا دیا گیا اور تو اور مریم نواز بھی پریس کانفرنس کے دوران اس خبر پہ پریشانی والے تاثرات نہ چھپا سکیں اور او مائی گاڈ کہتی سنائی دیں۔
یہ ہی مریم نواز کچھ دیر پہلے میڈیا نمائندگان سے سوال کر رہی تھیں کہ کیا میری پریس کانفرنس دکھانے کی اجازت ہے۔
میڈیا کے حالات تو کافی برے چل رہے ہیں ساتھ ہی بابا کی تیمارداری خاطر ملک سے باہر جانے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
خیر بڑے صحافیوں اور اینکرز جن میں حامد میر، عاصمہ شیرازی، روف کلاسرہ اور سہیل وڑائچ وغیرہ کے ٹویٹس آنکھوں سے گذرے تو میرے ذہن میں جھماکا ہوا اور کچھ تصویریں گھومنے لگیں وہ تصویریں تھیں مرحوم کیمرہ مین فیاض علی، رضوان ملک ، فصیح الرحمن اور دیگر وہ جو تنخواہوں کے انتظار میں اس دنیا سے چلے گئے۔
میں سوچنے لگا کہ یار کیا طرفہ تماشہ ہے کہ بڑے صحافی اور اینکرز ورکرز صحافیوں کی خاطر ایک لفظ نہ بول سکے آج ملک کے بڑے چینل کا مالک کسی الزام میں دھر لیا گیا ہے کیسے ان کی جان پہ بن آئی ہے۔
سٹی نیٹورک کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ رضوان ملک کیمرہ مین کی فیملی کی سپورٹ کے لئے ورکرز جن کی تنخواہیں بمشکل ادا کی گئی ہیں سے ایک ایک روز کی تنخواہ کٹوتی کی جائے گی۔
خیر بڑے صحافیوں اور میڈیا کی نام نہاد تنظیموں اور لیڈران نے مذمتی پوسٹس واٹس ایپ گروپس میں شئیر کر کے یوں واویلا مچا رکھا ہے جیسے کل ہی نیب کے دفتر کا گھیراو کریں گے اور قلم چھوڑ ہڑتال شروع ہو جائے گی۔

مزید پڑھیے:https://bit.ly/2xCCUKx میڈیا گاڈ فادر کی گرفتاری اور ہم بیچارے صحافی

میڈیا ورکر جس دباو اور کسمپرسی کی حالت میں کام کرتا ہے وہ سب کو پتہ ہے مگر بڑے صحافیوں کو چونکہ تنخواہیں اور مراعات وقت پہ مل جاتی ہیں اس لئیے وہ کم ہی ان درجہ چہارم کے لوگوں کے حق میں بلکہ سرے سے بولتے ہی نہیں۔
اب بات ایک مالک پہ آئی ہے تو سب کی چیخیں نکل رہی ہیں۔
نیب کی بقیہ کارروائیوں کا تو علم نہیں البتہ یہ میر شکیل الرحمن والی گرفتاری سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ صحافت کے لبادے میں چھپے مفاد پرست اور منافقت کے علمبرداروں کے چہروں سے پردے سرکے نہیں اتر کے اڑ گئے ہیں۔
کچھ روز قبل میر شکیل الرحمن بمقابلہ خلیل الرحمن قمر کی قسط بھی سب نے دیکھی۔
خلیل الرحمن قمر اور ماروی سرمد کی لفظی تکرار قومی ایشو بنی رہی اسی تناظر میں سبھی بڑے اینکرز نے ریٹنگ کے چکر میں خلیل الرحمن قمر کو دیوار سے لگانے کی بھرپور کوشش کی جیو نے اس سے معاہدہ ختم کر دیا۔
جوابی کارروائی خلیل الرحمن قمر نے سوشل میڈیا پوسٹ سے کی کہ میں اس ادارے سے کانٹریکٹ کینسل کرتا ہوں بلکہ ٹویٹر پہ خلیل الرحمن قمر نے یہ تک لکھ ڈالا کہ دو ٹکے کے چینل جیو کے مالک کو نیب نے گرفتار کر لیا۔

مزید پڑھیے:ٹی وی چینلز اور حکومت ایک ہی ڈگر پر

خیر یہ اور بحث ہے اے آر وائے بھی اپنی پوری کھنس نکال رہا تھا کہ میر شکیل نے نیب کو دھمکیاں لگائیں وغیرہ وغیرہ
اب اس ایشو پہ تنظیمیں احتجاج رولا رپا فلانا ڈھمکانا کی رٹ لگا رہی ہیں مجھ جیسے کئی اور ورکر صحافی سوشل میڈیا پہ پوچھ رہے ہیں کہ بھئی ہم جیسوں کا خون اتنا ہی سستا ہے کہ مفاد پرست مالکان کی خاطر باہر نکلیں؟

اور اس تحریر کے شروع میں جس دوست کا ذکر کیا تھا اسکی ایک اور بات بتانا تو بھول ہی گیا وہ بھولا اسر معصوم دوست کہہ رہا تھا بھائی ان میڈیا مالکان میں سے کون صحافی ہے؟؟؟ سب کاروباری لوگ ہیں اپنے مفادات اور خود کو تحفظ دینے کی خاطر چینل کھول لئے ، عمران خان سے ملاقاتیں کر کے تم لوگوں کا معاشی قتل کر دیا صحافت کا چہرہ مسخ کر دیا

عوام کو جیالا ، یوتھیا اور پٹواری بنانے میں ان چینلز کا کمال یہ ہے کہ یہ سب چینلز کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے طرفدار ہیں ، صحافت کو تو بیچ چوراہے لٹکا دیا اور ساتھ ہی کام کی لگن رکھنے والے چھوٹے ورکر صحافیوں کو بھی

اس نے ایک آخری جملہ جو کہا اس پہ اختتام کرتا ہوں میرا دوست کہتا ہے کہ اب لغت اور معنی بدل گئے ہیں م سے میڈیا نہیں م سے منافقت چل رہی ہے


شیئر کریں: