نعرہ “میرا جسم میری مرضی” بیرونی فنڈنگ سے پاکستان آیا

شیئر کریں:

تحریر سعدیہ باجوہ

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے نام پر لگایا جانے والا نعرہ “میرا جسم میری مرضی” اس وقت سب سے زیادہ موضوع بحث بن چکا ہے۔
اس نعرہ کے لئے سب سے اونچی آواز امریکہ میں رہائش پذیر پاکستانی صحافی اور خواتین کے حقوق کی مبینہ سرخیل ماروی سرمد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عورت مارچ کو قدرت کے قہر سے شدید خطرہ

اس نعرہ کی شدت نے حدت اس وقت پکڑی جب نیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں “دو ٹکے کی عورت” جملے کے تخلیق کار مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر اور ماروی سرمد کے درمیان بحث نے بدکلامی کی شکل اختیار کر لی۔

یہ بھی پڑھیں:میرا جسم میری مرضی،عورتوں کے مسائل کا حل یا مسائل میں اضافہ

بات گالم گلوچ تک جا پہنچی، اس وقت سوشل میڈیا میں دو طبقے نبرد آزما ہیں ، ایک ماروی سرمد کا شیدائی ہے اور دوسرا خلیل الرحمان قمر کا متوالا ہے۔
انتہا پسندی کی بلندی پر موجود ان دونوں کو لے دینی اور دنیاوی بحث عروج پر ہے۔
بہت کم ہی لوگ ہوں گے شائد میرا جسم میری مرضی نعرے کے ماخذ کو جانتے ہیں۔
اس نعرے کے پیچھے کون سی شیطانی خواہش اورکوشش چھپی ہوئی ہے؟
حقوق کے نام پر کس چالاکی کے ساتھ عورت کو لب سڑک لا کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔
اب آئیے آپ کو اس شیطانی نعرے کے اصل چہرے سے متعارف کرواتے ہیں۔
ماروی سرمد اور اس جیسی مذہب بیزار عورتیں جس نعرے کو لے کر سڑکوں پر آنا چاہتی ہیں۔دراصل برازیل کی ایک طوائف نے کچھ ایسے بولا، “مجھے اپنے طوائف ہونے پر فخر ہے”
“میرا جسم میری پسند”
اسی جملے کو 80 کی دہائی میں برایل کی وکیل گیبریلا لائٹ نے سیکس ورکر کے حقوق کے نعرے کے طور پر استعمال کیا۔
‏It was originated in Red Light Area of Brazil . The original words of the slogan in Brazilian language .. “Eu sou uma prostituta orgulhosa; meu corpo minhas escolhas” which literally translate, “I am a proud prostitute; my body my choices”. These were made famous by a sex worker rights advocate Gabriela Leite in the late 1980s.
ایشیا میں سب سے پہلے بھارت میں یہ نعرہ لگایا گیا۔
“میرا جسم میری مرضی” اور یوں پاکستان سے زیادہ بھارت کی پرستار ماروی سرمد اینڈ کمپنی نے بیرونی فنڈنگ سے اس نعرہ کو پاکستان میں لگانا شروع کردیا۔


شیئر کریں: