بیمار اور انتہا پسند معاشرہ

شیئر کریں:

تحریر امبرین زمان خان

ماروی سرمد اور خلیل الرحمن قمر کی گفتگو ہمارے بیمار معاشرے کی عکاس ہے۔

آج کل جو بھی اس ایشو پر بات کر رہا ہے اس کے بارے میں فتوی آجاتا ہے اور گالیاں پڑنے لگتی ہیں ،بغیر کسی کو پڑھے سب کو لگتا ہے کہ لکھنے اور بولنے والا ماروی سرمد کے حق میں بول رہا ہے ،کوئی ان پڑھے لکھے جاہلوں کو سمجھائے کہ مکمل پڑھیں تو سہی خیر آزادی اظہار رائے ان کو اسی میں لگتی ہے تو یہ بھی ان کا حق ہے ۔

ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر نے جو بھی اس کی مذمت ضروری ہے دونوں ایک جیسے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان خاموش بیٹھے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا فیض محمد بھی ہمارے بیمار اور مصلحت پسند معاشرے کا حقیقی چہرہ ہیں۔

اور تو اور اینکر کی جانب سے انہیں پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی اپنے پیشے سے غداری کے مترادف ہے۔

ہر شخص اپنا نام بنانے کے لیے جائز طریقے چھوڑ کر ناجائز اور شارٹ کٹ طریقہ کار اختیار کر چکا ہے۔

مزید پڑھیں:حق مہر نہیں دے سکتے تو پھر شادی کیوں کرتے ہو؟

کسی بھی صحت مند معاشرے میں اس قسم کے انسانوں کی کوئی جگہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسے افراد سے بھرا پڑا ہے۔
اسی لیے تو کہہ رہے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم انتہا پسندی اور بیمار ذہن کے مالک ہو چکے ہیں جہاں اختلاف رائے کو فراغ دلی سے جگہ نہیں دی جاتی۔

بڑھتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کے کردار کی وجہ سے پڑھے لکھا انتہا پسندوں کی بھی کی مشروم کی طرح پیدائش ہو چکی ہے۔

کہتے ہیں جو جتنا انتہا پسندی والا کردار ادا کرے گا اس کا اتنا ہی نام اونچا ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ ٹی وی اسکرینز پر آپ دیکھیں جو تجزیہ کار یا نام نہاد پیراشوٹ اینکر جتنی گندی اور تیز آواز میں بات کرے گا اسے لوگ زیادہ دیکھیں گے اور پھر سوشل میڈیا پر بھی پھیلائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:“میرا جسم میری مرضی” حمل گرانے میں اچانک اضافہ

آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں جن کا کبھی کسی نے نام بھی نہیں سنا ہو گا وہ ٹی وی اسکرینز پر بیٹھ کر کس طرح چاپلوسی اور چرب زبان استعمال کر رہے ہیں۔

بیشتر وہ افراد میڈیا پر آن بیٹھے ہیں جو بیکری پر یا کپڑے کی دکان یا مڈل مین کا کردار ادا کیے کرتے تھے اب وہ اینکر اور سینئر ترین تجزیہ کار بن بیٹھے ہیں۔

کچھ ایسے لوگ سوار ہو چکے ہیں اور ان کے ساتھ حقیقی پڑھے لکھے لوگ بھی ہیں بدقسمتی سے وہ اپنی سوچ کو انتہا پر لے گئے ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ دائیں اور بائیں بازو کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔

اگر پڑھے لکھے طبقے کا یہ حال ہے تو ان پڑھ لوگوں سے کیا امید کی جاسکتی ہے؟

مغربی ممالک کی ترقی کی وجہ برداشت ہے جہاں مختلف رائے رکھنے والے لوگ ایک ساتھ اس طرح رہتے ہیں جیسے ایک باغ میں مختلف اقسام کے پھول اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔

کبھی مذہب، کبھی فرقہ بازی، کبھی ذات پات اور اختلاف رائے کو بنیاد بناکر ہم عدم برداشت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

گالم بلوچ تو چھوٹی سی بات ہے ہم تو اپنے مخالفین کو جان سے مار دینے تک پہنچ جاتے ہیں۔

کیا یہ ہماری تربیت میں کمی نہیں کہ پڑھے لکھے لوگ بھی برداشت کا مادہ نہیں رکھتے؟

فقط انتا کہہ سکتے ہیں کہ ہم انتہا پسند اور ذہنی طور پر بیمار لوگ ہیں۔


شیئر کریں: