کیا مسلم لیگ نواز اسٹبلشمنٹ کی تابعدار سنٹر رائٹ پارٹی بننے جارہی ہے؟

شیئر کریں:

عامر حسینی

رواں ہفتے میں دو سیاسی واقعات نے بارشوں سے سرد موسم میں سیاسی گرما گرمی پیدا کردی ہے-

پہلا واقعہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی پارٹی کا اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس ہے- اس اجلاس میں کے پی کے سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نواز کے رہنما پیر صابر شاہ نے ببانگ دہل پاکستان مسلم لیگ نواز کی پارلیمنٹ میں موجود اراکین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کے بیانیہ سے دست برداری اختیار کررکھی ہے جس کی وجہ سے عوام میں مسلم لیگ نواز کو شرمندگی کا سامنا ہے-

پیر صابر شاہ نے نواز لیگ کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بلوں کی منظوری کے حق میں ووٹ دینے کے فیصلے کو قائد کے بیانیے کے خلاف قرار دیا- پیر صابر شاہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ نواز لیگ کے ان حامیوں کی ترجمانی کررہے تھے جو نواز لیگ کی اینٹی اسٹبلشمنٹ لائن کو ‘ووٹ کو عزت دو’ کے نعرے کے ساتھ جاری رکھنا چاہتے ہیں-

لیکن پیر صابر شاہ کی شعلہ بیانی کے جواب میں نواز لیگ کے خواجہ آصف، سابق وزیراعظم شاہ خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، رانا تنویر سمیت کئی ایک پنجاب سے تعلق رکھنے والے لیگی رہنماؤں کا ردعمل بالکل متضاد تھا- خواجہ آصف نے اجلاس میں شریک لیگی رہنماؤں کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ میں مسلم لیگ نواز جس طرح کی پالیسی پر عمل درآمد کررہی ہے اور جو فیصلے کیے جارہے ہیں وہ سب قیادت کی طرف سے ہی کیے گئے ہیں، وہ تو صرف اس پر عمل درآمد کررہے ہیں- خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نوجوانی میں وہ بھی بڑے جذباتی ہوا کرتے تھے لیکن اس جذباتی ہونے کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا-

“جوانی میں ہم بھی بڑی بڑھکیں مارتے رہے ہیں، کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کیا، سب پارٹی قیادت کی ہدایت پر کیا جاتا ہے۔ خواجہ آصف”

شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے لیگی رکن قومی اسمبلی نے مسلم لیگ نواز کی قیادت کو ‘چار کی مشاورت’ سے باہر نکل کر زیاہ بڑے پیمانے پر مشاورت کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین کی اکثریت ایک تو فی الفور شہباز شریف کی ملک واپسی چاہتے ہیں- دوسرا وہ اسٹبلشمنٹ سے محاذ آرائی کے راستے کو مکمل طور پر رول بیک کرنے کے حق میں نظر آتے ہیں- اندرونی باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر اس فرد کو یا تو بیک بنچ پر بھیجیں یا پارٹی سے ہی نکال باہر کریں جو اسٹبلشمنٹ کے ناپسندیدہ ہیں- ورنہ نواز لیگ کو ٹوٹنے سے کوئی بچا نہیں سکے- محسن رانجھا کے شہباز شریف کو واپس آنے کے مطالبے کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا-
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اندرون خانہ نواز شریف کے ارد گرد ہمہ وقت رہنے والی بعض شخصیات کے دروازے نواز لیگ پر بند کرنے یا ان پر لو پروفائل ہونے کی پابندی لگانے کی بات بھی ہوئی- اس حوالے سے سر فہرست نام پرویز رشید کا ہے- اور پھر اس میں نواز شریف کے سیاسی سیکرٹری کرمانی بھی شامل ہیں-
مسلم لیگ نواز کے سنئیر ترین رہنماؤں جن میں مسلم لیگ (ن)کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ محمد ظفرالحق، قومی اسمبلی میں (ن)لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف،(ن)لیگ کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، (ن)لیگ کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال چوہدری،چیئرمین پبلک کائونٹس کمیٹی رانا تنویر حسین ،سینیٹ میں (ن)لیگ کے پارلیمانی لیڈر مشاہد اللہ خان ،سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور (ن)نائب صدر سردار ایاز صادق،(ن) لیگ کے نائب صدر چوہدری محمد برجیس طاہر،(ن)لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ خان یہ ایک پیج پر ہیں اور مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کے اسٹبلشمنٹ سے مصالحت کے راستے پر چلنے کے حامی بن چکے ہیں- یہ مسلم لیگ نواز کی سیاست کو اسٹبلشمنٹ کے تابع رکھ کر سنٹر رائٹ بنانا چاہتے ہیں- اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بقول خواجہ آصف یہ کوششیں قیادت کی مرضی کے برخلاف نہیں بلکہ ان سےمشاورت کے بعد ہی کی جارہی ہیں- گویا یہ تاثر دینا ہے نواز لیگ کا اسٹبلشمنٹ سے نرمی برتنا اور اسٹبلشمنٹ کے اپنے اوپر کھویا اعتماد بحال کروانا نواز شریف سے پوچھے بغیر ہورہا ہے غلط ہے-
ووٹ کو عزت دو سے اسٹبلشمنٹ کی نظروں میں اچھا بننے کی ڈیل تک کا یہ سفر نواز شریف کی مرضی کے بغیر نہیں ہوا ہے-

دوسرا واقعہ مسلم لیگ نواز کے آٹھ اور پی پی پی کے ایک رکن سمیت پنجاب اسمبلی کے 9 اراکین کی چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات اور باہم ملکر چلنے کے فیصلے کا ہے- اس تعداد میں اور اضافہ ہوگا- مسلم لیگ نواز کے پنجاب اسمبلی میں کئی اور اراکین مسلم لیگ کے فارورڈ بلاک کا حصّہ بن جائیں گے- یہ ایک طرح سے وہی پریکٹس ہے جو شہباز شریف نے 2008ء کے آغاز اور پھر 2012 تک شروع کیے رکھی تھی جس کے نتیجے میں 60 سے زائد قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کی وفاداریاں تبدیل کراکر ان کو نواز ليگ میں شامل کیا گیا تھا-

مسلم لیگ نواز اسٹبلشمنٹ کو تسخیر کرنے کے نواز-مریم پروجیکٹ کےبیک فائر کرنے کے بعد اسٹبلشمنٹ کے لیے قابل قبول بننے اور فوجی قیادت کی نظر میں سرخرو ہونے کے لیے واپسی کے سفر پر گامزن ہے- خاص طور پر یہ پنجاب میں سنٹر رائٹ پوزیشن کے ساتھ واپس آنے کی کوشش کررہی ہے- پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس نے کئی ایک ایشوز پر رائٹ ونگ پوزیشن لی ہے- عورت مارچ پر اس کے پارلیمنٹ میں موجود اراکین نے فار رائٹ کو سپورٹ کیا ہے- ایسے ہی یہ پہلے دن سے پی ٹی ایم سے فاصلہ بنائے ہوئے ہے-

مسلم لیگ نواز کی سنٹر رائٹ سیاست کی طرف واپسی کے سفر کو پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی محسوس کرلیا ہے اور اسی لیے ان کی نواز لیگ پر تنقید بھی بڑھتی جارہی ہے- انہوں نے شہباز شریف کی فوری وطن واپسی کا مطالبہ پیش کرکے خود نواز ليگ کو حیران کردیا ہے-

وہ نواز لیگ کی سنٹر رائٹ سیاست کی طرف واپسی کو پنجاب میں پی پی پی کی واپسی کے لیے نیک شگون کے طور پر لے رہے ہیں- اس لیے پنجاب میں ان کا قیام بڑھ گیا ہے اور وہ یہاں لبرل اور سنٹر لیفٹ حلقوں کو اپنی حمایت کی طرف متوجہ کررہے ہیں- ان کی جانب سے عورت مارچ کی حمایت، پی ٹی ایم کے مطالبات کی حمایت کے ساتھ پنجاب میں ريگولر ہونے اور بینادی سروس سٹرکچر کی مانگ کرنے والے ملازمین کی حمایت اور نجکاری کی مخالفت کے ساتھ ساتھ پی پی پی کے نعرے سوشلزم کا اعادہ ان کے سیاسی ڈسکورس کی خبر دے رہا ہے-

پاکستان تحریک انصاف کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی اراکین کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ایک طویل اجلاس کیا ہے- اس اجلاس کی روداد سناتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب صوبے کا بل اسمبلی میں لائے گی اور اس کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی جو مسلم ليگ نواز اور پی پی پی کی حمایت سے ممکن ہے- گویا پنجاب کی سیاست میں پی ٹی آئی ایک طرف تو مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی قوت کو پنجاب اسمبلی میں توڑنا چاہتی ہے تو دوسری جانب وہ جنوبی پنجاب صوبہ کے ایشو پر مسلم لیگ نواز کو ٹف ٹائم دیے کر اور کئی ایک اقدامات اٹھاکر کمزور کرنے کی حکمت عملی اپناتی نظر آتی ہے-

مسلم لیگ نواز کے سامنے اس وقت فوری چیلنج تو یہ ہے کہ شہباز شریف ملک واپس آئیں اور اپنی پارلیمانی پارٹی کو ٹوٹ پھوٹ سے بچائیں-


شیئر کریں: